شمسی توانائی ۔۔۔لوڈشیڈنگ کا ایک حل

شمسی توانائی ۔۔۔لوڈشیڈنگ کا ایک حل
 شمسی توانائی ۔۔۔لوڈشیڈنگ کا ایک حل

  



روئے زمین پر ہم اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں دیکھتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔دُنیا میں صرف وہی قومیں خوشحال ہوئی ہیں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے فائدہ اٹھایا اور جو ایسا کرنے میں ناکام ہوئے وہ باقی قوموں سے پیچھے رہ گئے۔بدقسمتی سے ہم بھی ان ہی قوموں میں شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازاہے، مگر وہ اپنی نا اہلی کی وجہ سے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ دوسری طرف اگر ہم چینی قوم کی مثال سامنے رکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ان کی بے مثال معاشی ترقی کی وجہ انہی قدرتی وسائل کا مناسب اور بروقت استعمال ہے۔ جب ہم توانائی کے قدرتی وسائل کی بات کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ پاکستان اس خطے میں واقع ہے، جہاں پر توانائی کے تمام ذرائع قدرتی طور پر وافر مقدار میں موجود ہیں۔ پاکستان میں قدرتی گیس اور کوئلے کے وسیع ذخائر دریافت ہو چکے ہیں،لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کا ہمارے پاس کوئی مربوط پروگرام موجود نہیں ہے۔موجودہ حکومت کے دور میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبے ناقابلِ عمل قرار دے کر ختم کئے جا چکے ہیں۔گیس کی مُلک بھر میں لودشیڈنگ ہو رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہم کوئلے سے اگلے پچاس سال تک تقریباً50 ہزار میگاواٹ بجلی پیداکر سکتے ہیں،لیکن ابھی تک یہ بات صرف خیال کی حد تک ہے،اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے ابھی تک کوئی خاص عملی قدم نہیں اٹھایا گیا سوائے چند ایک ناتمام کوششوں کے۔اسی طرح ہمارے ہاں ہوائی چکیوں اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں اور ساتھ ہی ساتھ سمندر کی لہروں سے بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ان اقدامات سے عوام لوڈشیدنگ سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور یہ بات شاید حکومت کو پسند نہیں ہے۔اگر میری یہ بات غلط ہے تو پھر حکومت اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی کام کر رہی ہوتی اور ہاں پن بجلی،اگرحکومت ہمارے مُلک میں نہری اور دریائی نظام سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لے توہم بہت بڑی مقدار میں سستی ترین بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

ہمارے مُلک میں اوسطاً سورج سال بھر میں 13سے14گھنٹے تک پوری آب و تاب سے چمکتا ہے۔اس روشنی کو بھی بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے، جسے شمسی توانائی کا نام دیا جاتا ہے۔دُنیا کے چند ممالک میں اس سے بھرپور استفادہ کیا جا رہا ہے،جن میں بھارت اور چین سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں بھی شمسی توانائی متعارف ہو رہی ہے، جس کو زیادہ تر کاروباری نقطۂ نظر سے فروغ دیا جا رہا ہے۔تاہم بجلی کی کمی کو شمسی توانائی کی مدد سے پورا کرنے کی صرف ایک حکومتی کوشش ہی منظر عام پر آئی ہے،یعنی قائداعظم سولر پارک۔یہ کہنا تو قبل از وقت ہے کہ مستقبل میں اس کے نتائج کس حد تک کامیاب رہتے ہیں تاہم اس کو نقطہۂ آغاز ضرور کہا جا سکتا ہے۔ حکومت نے چند روز قبل قائداعظم سولر پارک کا افتتاح کیا ہے جو کہ بہاولپور کے قریب چولستان کے علاقے میں کیا جائے گا۔ یہ تقریباً 500ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ابتدائی اندازے کے مطابق اس پر تقریباً 30 ارب روپے کی کثیر رقم خرچ ہوئی ہے، جبکہ اس پلانٹ کی استعداد کار 100 میگاواٹ ہے۔اس کام کو سرانجام دینے کے لئے قائداعظم سولر پاور کمپنی بنائی گئی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ یہ دُنیا کا سب سے بڑا فوٹووولٹک منصوبہ ہے۔اس منصوبے کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ یہ ایک سال کی قلیل مدت میں لگایا گیا ہے اور اس سے ماحولیاتی آلودگی بھی نہیں پھیلے گی۔ تکمیل کے بعد اس سے اوسطاً 18 میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے۔یہ منصوبہ حکومت نے بہت جلدی میں شروع کیا ہے اور اس کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ لوڈشیدنگ پر کام ہو رہا ہے، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے،کیونکہ 4000میگاواٹ خسارے میں اگر 100 میگاواٹ شامل بھی کر دئیے جائیں تو یہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بجلی کی پیداوار اتنی نہیں ہوگی جتنا کہ دعوےٰ کیا جا رہا ہے،بلکہ یہ اس کا اوسطاً صرف پانچواں حصہ ہوگی۔

