ماضی کی نسبت آج پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے : بشارت صدیقی

ماضی کی نسبت آج پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے : بشارت صدیقی
 ماضی کی نسبت آج پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے : بشارت صدیقی

  



لاہور(نمائندہ خصوصی) روز نامہ پاکستان کے نئے سلسلے ایک دن ایک سیاسی ورکر میں گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر جیالے بشارت صدیقی نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 1970سے پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں جبکہ اس سے پہلے ان کے والد الطاف حسین بھی پیپلز پارٹی کی مقامی سیاست میں متحرک تھے انہوں نے بتایا کہ وہ پارٹی الیکشن میں حصہ لیکر وارڈ کی سطح پر جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے پھر 2005 کے بلدیاتی الیکشن میں پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر لیبر کونسلر منتخب ہوئے اور پھر اس کے بعد پی پی زون 142کا سیکرٹری انفارمیشن بنے اور ابھی تک اسی عہدے پر بطور ورکر کام کررہا ہوں انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سینئر جیالے یعقوب بھولا اور ان کے بھائی ملک نذیر بھی کونسلر منتخب ہو چکے وہ گمنامی کی زندگی میں جان کی بازی ہار گئے اس کے علاوہ مسلم روڈ پر حاجی ظفراقبال کی بھی پارٹی کے لئے بڑی خدمات تھیں وہ بھی برین ہیمرج سے مر گئے لیکن پارٹی کی لیڈر شپ میں سے کسی نے بھی ان کے گھر والوں کے پاس جا کر ان سے افسوس کرنا مناسب نہ سمجھا جس کی وجہ سے بطور ورکر میرا دل ابھی بھی بہت دکھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھٹو شہید کے طرز حکمرانی کو چھوٹی عمر میں دیکھا ہے جبکہ بی بی شہید کے طرز حکمرانی کو بہت اچھی طرح سے دیکھنے کا موقع ملا ہے بی بی شہید ہر ورکرز کو اچھی طرح سے جانتی اور پہچانتی تھیں ان کا سٹائل اپنے والد کی طرح عوامی سٹائل تھا انہوں نے ورکرز کو نوازا اور ان کے بعد آصف ہاشمی واحد لیڈر ہیں جنہوں نے لاہور کے ورکرز کے بچوں کو نوکریاں پلاٹ اور گھر دئیے اگر ان کی طرح باقی وزراء بھی ایسا کرتے تو آج کسی حد تک ورکرز کی بھوک ختم ہو سکتی تھی ۔انہوں نے کہا کہ جہانگیر بدر مر حوم ایک ایسے پارٹی لیڈر تھے جو ہر کارکن کی خوشی اور غمی میں شریک ہوا کرتے تھے آج کی لیڈر شپ کو ورکرز اپنی خوشی اور غمی کا بتائیں بھی تو وہ رابطہ کرنا مناسب نہیں سمجھتے جس سے کارکنوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...