تیسری عالمی جنگ کا آغاز ?روس نے اپنی فوجیں ایسی جگہ پہنچادیں کہ مغربی ممالک سے تصادم کا بڑا خطرہ پیدا ہوگیا، دونوں جانب تیاریاں زور پکڑگئیں

تیسری عالمی جنگ کا آغاز ?روس نے اپنی فوجیں ایسی جگہ پہنچادیں کہ مغربی ممالک ...
تیسری عالمی جنگ کا آغاز ?روس نے اپنی فوجیں ایسی جگہ پہنچادیں کہ مغربی ممالک سے تصادم کا بڑا خطرہ پیدا ہوگیا، دونوں جانب تیاریاں زور پکڑگئیں

  

ماسکو (نیوز ڈیسک) نیٹو ممالک کی طرف سے مشرقی یورپ کی سرحدوں پر فوجیں جمع کرنے اور مکمل تیاری کے ساتھ جنگی مشقیں کرنے کا بالآخر وہ نتیجہ سامنے آ گیا ہے جس کے خوف میں دنیا مبتلاءتھی اور جو تباہ کن عالمی جنگ کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کا ڈرامہ ختم ہونا چاہیے : پیوٹن

اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادیوں کی اشتعال انگیز کاروائیوں کے بعد اب روس نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنی فوجیں سرحد پر جمع کرنا شروع کر دی ہیں اور تیسری عالمی جنگ کا خطرہ حقیقت بنتا نظر آ رہا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے اس کی سرحدوں پر ہزاروں کی تعداد میں افواج تعینات کرنے کے بعد ردعمل مجبوری بن گیا ہے۔

روسی وزیر دفاع سرگی شوئگو نے ایک بیان میں کہا کہ روس کی سرحد پر نیٹو کی افواج دو گنا سے بھی زائد ہوگئی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہر ممکنہ خطرے کو ختم کرنے کے لئے روس ایکشن لے گا۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے مزید واضح الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ روس کسی بھی اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی سپرپاور افواج کو ایک بھاری دلیل میں بدل دے گا۔ انہوں نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا کہ روسی بری افواج اور بحریہ اپنی مادر وطن اور اس کے لوگوں کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔ روسی صدر کی طرف سے مغرب کو پہلے ہی یہ وارننگ دی جاچکی ہے کہ دنیا ایک اور سردجنگ کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ کینیڈا کی انٹیلی جنس ایجنسیاں یہ رپورٹ دے چکی ہیں کہ روس جنگ کی تیاری کررہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی دفاعی ذرائع پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ 2017ءمیں دنیا کو ایک اور عالمی جنگ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جبکہ امریکی دفاعی ماہرین یہ خدشہ بھی ظاہر کرچکے ہیں کہ روس کی فوجی طاقت کے سامنے نیٹو کی متحدہ افواج تین دن بھی نہیں ٹھہر سکیں گی۔

مزید : بین الاقوامی