جمشید دستی ،مجید اچکزئی،طبقاتی تقسیم کے مظہر!

جمشید دستی ،مجید اچکزئی،طبقاتی تقسیم کے مظہر!
 جمشید دستی ،مجید اچکزئی،طبقاتی تقسیم کے مظہر!

  



کہتے ہیں، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے اور فرقہ پرستی زہر قاتل ہے۔ دونوں ہی باتیں اپنی جگہ درست لیکن معروضی حالات پر نظر ڈالیں تو اطمینان نہیں ہوتا، جہاں تک فرقہ واریت کا تعلق ہے تو اس کے موجود ہوتے ہوئے، بیرونی سازشوں کے باوجود پاکستان کے عوام حالات کو جانتے ہیں اور ابھی تک تو ایسے سازشیوں کے ہتھے نہیں چڑھے، اس کا اعتراف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کیا اور اپیل کی ہے دشمنوں کی اس سازش کو اتحاد سے شکست دی جائے، یہ اپنی جگہ درست، لیکن جمہوری اختلاف رائے کی حالت کوئی اچھی نہیں اور یہ اختلاف محاذ آرائی کی شکل اختیار کر گیا اور اسے مزید ہوا بھی دی جا رہی ہے، اس میں خود برسراقتدار حضرات کا بھی پورا پورا حصہ ہے اور حالات ایسے ہو چکے کہ سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی بنتا جا رہا ہے۔اسے درست کرنے پر بھی توجہ نہیں دی جا رہی کہ اگر سازش کا علم ہے تو پھر تدارک کیوں نہیں کیا جاتا؟

ملک کے اندر حالات یہ ہیں کہ یہاں طبقاتی ناہمواری میں اضافہ ہو گیا اور اس کے مظاہر بھی نظر آنے لگے ہیں، پہلے تو غربت اور امارت کی مثال دی جاتی تھی لیکن اب حقائق سامنے آتے جا رہے ہیں، رمضان المبارک کے بعد آج ’’محفل سیر صبح‘‘ آراستہ ہوئی تو طبقاتی تضاد نے پریشان کر دیا، ہمارے محترم شکوہ کر رہے تھے کہ وزیراعظم اور ان کے پورے خاندان کو جان بوجھ کر بلایا جا رہا ہے، جو افسوسناک ہے، اس حوالے سے بات ہوتی چلی گئی تو احساس ہوا کہ طبقاتی خلیج نہ صرف بڑھتی جا رہی ہے بلکہ احساس بھی اجاگر ہو رہا ہے۔ہمارے ایک ساتھی جے آئی ٹی کے رویے کی شکایت کر ہی رہے تھے کہ دوسرے صاحب نے سوال جڑ دیا اور پوچھا کہ جو حکمران جے آئی ٹی کے سامنے جانے پر شور مچا رہے اور ان کے کارکن برہمی کا اظہار کر رہے ہیں وہ قومی اسمبلی کے رکن کے ساتھ خود کیا سلوک کر رہے ہیں کہ جمشید دستی نے ہاتھ جوڑ کر کہا، اسے بچا لیا جائے، وہ چھ روز سے بھوکا ہے، اسے مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جیل کے اندر اس کی بیرک میں چوہے اور بچھو چھوڑے گئے ہیں اور جیل میں اس پر مخصوص انداز میں تشدد بھی کیا گیا ہے ، جواب ملا، اس کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہیے کہ وہ بھی تو سیٹیاں بجانے سے باز نہیں آتا۔

