قائمہ کمیٹی اطلاعات کا ماہ مقدس میں پیمرا کے ضابطہ اخلاق پر عدم عملدرآمد پر اظہار برہمی

قائمہ کمیٹی اطلاعات کا ماہ مقدس میں پیمرا کے ضابطہ اخلاق پر عدم عملدرآمد پر ...

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات نے رمضان المبارک کے پروگراموں میں پیمرا کے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر نے والے چینل کو 3دفعہ شوکاز نوٹس بھجوائیں اس کے باوجود چینل ضابطہ اخلاق کی پاسدار ی نہ کرے تو چوتھی بار نوٹس بھیجنے کی بجائے چینل بندکر دیں،کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ خلاف ورزی پر پروگرام بند کریں اگرچینل حکم امتناعی لے آئے تو پھر بند کر دیں،سٹیٹ کے اندر سٹیٹ ہم نہیں چلنے دیں گے،رمضان میں شیطان کو بند ہی رکھیں، حمزہ علی عباسی پر ہر قسم کے پروگرام کی پابندی لگا دیں ، چیئر مین پیمرا ابصار عالم کا کہنا تھا کہ رمضان ٹرانسمیشن دین کی خدمت نہیں ،ساری کمرشل کی جنگ ہے،ہم خلا ف ورزی کرنے پر پروگرامز بند یا نوٹس جاری کر تے ہیں ،چینل عدالت سے حکم امتناعی لے آتے ہیں، ایسی صورتحال میں ہم کیا کریں؟کمیٹی نے پیمرا کو ہدایت کی کہ وہ 15دن کے اند ر تمثیل کاری میں ترامیم کی تجاویز دے ۔جمعرات کوکمیٹی کا اجلاس سینٹر کامل علی آغا کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں کمیٹی ممبران کے علاوہ سیر ٹری اطلاعات عمران گردیزی،چیئر مین پیمرا ابصار علام و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔ چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے رمضان المبارک میں ٹی وی پروگراموں پر بریفنگ دی،ابصار عالم کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے پروگراموں کے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے چارمئی کو نوٹس بھجوایا،اردو ون، آج ٹی وی، ٹی وی ون اور جیو کے پروگرام انعام گھر پر پابندی عائد کی،ابصار عالم کا مزید کہنا تھا کہ پیمرا قوانین کے تحت تمام ٹی وی چینلز میں ایڈیٹوریل کمیٹی لازمی ھے، کمیٹی ہے سب کی لیکن موثر نہیں، اراکین کمیٹی کا کہنا تھا کہ پیمرا کا لیگل ڈیپارٹمنٹ بہت کمزور ھے، چیئرمین پیمراکا کہنا تھا کہ میرے خیال میں یہ ساری کمرشل جنگ ھے،دین کی خدمت نہیں،حمزہ علی عباسی کو مکمل بین کرنا چاہیئے، کمرشل میں بھی پابندی عائد کریں، سینٹرنہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ حمزہ علی عباسی جیسا آدمی دین کے ساتھ ایسا کھلواڑ کرے، اسے ماڈلنگ سے بھی روک دیا جائے جس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ پروگرام بند کرنے سے زیادہ اختیار نہیں، چیئرمین پیمرا نے بتایا کہ 14 جون کو جیو انٹرٹینمنٹ نے اپنے پروگرام انعام گھر میں ایسے مناظر دیکھائے جن پر پابندی تھی، انعام گھر رمضان کی نشریات میں شامل نہیں، لیکن لوگوں نے اس کو لنک کیا، خودکشی کے مناظر دکھائے، خود کہہ رہے تھے کہ یہ دکھائے نہیں جا سکتے،چیئرمین کمیٹی کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ وہ غریب چینل تھے اس لیے بند کر دیا، یہ امیر چینل ھے اس لیے اس کو بند نہیں کیا، چیئرمین پیمرا نے کہا کہ 900 سے زائد شکایات کا پلندہ جیو کے مانگنے پر دیا،کامل علی آغا نے کہا کہ وہ حاضر بھی نہیں ہو رہے، ان کو چوائس بھی دی گئی، سینٹر سعید غنی کا کہنا تھا کہ کیا ضروری ھے کہ شکایات موصول ہوں تو پیمرا کارروائی کرے گا،چیئرمین پیمرا کا مزید کہناتھا کہ تمثیل کاری پر سما ٹی وی کو نوٹس کیا،لیکن عدالت نے 29 جون کو حکم امتناعی دے دیا،عامر لیاقت انڈین گانوں پر بھنگڑا کرتے ہیں،پاک فوج کی وردی پہن کر پرومو بنوائے، سندھ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ عامر لیاقت بین الاقوامی اسلامی سکالر ہیں، لیکن اب ایسی صورتحال میں ہم کیا کریں،سینٹر نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ سٹیٹ کے اندر سٹیٹ ہم نہیں چلنے دیں گے، آپ دوبارہ بند کریں اگر حکم امتناعی لیں آپ پھر بند کر دیں،رمضان میں شیطان کو بند ہی رکھیں، عدالتیں ریاست سے بالاتر نہیں۔ چیئرمین پیمرا نے کہا کہ عامر لیاقت کے پروگرام کو بند کرنے پر 96فیصد لوگوں نے ستائش کی ۔

مزید : علاقائی