پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (2) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت

پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (2) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (2) نابغۂ روزگار اسکالر اور انسان دوست شخصیت

  



انہیں اقبال کی طرح قائداعظمؒ کی شخصیت سے بے پناہ محبت تھی۔ ڈاکٹر انصاری کوئی شخصیت پرست یا جذباتی آدمی نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے والد محترم کی وجہ سے تحریک پاکستان کو قریب سے دیکھا تھا اور 1946ء کے انتخابات میں میٹرک کے طالب علم کی حیثیت سے مسلم لیگ کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کا موقع بھی ملا تھا۔ انہیں قائداعظمؒ اور دیگر بانیانِ پاکستان کو قریب سے دیکھنے اور ملنے کا اور تعارف کا اعزاز بھی حاصل رہا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچپن سے مطالعے، غور و فکر اور سوچ بچار نے ان میں یہ تیقن پیدا کردیا تھا کہ قائداعظم ؒ ہی وہ مقناطیسی شخصیت ہیں، جن کی قیادت نے مسلمانوں میں وہ تحرک پیدا کیا تھا، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے فکری اور ذہنی انتشار کو ختم کرکے ان کے دلوں میں دبی آزادی کی چنگاری کو شعلہ مستعجل بنایا۔ جس کے بغیر انگریز کے رخصت ہونے کے بعد مسلمانوں کو انگریز کی غلامی سے بھی بدتر غلامی کے شکنجے میں جانے سے بچایا جانا ناممکن تھا۔ ان کے والد تو ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ ’’میں نے تحریک پاکستان میں عملی شرکت کا فیصلہ اس یقین اور شعور کے ساتھ کیا تھا کہ اگر خدانخواستہ مسلمانانِ ہند یہ جنگ ہار گئے تو مسلمانوں کو ہندومت کا اجتماعی بپتسمہ قرار دے کر وہ کچھ کیا جائے گا جس کے سامنے ہسپانیہ میں مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی تاریخ بھی دنیا بھول جائے گی‘‘۔یہاں یہ بتانا غیر مناسب نہ ہو گا کہ مولانا ظفر احمد انصاری نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں شمولیت کے لئے برطانوی حکومت کے مرکزی بورڈ آف ریونیو کی ملازمت کو خیر باد کہا تھا۔ مولانا انصاری اُن تین مسلمان طلبا میں شامل تھے جنہوں نے الٰہ آباد یونیورسٹی سے اپنے اپنے شعبوں میں ٹاپ کیا تھا، مولانا انصاری نے فلسفے میں ظفر الحسن لاری نے معاشیات میں اور اقبال حسین نے پولیٹیکل سائنس میں۔ بعدازاں مولانا انصاری نے الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایل ایل بی کے امتحان میں بھی اول پوزیشن حاصل کی۔ مولانا انصاری 1941ء سے دسمبر1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل، آل انڈیا مسلم لیگ کے پارلیمانی بورڈ کے سیکرٹری، آل انڈیا مسلم لیگ ایکشن کمیٹی کے سیکرٹری اور شہید ملت لیاقت علی خان کے دستِ راست رہے۔ پاکستان میں دستور سازی کی تاریخ میں مولانا انصاری کا کلیدی کردار رہا۔ 1973ء کے دستور کو متفقہ بنوانے میں مولانا انصاری کے کردار کا اعتراف ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کیا تھا، وہ 1973ء کی دستور ساز کمیٹی میں قومی اسمبلی میں آزاد ارکان کے پارلیمانی گروپ کے نمائندے تھے۔

