بھار ت میں زور پکڑتی علیحدگی کی تحریکیں

بھار ت میں زور پکڑتی علیحدگی کی تحریکیں
 بھار ت میں زور پکڑتی علیحدگی کی تحریکیں

  



سیکولر ریاست بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں، پورا بھارت ہی مذہبی، لسانی اور معاشرتی تعصبات اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔ کشمیر کے علاوہ مشرقی پنجاب (خالصتان ) تامل ناڈو، آسام، ناگالینڈ، تری پورہ، منی پور، شمال مشرقی بھارت سمیت کئی ریاستوں میں بھی علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ بھارت کالے قوانین اور قوت کے بے محابا استعمال کی وجہ سے علیحدگی کی ان تحریکوں کو دبائے رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے، مگر وہ کب تک ایسا کرسکے گا؟ بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر دارجیلنگ میں علیحدگی کی تحریک زور پکڑ گئی۔ بچے گلے میں زنجیر ڈال کر بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ دارجیلنگ میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ 2 ہفتوں سے جاری ہے۔ دارجیلنگ کے شہری الگ وطن گورکھالینڈ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

شہر میں مکمل ہڑتال ہے۔ تمام سکول وبازار بند اور دیگر کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہیں۔مودی سرکار نے علیحدگی کی تحریک کو دبانے کے لئے انٹرنیٹ کی سہولت معطل کررکھی ہے۔ دارجیلنگ میں علیحدگی پسند رہنما گورکھا جانموتی مورچا کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت تشدد سے باز نہیں آئے گی، کسی قسم کے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ پر مسلمانوں کی حمایت کے الزام کے بعد بی جے پی رکن اسمبلی نے ان کے سر کی قیمت لگادی ۔ ممتا بینر جی پر الزام عائد کیا کہ وہ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی حمایت کرتی ہیں اور ہندوؤں کو ان کے مذہبی تہوار منانے کی اجازت نہیں دیتیں، جس پر انہوں نے بنگال کی وزیراعلیٰ کا سر قلم کرنے والے شخص کو 11 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔

مودی سرکار کے انوکھے اقدام نے اپنے ہی ملک میں جمہوریت کے لئے خطرات پیدا کردئیے ۔مرکزی حکومت نے سیاسی چپقلش کے باعث مغربی بنگال میں ریاستی حکومت کو اطلاع دیئے بغیر کئی علاقوں میں فوج تعینات کردی، جس کے خلاف مغربی بنگال میں شدید مظاہرے شروع ہوگئے ہیں، جبکہ بھارتی راجیہ سبھا میں بھی فوج کی تعیناتی کے معاملے پراپوزیشن اراکین نے حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ بھارت سے علیحدگی یا آزادی کی کوئی بھی تحریک سر اٹھاتی ہے تو بھارتی فوج تمام جائز و ناجائز ذرائع اور ظلم و جبر کے تمام حربے استعمال کرتے ہوئے اسے کچل دیتی ہے۔ لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے، ان کی جائیداد و املاک نذر آتش کردی جاتی ہیں، خواتین کی عصمتیں پامال کرنے میں کوئی شرم اور جھجھک محسوس نہیں کی جاتی، نوجوانوں کو گرفتار کرکے بغیر مقدمہ چلائے جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈال دیاجاتا ہے، جہاں سے اکثر کبھی واپس نہیں آتے۔ اس سب کا مظاہرہ اکثر مقبوضہ کشمیر میں سامنے آتا ہے۔

1970ء میں بھارتی پنجاب میں سکھوں نے اکالی دل کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، جس کا مقصد سکھوں کے حقوق کی پاس داری تھا۔ تنظیم کے تحت مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملک میں سکھوں کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کو ختم کرے اور انہیں تمام شعبوں میں ہندو اکثریت کے مساوی حقوق دیئے جائیں، تاہم بھارت کی اس عرصے میں بننے والی کسی بھی حکومت نے سکھوں کے ان جائز مطالبات پر کان نہیں دھرا اور نسلی و مذہبی تعصب کی بنا پر امتیازی سلوک اور زیادتیاں جاری رکھیں۔ سکھوں نے ہندو حکمرانوں کے رویے سے مایوس، مگر حکومت کی جانب سے اس مطالبے کے جواب میں قیادت اور کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کردی گئیں۔ ان پر اور ان کے حامیوں اور ہم دردوں پر عرصہ حیات تنگ کردیاگیا تو سکھوں نے 1980ء میں باقاعدہ مسلح جدوجہد کا آغاز کردیا۔بھارتی حکومت نے سکھوں کی اس تحریک کو کچلنے کے لئے ریاستی طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔ سکھوں کی آبادیوں پر باقاعدہ فوج کشی کروائی گئی۔خالصتان تحریک کے رہنماؤں کے گھروں اور دفتروں پر چھاپے مارے گئے، انہیں پابند سلاسل کیا گیا، ان کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا، لیکن وہ تحریک کا زور نہیں توڑسکی۔ آخر کار 1984ء میں بھارتی فوج نے امرتسر کے گولڈن ٹمپل پر باقاعدہ حملہ کردیا، سکھوں کے اس مقدس مقام کی حرمت جوتوں تلے روند ڈالی گئی۔ اس واقعے کے بعد موقع ملنے پر اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ محافظوں نے قتل کردیا، جس سے صورت حال مزید خراب ہوگئی۔ حکومت کو بہانہ بھی ہاتھ آگیا اور اس کے حکم پر بھارتی فوج نے بڑا آپریشن کیا اور اکالی دل و خالصتان تحریک کی قیادت کے خلاف بھرپور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے تحریک کو دبادیا،مگر آج بھارت میں اور بھارت کے باہر بھی خالصتان تحریک نہ صرف زندہ ہے، بلکہ وہ بھارتی حکومت کو مشکل میں ڈالے ہوئے ہے۔

بھارتی ریاست آسام میں آزادی کی تحریک 90 کی دہائی میں شروع ہوئی جب ایک مسلح گروہ یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام نے آسام کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ بھارتی حکومت نے اس تنظیم کو فی الفور نہ صرف کالعدم قرار دے دیا، بلکہ اس کے خلاف آرمی آپریشن بھی شروع کردیا گیا جو تاحال جاری ہے۔بھارتی فوج نے خود کو حاصل چنگیز خانی اختیارات کے تحت آسام کے لوگوں پر ظلم و جبر کی انتہا کردی۔ 10 ہزار سے زائد آسامی باشندوں کو قتل کردیاگیا ہے۔ ہزاروں زخمی ہوئے جن میں سے بہت سے زندگی بھر کے لئے معذور ہوگئے ہیں۔ سیکڑوں لاپتہ ہیں۔ علیحدگی کی ایسی ہی تحریکیں ناگالینڈ، منی پور اور تری پورہ میں بھی جاری ہیں اور ان ریاستوں کے باسی بھی بھارت کی حکومتوں کے جانب دارانہ رویوں اور بھارتی فوج کے آپریشن کے نام پر دہشت گردی اور قتل وغارت گری سے سخت نالاں ہیں اور بھارت کے ساتھ مزید رہنے کو تیار نہیں۔ ان کی مشکل و سائل کی کم یابی اور مناسب قیادت کا فقدان ہے، جس دن وسائل اور اچھی قیادت ملی علیحدگی کی تحریکیں پوری توانائی سے شروع ہوجائیں گی اور بھارت کا ان ریاستوں کو اپنے ساتھ رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

مزید : کالم


loading...