حادثات۔۔۔ قیمتی جانوں کا ضیاع: متعلقہ محکمے کیا کررہے ہیں؟

حادثات۔۔۔ قیمتی جانوں کا ضیاع: متعلقہ محکمے کیا کررہے ہیں؟

  



مصیبت اور پریشانی کسی سے پوچھ کر تو نہیں آتی، لیکن انسان کے فہم کا تقاضا تو یہ ہے کہ حفاظتی انتظامات کئے جائیں اور خود سے موت کے اسباب پیدا نہ کریں، احمد پور شرقیہ کے حادثہ جانکاہ کے بعد مسلسل حادثات کی اطلاعات مل رہی ہیں جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ہر روز ایک سے زیادہ واقعات ظہور پذیر ہوتے اور اموات کی خبر آجاتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک الموت نے پاکستان کی راہ دیکھ لی اور اسے کہیں اور جانے کی فرصت ہی نہیں، احمد پور شرقیہ کا حادثہ 170جانیں لے چکا اور زیر علاج مریض بھی بہتر حالت میں نہیں ہیں، شدید گرمی کے بعد بارانِ رحمت کا نزول بھی زحمت کی شکل اختیار کرگیا، کراچی میں دو بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے، پنجاب میں مکانوں کی چھتوں نے پانچ افراد کی زندگیاں نگل لیں۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ملکہ کوہسار مری کے گاؤں بنواڑی کو مرکزی شاہراہ سے ملانے والی چیر لفٹ ٹوٹ کر کھائی میں گری اور 12 افراد اللہ کو پیارے ہوگئے، اِسی روز بصیرہ کے مقام پر ایک مزدا نے لاہور سے مری کی سیر کے لئے جانے والے خاندان کے کیری ڈبہ کو ٹکر ماری اِس سے سبزہ زار لاہور کے پانچ افراد جاں بحق ہوئے، شاہ کوٹ میں ویگن کا گیس سلنڈر پھٹ گیا اور چھ قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں، یوں ایک ہی روز میں مختلف حادثات کے باعث 23افرادمارے گئے۔

اب تک یہ سب بظاہر حادثات ہیں اور ان کو اللہ کی رضا سے موسوم کیا جارہا ہے کہ ہم مسلمانوں کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوتا،لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مری والی چیرلفٹ اگر کوئی نجی طور پر چلاکر کمائی کررہا تھا تو اس کی حالت کیا تھی اور کیا اس کی مرمت ہوتی اور دیکھ بھال کی جاتی تھی، یوں بھی اس چیر لفٹ کے دھندے کو دیکھنے کی ذمہ داری مقامی بلدیاتی ادارے پر تھی جس کی طرف سے لاپرواہی برتی گئی، مکینوں کے مطابق نہ صرف لفٹ پر انی تھی، بلکہ لالچ کے تحت اس میں زیادہ لوگ سوار کرلئے جاتے تھے اور حادثہ والے روز بھی یہی ہوا، اسی طرح ویگن کا گیس سلنڈر پھٹنے والا پہلا حادثہ نہیں ہے پہلے بھی ایسے حادثات ہوتے رہے اور ہر بار غیر معیاری سلنڈر استعمال کرنے کی شکایات موصول ہوتی رہی ہیں اس کے باوجود متعلقہ ذمہ دار اداروں نے کبھی بھی مہم کے طور پر ایسے غیر معیاری سلنڈروں کی خرید فروخت اور تنصیب نہیں روکی۔

سڑک پر ہونے والا حادثہ بھی پہلا نہیں نہ صرف موٹر وے، بلکہ نیشنل ہائی ویز کے ساتھ شہروں میں بھی ٹریفک کے حادثات ہوتے ہیں جو عام طور پر تیز رفتاری، ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی اور ناقص گاڑیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں ان حادثات پر غور کرکے حقائق کا اندازہ لگایا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ سب متعلقہ سرکاری اداروں ، محکموں یا شعبوں کی غفلت کا نتیجہ ہے کہ کبھی کسی نے اپنے فرائض کا حق ادا ہی نہیں کیا۔ موت برحق کہنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ریاست میں نظام قاعدے اور قانون کے تحت چلتا ہے اور ریاستی آئین اور قانون ہی کے تحت ادارے بھی قائم ہوتے ہیں اور کام شعبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اگر یہ سب اپنے فرائض تندہی ،دیانت اور توجہ سے سرانجام دیں تو ایسے حادثات میں معتدبہ کمی ہو سکتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے کے مطابق ہر ایک کو اس کے فرائض ادا کرنے کا پابند بنایا جائے جس کی جو ذمہ داری ہے وہ اسے پورا کریں توحادثات میں کمی آسکتی ہے اور جانی نقصان سے بچا جاسکتا ہے ، اب سب حادثات کی گہری اور تکنیکی بنیاد پر تحقیق کے بعد ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور قصور واروں کو عبرت ناک سزا دی جائے کہ آئندہ اپنا کام خود کریں۔

مزید : اداریہ


loading...