اس پر باقاعدہ بحث چھڑ گئی۔جو گفتگو ہو رہی تھی ہمیں تو ناگوار گزری کہ جمشیددستی کو باقاعدہ بدمعاش اور نہ جانے کیا کیا کہا جا رہا تھا۔ہم نے اہل محفل کی توجہ خبروں کی طرف مبذول کرائی۔ ایک صاحب بولے! اگر جمشید دستی تخریب کار اور ملزم ہے تو پھر چادر والی سرکار کے کزن مجید اچکزئی کو کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور اب بھی وہ اکڑا ہوا ہے اور میڈیا کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔ اس رکن بلوچستان اسمبلی نے پہلے ایک ہیڈکانسٹیبل کو گاڑی سے کچل کر مارا اور پھر رعب بھی دینے لگا، میڈیا کی مہربانی سے پکڑا گیا تو سب مراعات یافتہ اس کی پشت پر آ گئے، اسے حوالات میں کولر لگا دیا گیا، چارپائی اور بستر مہیا کیا گیا اور پھر مقتول کے لواحقین پر دباؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا، اسے ہتھکڑی بھی نہیں لگائی گئی اور اب انکشاف ہوا کہ وہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اشتہاری ملزم ہے۔ دوسری طرف جمشید دستی ہے، جسے سبق سکھایا جا رہا ہے، اسے ابتداء ہی میں ہتھکڑی لگا دی گئی۔ دھکے دیئے گئے۔ ایک کے بعد ایک مقدمہ بنایا گیا کہ اسے توڑا جائے اور اب تو اسے احتساب عدالت سرگودھا میں پیشی پر آنے سے موقع مل گیا اور اس نے واویلا کرکے فریاد کی کہ اسے جان سے مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ دونوں مقدمات میں پارلیمنٹ کے رکن ملوث ہیں۔ ایک قومی اسمبلی کا رکن ہے تو دوسرا صوبائی اسمبلی کے لئے منتخب ہوا، دونوں کے جمہوری سٹیٹس میں کیا فرق ہے بلکہ جمشید دستی تو قومی اسمبلی کا رکن ہے اسے تو دھکے دیئے جا رہے اور رلا دیا گیا ہے جبکہ دوسرے صاحب کی طرف اغوا برائے تاوان کے مقدمات بھی نکل آئے، اس کے باوجود وہ تمام تر سہولتوں کا حق دار ہے یہی تو طبقاتی فرق ہے۔ ایک سردار تو دوسرا عام آدمی ہے تاہم یہ جمشید دستی غریب ہونے کے باوجود دوبار منتخب ہوا ہے۔ اس کے سٹیٹس میں فرق کیوں؟ جمشید دستی کو اس کے اپنے ضلع حتیٰ کہ ڈویژن اور صوبے سے بھی بے دخل کر دیا گیا اور مظفر گڑھ سے اسے سرگودھا جیل پہنچا دیا گیا۔

جمشید دستی کے خلاف جو بات کہی جا رہی ہے وہ تو صرف یہ ہے کہ اس کی حرکتیں بچگانہ اور شو گیری والی ہیں، اسے سزا ملنا چاہیے، یہ رجحان ہے جمشید دستی نے جو طریق اور رویہ اختیارکیا اسے غیر مناسب ہی کہہ لیں۔ لیکن اس کی سزا اتنی سخت کیوں؟ اسے ہتھکڑی کیوں لگائی گئی؟اب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا اور رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جب حاکم و محکوم بالائی اور نچلے طبقے کے افراد پیش ہوں گے تو نئے نئے انکشاف ہوں گے۔ اس سلسلے میں آج میڈیا کی مہم ہی کے نتیجے میں سیشن جج سرگودھا اور احتساب عدالت کے فاضل جج نے ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کیا۔ جمشید دستی سے بھی ملاقات کی اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی گئی کہ جمشید دستی کو اس کے حقوق دیئے جائیں۔یہ معاملہ کوئی زیادہ پیچیدہ اور پراسرار بھی نہیں۔ جمشید دستی نے جہاں بھی قانون کی خلاف ورزی کی اسے اس کا خمیازہ بھی بھگتنا ہوگا، لیکن اسے اس کے حقوق سے محروم کرکے سزا دینا ، اس کی ’’غنڈہ گردی‘‘، ’’بدتمیزی‘‘ ختم، کرنے کے لئے اس پرتشدد سے لے کر ذلیل کرنے تک جو کچھ کیا گیا یہ کس زمرے میں آتا ہے۔ اگر زبان درازی کا تعلق ہے تو پھر عمران خان، طلال چودھری، دانیال عزیز اور خصوصاً عابد شیر علی کیوں دندناتے پھرتے ہیں۔ جمشید دستی کا بطور رکن قومی اسمبلی استحقاق بھی مجروح ہوا ہے۔ دکھ کی بات ہے کہ سپیکر محترم سے قائد حزب اختلاف تک کسی نے نوٹس نہیں لیا، اب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے نوٹس سے حالات میں تبدیلی واقع ہوئی، یقین ہے کہ دادرسی ہوگی کہ ایک مقدمہ میں ضمانت تو دوسرا درج ، کیا یہ انتقام نہیں؟ اور یہ طبقات کی تقسیم والی بات نہیں؟صوبائی وزیر جیل خانہ جات نے توجمشید دستی کے الزام مسترد کردیئے۔ کہا جیل میں سہولتیں، بی، کلاس دی گئی، جی ہاں! بی کلاس والے ایم، این ، اے کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑی لگائی جاتی اور پولیس ملازم دھکے دیتے ہیں؟

مزید : کالم