قندیل بلوچ نے میر ی ٹوپی خیر و برکت کے لیے پہنی تھی :مفتی عبد القوی

قندیل بلوچ نے میر ی ٹوپی خیر و برکت کے لیے پہنی تھی :مفتی عبد القوی
قندیل بلوچ نے میر ی ٹوپی خیر و برکت کے لیے پہنی تھی :مفتی عبد القوی

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )مفتی عبد القوی نے کہا ہے کہ قندیل بلوچ کے سر پر دوپٹہ نہیں تھا اس لیے اس نے میری ٹوپی خیر و برکت کے لیے پہنی تھی ۔ان کا کہنا ہے کہ جب قندیل بلوچ میرے پاس تشریف لائیںاس وقت وہاں سات لوگ موجود تھے جس کے بعد انہوں نے مجھ سے ساتھ ،آٹھ منٹ اکیلے میں ملاقات کی ۔

نجی نیوز چینل نیو نیوز کے پروگرام”لائیو ود نصر اللہ ملک “میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبد القوی نے کہا کہ میرا تعلق مشائخ کے خاندان سے ہے ،درس نظامی میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب میں نے لکھی اور جس سلسلے سے میرا تعلق ہے اس میں گناہ سے نفرت کی جاتی ہے گنہگار سے نہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب قندیل بلوچ میرے پاس تشریف لائیں اس وقت وہاں سات لوگ موجود تھے ۔اس کے بعد قندیل بلوچ نے اکیلے میں گفتگو کے لیے وقت مانگا جس پر ہم نے ساتھ یا آٹھ منٹ اکیلے میں بات چیت کی اور اسی دوران قندیل بلوچ نے اپنی تمام کارروائی مکمل کی۔انہوں نے کہا کہ قندیل بلوچ نے ملاقات میں پوچھا کہ میر ے پر نظر بد کا آثار تو نہیں ہے جس پر انہیں کچھ پڑھنے کے لیے دیا اس کے بعد قندیل بلوچ نے عمران خان سے ملاقات کے لیے سفارش کرنے کو کہا ۔

پھر قندیل بلوچ نے پردے بند کیے اور ویڈ یو بنانے لگی ۔ان کا کہنا تھا کہ گرمی کی وجہ سے میں اپنی ٹوپی ہر وقت نہیں پہن سکتا ،اسی لیے کمرے میں ٹوپی اتار دی تھی تو قندیل بلوچ نے ٹوپی پہن لی اور کہا کہ میرے سر پر دوپٹہ نہیں ہے اس لیے آپ کی ٹوپی پہن رہی ہوں تاکہ خیر و برکت کا باعث بنے ۔انہوں نے کہا کہ اخلاقیات کی مد نظر رکھتے ہوئے قندیل بلوچ کو ٹوپی پہننے سے نہیں روکا ،میری نیت قندیل کی خیر خواہی تھی اس لیے اس پرکسی قسم کی قدغن نہیں لگائی ۔انہوں نے کہا کہ قندیل مجھ سے دعائیں لیتے ہوئے رخصت ہوئی لیکن دو گھنٹے بعد ہی ایسی باتیں شروع کردیں جن کی توقع نہیں تھی ۔

مزید : قومی