اس پراجیکٹ میں بجلی کو سٹور کرنے کے لئے کوئی بیٹریاں نہیں لگائی جا رہیں،اِس لئے یہ بجلی سیدھی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی۔سولر پینل سے پیدا ہونے والے ڈی سی کرنٹ کو جب اے سی کرنٹ میں تبدیل کیا جاتا ہے تو اس عمل میں 20 فیصد بجلی ضائع ہو جائے گی۔ دوسرے،اس کی پیداوار چوبیس گھنٹے کی بجائے تقریباً 12 گھنٹے کے لئے ہو گی اور گھٹتی بڑھتی رہے گی، یعنی صبح چھ بجے کے قریب چھ میگاواٹ سے شروع ہو کر دوپہر کو 80میگاواٹ تک پہنچ کر کم ہونا شروع ہو جائے گی اور غروب آفتاب تک صفر ہو جائے گی۔اس کی ہفتہ بھر کی اوسط پیداوار 18واٹ بنتی ہے۔مزیدبراں اگر اس پر اٹھنے والی لاگت کی بات کی جائے تو یہ تھرمل پاور سے تقریباًچار گنا مہنگی ہے۔ابتدائی طور پر اس سے 30روپے فی یونٹ کے حساب سے پیداوار حاصل ہو گی۔دس سال میں جب یہ پلانٹ اپنی قیمت پوری کر لے گا تو پھر یہ لاگت کم ہوکرتقریباً8 روپے فی یونٹ پر آجائے گی۔25سال کی اگر اوسط نکالی جائے تو ہمیں 13روپے فی یونٹ میں بجلی حاصل ہو گی جو کہ خاصی مہنگی ہے۔شمسی توانائی کا ہمیں اس وقت صحیح معنوں میں فائدہ ہو گا جب اس کے چھوٹے یونٹس کو فروغ دیا جائے گا۔ حکوپر متی سطح اس سے پیدا کی ہوئی بجلی کافی مہنگی ہے، لیکن اگر کوشش کی جائے تو گھریلو سطح پر اس سے سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔کاروباری مقاصد کے لئے پچھلے چند برسوں سے پاکستان میں شمسی توا نائی سے بجلی پیدا کی جارہی ہے جو کافی مہنگی ہے۔اس کی وجہ حکومتی پالیسیاں ہیں،کیونکہ شمسی آلات اور ان کو بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد پر حکومت نے بھاری ٹیکس عائد کئے ہوئے ہیں،جس کی وجہ سے سولر پلیٹوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

اس کے ساتھ سٹوریج کے لئے لگائی جانے والی بیٹریاں بھی بہت زیادہ مہنگی ہیں۔ یہاں پر حکومت کی دوغلی پالیسی واضح ہو جاتی ہے، کیونکہ اگر حکومت اس سولر ٹیکنالوجی کو واقعی فروغ دینا چاہتی ہے تو پھر اسے سستا بنانے کے لئے نہ صرف یہ ٹیکس ختم کرنا ہوں گے، بلکہ اس شعبے کو سبسڈی بھی دینا پڑے گی۔گھریلو اور انفرادی سطح پر پیدا کی جانے والی یہ بجلی نیشنل گرڈ پر لوڈ کو کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ حکومت میں موجود لوگ اس بات کو سمجھیں۔اس سے عوام کے مسائل، خاص طور پر لوڈشیڈنگ کے مسئلے کوحل کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید : کالم