مَردوں کی تنہائی کا شرمناک ترین ’علاج‘ متعارف کروادیا گیا

مَردوں کی تنہائی کا شرمناک ترین ’علاج‘ متعارف کروادیا گیا
مَردوں کی تنہائی کا شرمناک ترین ’علاج‘ متعارف کروادیا گیا

  

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان میں آبادی کا تناسب اس قدر بگڑ چکا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک جاپانی مرد 50سال کی عمر تک شادی نہیں کر پاتا۔ ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آئندہ 20سالوں تک یہ صورتحال انتہائی سنگین ہو جائے گی، مگر جاپانیوں نے اس مسئلے کا کوئی درست حل نکالنے کی بجائے مردوں کی تنہائی کا ایک انتہائی شرمناک علاج متعارف کروا دیا ہے۔ برطانوی اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق جاپان میں ایک ایسا زنانہ روبوٹ بنا دیا گیا ہے جو جنسی افعال سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ دیکھنے اور چھونے میں بالکل انسانوں کی طرح لگتا ہے۔ اس کی جلد اور آنکھیں بھی بالکل اصلی معلوم ہوتی ہیں۔یہ روبوٹ اورینٹ کمپنی نے بنایا ہے۔

جاپانی شہری ہنی مون پر اپنی بیگم کی بجائے ایسی چیز کو لے گیا کہ دیکھ کر دنیا ہنس ہنس کر پاگل ہوگئی

کمپنی کا کہنا ہے کہ ”ہم نے یہ نئی جنسی گڑیا اعلیٰ معیار کے سیلیکون سے بنائی ہیں اور یہ دیکھنے میں اتنی اصلی معلوم ہوتی ہیں کہ ان پر جیتی جاگتی عورت کا گمان ہوتا ہے۔یہ اتنی خوبصورت ہیں کہ جو شخص ایک بار یہ خرید لے گا اس کے دل میں کبھی بھی کسی لڑکی سے دوستی کی خواہش پیدا نہیں ہو گی۔“

رپورٹ کے مطابق ان گڑیوں کا نام ”ڈچ وائیوز“ (Dutch Wives) رکھا گیا ہے۔ جاپان میں یہ لفظ جنسی گڑیا کے لیے بطور اصطلاح استعمال کیا جاتا ہے۔اس گڑیا کی قیمت 1ہزار پاﺅنڈ (تقریباً1لاکھ 39ہزار روپے) ہے اور ان کی فروخت سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ جاپانیوں میں یہ بہت پسند کی جا رہی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس