بھارت کی اشتعال انگیزیوں پر چین کا انتباہ

بھارت کی اشتعال انگیزیوں پر چین کا انتباہ

  



چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ سِکمّ کے علاقے ڈونگ لونگ میں بھارتی در اندازی ختم ہونے تک سرحدی مسائل کے حل کے لئے بامقصد مذاکرات نہیں ہو سکتے،چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے تصاویر بھی جاری کی ہیں جن میں بھارتی فوج کے اہلکار ڈونگ لونگ کے علاقے میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے سِکمّ بارڈر پر سڑک کے تعمیراتی کام کو روکا اور رکاوٹیں ڈالیں یہ مسئلہ دونوں اطراف کی افواج میں محاذ آرائی کا سبب بن رہا ہے، صورتِ حال کو بگڑنے سے بچانے کے لئے بھارت اپنے فوجیوں کو واپس بلائے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سچائی کو چھپایا نہیں جا سکتا، جب سے غیر قانونی دخل اندازی کی گئی اِس حوالے سے بیجنگ نے نئی دہلی سے سنجیدہ مذاکرات کئے ہیں۔ سفارتی رابطے بحال ہیں بھارت کا اِس علاقے سے نکل جانا مذاکرات کے لئے پیشگی شرط ہے اس کے بغیر مذاکرات نہیں ہو سکتے، وزارتِ دفاع کے ترجمان کا بھی یہ کہنا تھا کہ چینی فوج اپنے علاقے میں ہے بھارت اپنی غلط کاریوں کو درست کرے اور 62ء کی تاریخ کو یاد رکھے۔انہوں نے بھارتی آرمی چیف کی دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کی رٹ لگانا چھوڑ دیں اس قسم کا بیان انتہائی ناقابلِ قبول ہے، بھارتی آرمی چیف نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ ‘‘اڑھائی فرنٹ‘‘ پر جنگ کے لئے تیار ہیں جس سے اُن کی مراد یہ تھی کہ وہ چین اور پاکستان سے بیک وقت جنگ اور اندرونی محاذ پر سیکیورٹی خطرات سے نپٹ سکتا ہے۔

چین جو بھی تعمیراتی کام کر رہا ہے وہ اُس کی اپنی علاقائی حدود کے اندر ہیں ایسے کاموں کو روکنے کی بھارت کے پاس نہ تو طاقت ہے اور نہ جرأت۔ ہوش مندی کا تقاضا ہے کہ بھارت کے آرمی چیف اپنی قوت کا غلط اندازہ نہ لگائیں۔چین نے بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعے کے باوجود ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور کسی بھی معاملے پر بھارت کے ساتھ الجھنے کی کوشش نہیں کی، دو برس پیشتر چینی صدر شی چن پنگ نے بھارت کا دورہ بھی کیا تھا اور اس دورے کے دوران سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا تھا یہاں تک کہ چین نے حال ہی میں شنگھائی میں منعقد ہونے والی ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کانفرنس میں بھی بھارت کو شرکت کی دعوت دی، لیکن وزیراعظم مودی نے اس کانفرنس میں شرکت ضروری نہیں سمجھی۔ یہ تو خیر اُن کا اپنا فیصلہ تھا،لیکن اِس کی وجہ سے اُن پر اندرونِ مُلک اور بیرونِ مُلک نکتہ چینی بھی ہوئی۔چین نے البتہ فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور عالمی طاقت ہونے کے باوصف عالی ظرفی سے کام لیتے ہوئے اِس منصوبے میں بھارت کی شمولیت کا دروازہ بند نہیں کیا۔چین کے توسیع پسندانہ عزائم بھی نہیں ہیں،لیکن بھارت نہ جانے کس زعم میں وقتاً فوقتاً چین کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیتا رہتا ہے، حال ہی میں بھارتی آرمی چیف نے بیک وقت پاکستان اور چین کے ساتھ جنگ کی بڑھک بھی مار دی، حالانکہ چین تو خیر چین ہے، پاکستان کے ساتھ جنگ اور سرجیکل سٹرائیک کی دھمکیاں بھی اُسے بڑی مہنگی پڑ سکتی ہیں۔

اس سے پہلے جب بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اُس نے کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر سرجیکل سٹرائیک کی ہے تو پاکستان نے عالمی میڈیا کے نمائندوں کو علاقے کا دورہ کرایا اور وہاں کسی قسم کی سٹرائیک کے آثار تک نہیں پائے گئے، جہاں توپوں کے گولے یا کوئی دوسرا اسلحہ پھٹتا ہے وہاں کی زمین پر اس کے آثار ہفتوں، بلکہ مہینوں تک موجود رہتے ہیں،لیکن یہ عجیب دیو مالائی سرجیکل سٹرائیک تھی جس کا زمین پر کوئی نام و نشان تک نہ تھا، بھارتی فوجی کمانڈروں نے اس بارے میں اپنے سیاست دانوں کو جو بریفنگ دی اس میں بھی کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں بس اتنا کہا گیا ’’چونکہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پاکستانی علاقے میں سرجیکل سٹرائیک کی ہے اِس لئے آپ ہماری بات مان لیں اور کسی قسم کا استفسار نہ کریں‘‘ کوئی سوال نہ اٹھانے دیا گیا اور نہ کسی نے اپنے طور پر سرجیکل سٹرائیک کی تفصیلات بتائیں،ہاں البتہ اتنا ضرور ہے کہ بھارت کشمیر میں کنٹرول لائن پر اکثر چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا ہے، اِس لئے گزشتہ روز پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے نکیال سیکٹر میں سیز فائر کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ بھارت چین پر یہ الزام بھی لگاتا رہتا ہے کہ وہ پاکستان میں فوجی اڈہ بنا رہا ہے یا آزاد کشمیر میں چینی فوجی موجود ہیں، چین نے اس بھارتی الزام تراشی کی ہمیشہ تردید کی ہے اور ایسی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے،لیکن بھارت مسلسل یہ الزام تراشی جاری رکھے ہوئے ہے۔

چین نہ صرف خطے میں، بلکہ دُنیا بھر میں پُرامن بقائے باہمی کے اصول پر کار بند ہے اور کسی بھی حالت میں تنازعات میں اُلجھ کر اپنی تیز رفتار ترقی کا سفر روکنا نہیں چاہتا۔ چین، تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور ’’وَن چائنا‘‘ کے اصول کے تحت دُنیا بھر سے تعلقات کو ترجیح دیتا ہے اِس کے باوجود اُس نے نہ صرف تائیوان کو طاقت کے زور پر اپنا حصہ بنانے سے گریز کیا،بلکہ تائیوان کے شہریوں کو چین آنے جانے کی سہولتیں بھی فراخ دلی سے فراہم کی ہیں اور نیچرلائزیشن کے تحت اُس دن کا منتظر ہے جب تائیوان اسی طرح چین کا حصہ بن جائے گا جس طرح اِس سے پہلے ہانگ کانگ بن چکا ہے، ہانگ کانگ ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کے زیر انتظام تھا چین نے اس معاہدے کے ختم ہونے کا انتظار کیا اور کسی بھی قسم کی قوت کے استعمال کے بغیر اسے اپنی عملداری میں لے لیا، ہانگ کانگ کے باشندے جس طرزِ زندگی کے عادی ہو گئے تھے اسے بھی زبردستی تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اپنا ایڈمنسٹریٹر ضرور مقرر کیا،لیکن ہانگ کانگ کا طرز بود و باش اور معاشرت قوت کے زور پر تبدیل کرنے کی پالیسی نہیں اپنائی، وقت کے ساتھ ساتھ چین اور ہانگ کانگ کے فاصلے مٹنا شروع ہو گئے اور وہ وقت دور نہیں جب دونوں حصوں میں کوئی تفریق کرنا مشکل ہو گا۔

جاپان کے ساتھ اپنے تنازعات بھی چین پُرامن طور پر حل کرنا چاہتا ہے،لیکن بھارت کی دھمکی آمیز پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے، حالانکہ ابھی چند ہفتے ہی گزرے ہیں بھارت اور پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن بنے ہیں، جس کا تقاضا ہے کہ تمام رکن ممالک کو ایک دوسرے کے زیادہ قریب آنا چاہئے،لیکن عجیب بات ہے بھارتی فوجی قیادت چین اور پاکستان کے ساتھ بیک وقت محاذ کھولنے کی دھمکی آمیز زبان بول رہی ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ جس طرح سارک کارکن ہونے کے باوجود بھارت،پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات درست خطوط پر استوار نہیں کر سکا، اسی طرح شنگھائی تنظیم کی رکنیت بھی اس کے جارحانہ رویے کو تبدیل نہیں کر سکے گی۔ اس تنظیم کے چارٹر کی بنیادی بات یہی ہے کہ رکن مُلک ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھیں گے،لیکن بھارت پاکستان کو دھمکیاں دیتے دیتے چین کے علاقے میں بھی فوجی بھیج کر اشتعال انگیزی پر اُترا ہوا ہے۔ اس طرح شنگھائی تعاون میں کیا خاک حصہ ڈالے گا؟ کیا یہ پالیسی خطے کے خرمنِ امن کو جلانے کے لئے اختیار کی گئی ہے اور کیا اس کے پیچھے کوئی ایسی طاقت ہے جو بھارت کو یہ اشتعال انگیز رویہ اختیارکرنے پر اُکسا رہی ہے؟۔ یہ بات خود بھارتی طرزِ عمل سے واضح ہو گی۔ توقع ہے بھارتی قیادت ہوش کے ناخن لے گی اور خطے کو آگ کے شعلوں کے سپرد کرنے کی حماقت سے گریزکرے گی۔

مزید : اداریہ