مدارس کی حکومتی امداد

مدارس کی حکومتی امداد
 مدارس کی حکومتی امداد

  

ہر سو شور اٹھا ہے کہ عمران خان نے صوبہ خیبر پختون خوا میں ایک مدرسے کو سالانہ بجٹ میں سرکاری امداد کا اعلان کیوں کرا دیا۔ مولانا سمیع الحق کے حوالے سے لوگ بہت سارے وہ بیانات سامنے لے آئے ہیں جن میں مولانا نے حصول ستائش کے لئے اعتراف کیا ہے کہ طالبان کی اکثریت ان کے مدرسے سے تعلیم یافتہ ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی سال سے جس قسم کے دل گرفتہ حالات سے دوچار ہے، اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ طا لبان پر بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اس ملک میں وہ کچھ ہو چکا جس کا دنیا کے بیشتر ممالک کو اندازہ ہی نہیں۔ لیکن اس کی بنا پر معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیا جائے۔ کیا کسی مدرسے سے تعلیم حاصل کرنا جرم ہے۔ جرم تو جب ہوا جب طالبان کے ایک گروہ نے انسانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ طالبان کا خواہ ایک مخصوص گروہ ہی اس کا ذمہ دار تھا لیکن تمام طالبان ہی مورد الزام ٹہرائے گئے۔ مدرسوں سے تعلیم یافتہ لوگوں نے جب ایسی کارروائیاں انجام دیں تو پورا معاشرہ چیخ اٹھا۔ سرکاری طور پر جب ایسے عناصر کی سرکوبی کے اقدامات کئے گئے تو ان کی حمایت میں کوئی آواز نہیں اٹھی۔ کیا انگریزی تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ لوگ جرم نہیں کرتے ہیں، پاکستان میں کرپشن کا جو پہاڑ کھڑا ہوا ہے کیا اس میں ان تعلیم یافتہ لوگوں کا کردار نہیں ہے؟

پاکستان میں مدارس اور مساجد کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا گیا۔ انہیں ہاتھ پھیلانے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔ جب آپ انہیں کچھ دے نہیں سکتے تو وہ زندہ رہنے کے لئے کچھ تو کریں گے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت مدرسوں کے خلاف جہاں بھی کارروائیاں کی گئیں اور انہیں سر بمہر بھی کیا گیا تو کسی نے آواز نہیں اٹھائی کہ کسی بھی کارروائی سے قبل ضروری ہوتا ہے کہ تفصیلات جمع کر لی جا ئیں ، دیکھ لیا جائے کہ کس مدرسے میں کیا ہو رہا ہے۔ پولس نے کارروائی کی جو اس کا اپنا طریقہ کار ہے۔ ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانک دیا گیا۔ ہانکنے کے بعد اعلان کیا گیا کہ مدارس جواب دیں کہ ان کی آمدنی کے ذرائع کیا ہیں، وہ اپنی آمدنی کا آڈٹ بھی کراتے ہیں یا نہیں۔ عجیب منطق ہے۔ وہ مدارس جو چندے جمع کرتے ہیں، کیوں کر ہر چندے کی رسید جاری کر سکیں گے۔ مدارس کے انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لینا اس لئے ضروری ہے کہ وہاں جو بچے تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخل کرائے جاتے ہیں، ان کے کوائف کیا ہیں۔ ان کے والدین نے کسی بھی مدرسے میں اپنے بچے کو داخل کرانے کی ترجیح کیوں دی۔ وہ والدین کسی سرکاری اسکول میں کیوں نہیں گئے۔ نجی اسکولوں کی طرف تو جانے کا وہ والدین جو وسائل سے محروم ہیں سوچ بھی کیوں سکتے ہیں۔ عمران خان کی تحریک انصاف کی صوبہ خیبر پختون خوا میں حکومت نے کار خیر سر انجام دیا ہے۔ ان کے قلابے طالبان سے براہ راست جوڑنے کی کیا ضرورت پیش آگئی؟ سیاست اور سیاسی مقاصد آڑے آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو اس ملک میں زندہ رہنے کا حق ہی حاصل نہیں ہے۔ اگر کوئی مائنڈ سیٹ ان کے خلاف ہے تو طالبان کا بھی تو مائنڈ سیٹ ہے جو ان کے مخالفین کے خلاف ہے۔ وہ مائنڈ سیٹ ہی تو ایک دوسرے کو وہاں تک لے گیا جہاں جانے کا تصور بھی محال تھا۔ کیا کوئی ریاست معاشرے میں اس طرح کے اختلافات کے نتیجے میں سکوں سے قائم رہ سکتی ہے؟

