کرکٹ کے نام پر

کرکٹ کے نام پر
کرکٹ کے نام پر

  

پاکستان کی ٹیم انگلستان کے دورے پر ہے پہلا ٹیسٹ میچ 14جولائی سے ہے۔ یہ اچھا ہوا کہ مقامی آب وہوا سے واقفیت کے لئے ٹیم کو وقت مقررہ سے پہلے ہی وہاں بھیج دیا گیا۔ اب کھلاڑیوں، ٹیم انتظامیہ اور پی سی بی پر انحصار ہے کہ وہ اپنے قیمتی وقت کو کس طرح بڑے ٹور میں کامیابی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ درجہ اوّل کی مد مقابل ٹیموں کے خلاف پریکٹس میچ کھیلے جائیں ۔ غور طلب بات ہے کہ پاکستان کی ٹیم عرصہ دراز کے بعد (تقریباًچھ سال )انگلستان کا دورہ کررہی ہے۔ یہ بھی بد قسمتی ہے کہ پاکستان کو آسٹریلیا کا دورہ کیے ہوئے بھی چھ برس سے زیادہ بیت چکے ہیں۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کا آخری دورہ بھی پانچ برس قبل کیا تھا۔ آسٹریلیا اور انگلستان میں آفریدی، محمد یوسف اور سلمان بٹ کی قیادت میں کپتان سمیت کھلاڑیوں نے جو گل کھلائے اس سے ہماری کرکٹ کی تاریخ مسخ ہے۔

کچھ لوگوں پر باہمی رشتہ داری کی بنیاد پر اظہار یکجہتی کا الزام لگا۔ کچھ نے آسٹریلیا میں جیتا ہوا میچ ہارنے (2009-10ء دوسراٹیسٹ) میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کپتان آفریدی پرگیند کو مُنہ میں چبانے کی پاداش میں دو میچوں کی پابندی لگا دی گئی۔ آسٹریلیا میں 2009-10ء کی سیریز میں دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے حوالے سے محمد آصف نے ایک نوجوان ادا کارہ کو بتایا کہ متذکرہ ٹیسٹ میچ فکس تھا۔ بعد میں یہی الزام انگلستان کے بکی مظہر مجید نے بھی لگایا۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ الزام یافتہ کھلاڑیوں سے بھری پڑی ہے لیکن افسوس ہماری انتظامیہ نے کبھی اس سے سبق حاصل نہیں کیا۔ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے، مگر دورہ انگلستان کا انحصار کافی حد تک فاسٹ باؤلر محمد عامر پر کیا جارہاہے۔ جبکہ دوسرے سرکردہ باؤلر وہاب ریاض ہیں، جنہوں نے مدتوں پہلے کوئی میچ جیتنے والی پرفارمنس دی تھی ان سے کوئی خاص توقع نہیں ہے۔

انگلستان کے پاس براڈ ،فن ، سٹاک، ووڈ، واکس،معین علی اور عاد ل رشید جیسے باؤلر ہیں۔ بیٹنگ میں ہلز، کوک، روٹ، بریسٹو،نک کامٹن اور بٹلر جیسے مایا ناز بیٹسمین موجود ہیں ۔جبکہ بیٹنگ باؤلنگ کے علاوہ فیلڈنگ، جیت کی لگن اور احساس ذمہ داری جیسے خواص شامل ہیں۔ان شعبوں میں بھی انگلستان کو پاکستان پر برتری حاصل ہے۔ اگرچہ ٹیسٹ کرکٹ میں فی الوقت پاکستان کا عالمی درجہ بندی میں پہلی پانچ ٹیموں میں شمار ہورہا ہے تاہم ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں پست ترین مقام پر ہیں۔ اس کی وجہ سے دستیاب کھلاڑیوں کا تربیت سازی کے سلسلے میں کلب اور ریجن کی سطح پر ناقص کردارسازی اور بدترین کلچر کے ذریعے ابھر کر سامنے آنا ہے۔ نوجوان محض جسمانی صلاحیت کی بنیاد پر اوسط درجہ کی پرفارمنس دے کر قومی ٹیم کا حصہ بن رہے ہیں۔ یہ کرکٹرز پہلے سے مخصوص حالات سے گزر کر کرکٹ بورڈ کے سپرد کردیئے جاتے ہیں۔

کرکٹ بورڈ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ایسے لوگوں کی کثرت ہے جو نام نہاد کرکٹ سے عشق اس کے گلیمر اور پیسے کی ریل پیل سے مستفید ہونے کیلئے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ میں سیٹھی صاحب کے علم وفضل اور خاندانی پس منظر سے کسی حد تک واقف ہوں اس اہلیت کی بنیاد پر وہ ایک بہترین انسان ہوں گے، مگرکرکٹ بورڈ میں اہم عہدے پر فائز ہونے کے لئے جس ماہرانہ اہلیت اور پس منظر کا حامل ہونا ضروری ہے وہ اس سے خالی ہیں۔ چیئرمین صاحب کے بارے میں گزشتہ کالم میں تحریر کر چکا ہوں کہ ہماری کرکٹ اور اس سے منسلک قباحتوں کے حل کے لئے اکیلے برگزیدہ شہریار کافی نہیں۔ کرکٹ بورڈ کا کردار ہماری قومی کرکٹ میں مرکزی اہمیت کا حامل رہاہے۔ بورڈ سے منسلک لاہور اور کراچی سمیت کسی بھی ریجن کی کارکردگی انفراسٹرکچر اور سلیکشن کے حوالے سے کارکردگی کو تسلی بخش نہیں کہا جاسکتا۔ ان حالات میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی اہمیت بے پناہ بڑھ گئی ہے۔

افسوس کہ لاہور میں رہتے ہوئے بھی اکیڈمی کی سرگرمیوں کے حوالے سے مجھ سمیت عام خواص کو کچھ علم نہیں اب وقت آن پہنچا ہے کہ پی سی بی ٹی وی پروگراموں پر اپنے اوپر لامتناہی لعن طعن سننے کی بجائے اپنے سرکردہ عہدیداروں کے ذریعے ایسی حکمتِ عملی وضع کرے جو کرکٹرز کو جنگی بنیادوں پر ٹریننگ کا بندوبست کرے۔ احمد شہزاد اور عمر اکمل قابلِ قدر جوہر کے حامل ہیں۔ان کرکٹرز کو دوبارہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بھیجا جائے ان کے حالیہ خراب ریکارڈ رسوائے زمانہ الزامات اور ویڈیو دکھا کر ان کی کونسلنگ کی جائے اور قدآور شخصیات کے ذریعے ان کو موضوعاتی لیکچر دیئے جائیں تو شائد چند برسوں میں ہماری کرکٹ کے حالات بہتر ہوجائیں۔

مزید :

کالم -