بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی تعلقات اور پاکستان

بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی تعلقات اور پاکستان
 بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی تعلقات اور پاکستان

  

اقتصادی تبدیلیوں کا عمل دُنیا بھر میں بہت تیز ہو چکا ہے اور یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں پر ان تبدیلیوں پر نظر رکھنے والی ایک مضبوط معاشی ٹیم وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں موجود ہے، حال ہی میں ایک طرف تو پاکستان نے بہت سی اقتصادی کامیابیاں حاصل کی ہیں تو دوسری طرف برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی نے بھی کچھ مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمیں افتخار علی ملک نے عالمی بدلتے ہوئے اقتصادی حالات کا جائزہ تفصیل سے لیا ہے اور اس کے پاکستان پر منفی اور مثبت نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا۔ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے۔ حالات تیزی سے پاکستان کے حق میں جا رہے ہیں، حال ہی میں پاکستان کوIMF نے50کروڑ ڈالر سے زیادہ کی قسط بھی دے دی ہے اس کے علاوہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے بھی 300 ملین یورو اصلاحات کے لئے دیئے ہیں تاکہ پاکستانی حکومت کا سسٹم ترقی یافتہ ممالک کے برابر لایا جا سکے۔ ان کے علاوہ بھی مختلف عالمی ادارے پاکستان کو فنڈز فراہم کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت ممکن ہے کہ پاکستان کے نئے مالی سال سے ایک روز پہلے ہی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 23 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ جائیں۔ یہ مقام پاکستان کی موجودہ قیادت نے بزنس کمیونٹی کو ساتھ ملا کر دیکھا ہے۔ پہلے حکومتیں سولو فلائٹ کرتی تھیں جس کی وجہ سے سٹیک ہولڈرز پیچھے رہ جاتے تھے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سب سے اچھا کام یہی کیا ہے کہ نئے ٹیکس لگانے اور ایکسپورٹ انڈسٹری کو مراعات اور سہولتیں دینے کے لئے ان کے نمائندوں کو مکمل اعتماد میں لیا ہے۔ اِسی اعتماد کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کی معیشت مستحکم تر ہوتی جا رہی ہے، کل ایک خواب لگتا تھا جب عالمی ادارے پاکستان کی معیشت کو منفی سطح پر رکھتے تھے۔ اب پاکستان ان خراب معاشی حالات سے نکل چکا ہے، لیکن اب وقت ہے کہ پاکستان کی معیشت کو تیزی سے ٹیک آف کی پوزیشن پر لایا جائے۔ پاکستان کے معاشی مسائل اب اتنے گھمبیر نہیں رہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کے بعد برطانیہ کی منفی حیثیت کے اثرات پاکستان پر مرتب ہوں۔

اقتصادی طور پر دُنیا ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے اس لئے ہمیں عالمی اقتصادی حالات کے نشیب و فراز پر پوری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین نے پاکستان کو ٹیکسٹائل کے شعبہ میں بہت سی سہولتیں فراہم کی ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ برطانیہ بھی پہلے یورپی یونین کا حصہ تھا تو اِس لئے برطانیہ کے ساتھ تجارت میں ہمیں یہ سہولتیں خودبخود حاصل تھیں، لیکن اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یورپی یونین کی سربراہی کانفرنس میں یورپی یونین نے برطانیہ کو تین ماہ کا وقت کیمرون کے کہنے پر دے دیا ہے۔ یہ وقفہ پاکستان کے لئے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت یورپی یونین کی ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ ہی سے 20فیصد حصہ برطانیہ خریدتا تھا۔ یقیناًبرطانیہ اور پاکستان کے باہمی تجارتی تعلقات یورپی یونین کی تشکیل سے پہلے بھی مضبوط تھے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر اس طرف خصوصی توجہ دیں اور برطانیہ کے ساتھ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی طرف سے نیا سمجھوتہ کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر بیدار مغز اور روشن خیال وزیر ہیں اور ان کی پوری نظر ہے کہ کہیں بدلتے ہوئے اقتصادی تناظر میں پاکستانی معیشت کو نقصان نہ پہنچ جائے اس لئے انہوں نے زوردیا ہے کہ پاکستان حکومتی سطح پر یورپی یونین سے اپنے تجارتی تعلقات مزید مستحکم کرے گا۔

پاکستان بہت جلد آئی ایم ایف کے پروگرام سے بھی باہر نکل رہا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر مزید خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ ہمیں قرضوں کی بھاری قسطوں سے نجات مل جائے گی اور دوسری طرف ہمیں جو فیصلے جبراً برداشت کرنے پڑتے تھے وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔

اب وقت ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اوورسیز پاکستانی صنعتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے اور ان کی سرمایہ کاری کے لئے ایک نیا منصوبہ پیش کریں جس کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کو صنعتیں لگانے کے لئے انفراسٹرکچر حکومت اپنے خرچے پر بنا کر دے اور پانچ سال کے بعد زمین اور انفراسٹرکچر کی قیمت قسطوں میں وصول کرنی شروع کر دے۔ اس وقت خوش قسمتی سے چین کا نیا بنک اور امریکہ کا ایک بینک انفراسٹرکچر کی قیمت کے لئے بھاری قرضے پاکستان کو جاری کر سکتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مالیاتی اداروں سے بھرپور فائدے اُٹھانے کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کے ساتھ بھی مشترکہ اقتصادی منصوبے شروع کئے جائیں جن سے پاکستان میں خوشحالی آئے اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو جائے۔

مزید : کالم