محکمہ اوقاف کے قیام کے بعد صرف ان درگاہوں پر توجہ دی گئی جہاں محسوس کیا گیا کہ آمدنی ہوتی ہے۔ زائرین کی طرف سے بھری جانے والی چندوں کی پیٹیاں انگریزی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے سرکاری افسران کو قبول تھیں لیکن کسی نے بھی مساجد اور مدرسوں کی طرف توجہ دینا گوارہ نہیں کیا۔ پورے ملک میں گھوم کر جائزہ لے لیں، مساجد بڑی ہوں یا چھوٹی، مدرسے بڑے ہوں یا چھوٹے، چندوں سے چل رہے ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے چندے دہشت گردی کی کارروائیوں میں کام آتے ہیں۔ حکام کے اس دعوی کو چیلنج تو نہیں کیا جا سکتا لیکن حکام کو چاہئے کہ یہ تو بتائیں کہ ان کی اطلاعات کے ثبوت کیا ہیں؟ سیاسی جماعتیں ہوں یا حکومت ، انہیں مدرسوں اور مساجد کے بارے میں اپنے خیالات ، طریقہ کار اور رویہ کو درست کرنا چاہئے۔ مدرسوں میں بھی پاکستانی انسانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انہیں جو بھی تعلیم فراہم کی جارہی ہے وہ حاصل کر رہے ہیں۔ اگر ان کی تعلیم میں خامی یا سقم موجود ہیں تو اس کی ذمہ داری تو حکومتوں پر عائد ہوتی ہے ۔ اس خرابی کا سد باب کیوں کر یہ ہو سکتا ہے کہ ان سے زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیا جائے یا انہیں اس قدر مجبور کر دیا جائے کہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے افراد کی عزت نفس ہی کچل دی جائے۔ ذرا ان افراد میں گھل مل کر دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ تو احساس کمتری کا بری طرح شکار ہیں۔ اس احساس کمتری کو دور کرنے کے لئے اقدامات کبھی نہیں کئے گئے۔ اگر یہ مدارس نہ ہوں تو ملک میں قائم مساجد میں امامت کرانے والے آئمہ حضرات ہی نہیں ملیں گے۔ کسی بھی حکومت نے قوم کو اس قابل ہی نہیں کیا کہ اسلامی شعائر کے تقاضوں کے تحت قوم کا ہر بالغ شخص امامت کرنے کا اہل ہوتا۔ یہاں تو روز اول سے ہی بعض حلقوں نے مختلف طریقوں سے مدرسوں ، دینی تعلیم، سے اپنی مخاصمت کا بر ملا اظہار کیا۔ تضحیک ہی کو فوقیت دی گئی۔ پاکستان میں مذہب کا نام استعمال کر کے سیاسی تحریکوں کو پروان چڑہایا گیا کیوں کہ اس سے سیاسی مفاد وابستہ تھے ۔ ان سے کب کب کس کس نے فائدہ اٹھایا ، طویل کہانی ہے ۔ بات یہ ہے کہ پاکستان میں کسی حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ حکمرانی کی ہی نہیں، سب نے وقت گزارو کے اصول کو اپنایا جس کی وجہ سے ہم موجودہ صورت حال کا شکار ہیں۔ مدارس اور مساجد کے بارے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنا رویہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور ایک ایسا نظام مرتب کرنا بھی وقت کا تقاضا ہے جس کے تحت تمام مساجد اور مدرسوں کو کی ان کی صوبائی حکومتیں سالانہ مالی امداد فراہم کریں تاکہ وہ اپنی ضرورتوں کے لئے عام لوگوں سے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہوا کریں۔ کماؤ اور کھاؤ اصول کا نتیجہ افسوس ناک ہی رہا ہے سو اس سے دست بردار ہونا ہی عافیت ہے۔

مزید : کالم