معروف صحافی، کالم نگار، ادیب و شاعر طفیل احمد جمالی مرحوم (جو خود بھی تحریک پاکستان میں فعال تھے اور قائداعظمؒ کے شیدائی تھے) کہا کرتے تھے کہ میں نے ظفر اسحٰق انصاری کے سوا کسی اور کو نہیں دیکھا جو لڑکپن سے ہی معیاری تحریر لکھتا ہو۔ خدا نے ظفر اسحٰق انصاری کو اختصار کے ساتھ بھی لکھنے کا ملکہ دیا تھا اور قلم برداشتہ طویل تحریر لکھنے پر کامل درجہ کی قدرت عطا کی تھی۔طفیل احمد جمالی ہمیشہ کہتے تھے کہ اگر ظفر اسحٰق انصاری زمانۂ طالب علمی کے بعد تدریس کے ساتھ ساتھ اپنی صحافت کو بھی جاری رکھتے تو وہ تعلیم و تحقیق کی طرح صحافت کا بھی ایک بڑا نام ہوتا۔ انہوں نے عملی صحافت میں رہنے کا طفیل جمالی کا مشورہ تو قبول نہیں کیا تھا، مگر وہ زندگی بھر علمی مجلات کی ادارت سے وابستہ رہے۔ وہ دنیا کی اعلیٰ ترین جامعات کے تحت نکلنے والے علمی مجلات کے ادارتی بورڈ میں شریک رہے۔ انہوں نے جن تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ان کا شمار دنیا کے نامور تعلیمی اداروں میں شامل ہے۔ اور جن جامعات میں پڑھایا اور جن تحقیقی اداروں میں تحقیق، تصنیف و تالیف کا کام کیا ہے وہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، سعودی عرب کی اعلیٰ ترین جامعات میں تھیں۔ ان جامعات میں سے ۔۔۔ کئی جامعات کا شمار تو دنیا کی دس اعلیٰ ترین جامعات میں ہے۔

ڈاکٹر انصاری 27 دسمبر 1930ء کو الہ آباد کے مضافات میں شہر سے چند میل کے فاصلے پر واقع ’’منڈارہ‘‘ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم اسی گاؤں کے اسکول میں حاصل کی تھی۔ میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ 1946ء میں الہ آباد ہائی اسکول سے پاس کیا تھا۔ باقی تعلیم قیام پاکستان کے بعد فرسٹ ایئر سے لے کر ایم اے معاشیات تک کراچی میں حاصل کی اور ایم اے کرنے کے فوراً بعد جامعہ کراچی میں معاشیات کے لیکچرار ہوگئے۔ جامعہ کراچی نے ہی انہیں اسکالر شپ پر علوم اسلامیہ میں ایم اے کرنے کے لئے کینیڈا بھیجا تھا۔ بعدازاں وہ دوبارہ اسکالر شپ پر کینیڈا گئے تھے۔ جہاں سے انہوں نے مشہور مستشرق اسکالر پروفیسر ولفریڈ کینٹ دل اسمتھ کی نگرانی میں ’’اسلامی قانون‘‘ میں پی ایچ ڈی کی۔ ان کی تخصیص کا عنوان تھا: ’’کوفہ میں فقہ کا ارتقاء: امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن شیانی کی تصانیف کا خصوصی مطالعہ‘‘ ڈاکٹر انصاری کی پی ایچ ڈی کو نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ مگر اہل علم ان کی تحقیق کو آج بھی اتھارٹی تسلیم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر انصاری نے جس میکگل یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ اس میں تدریس اور تحقیق کے شعبے سے وابستہ بھی رہے، دیگر دنیا کی جن جامعات میں پڑھایا ہے۔ ان میں امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی، شکاگو یونیورسٹی، آسٹریلیا کی میلبورن یونیورسٹی، سعودی عرب کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، جدہ دھران کی یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز۔ریاض کی امام محمد بن سعود یونیورسٹی اور بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد ہے۔ ڈاکٹر انصاری 1985ء میں دھران یونیورسٹی میں ڈین فیکلٹی تاریخ اینڈ شریعہ لا میں فل پروفیسر کی حیثیت میں مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد امام محمد بن سعود یونیورسٹی میں تاریخ شریعہ اینڈ لا فیکلٹی کے ڈین ہوگئے تھے۔ جہاں سے 1986ء میں بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر (وائس چانسلر) کی خصوصی درخواست پر ریاض یونیورسٹی نے ڈاکٹر انصاری کی خدمات اپنی یونیورسٹی کی طرف سے بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کو ڈپوٹیشن پر فراہم کردی تھیں۔ جہاں آپ فیکلٹی شریعہ اینڈ لا کے ڈین اور شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے وابستہ ہوگئے۔ 1988ء سے لے کر 2008ء تک ڈاکٹر انصاری نے ادارۂ تحقیقات اسلامی (اسلام آباد) کی سربراہی کی۔ ادارۂ تحقیقات اسلامی کے علمی مجلہ (انگریزی زبان میں) ’’اسلامک اسٹیڈیز‘‘ کی آپ نے طویل عرصے تک ادارت کی۔ اس مجلے کا شمار آج دنیا کی اعلیٰ ترین جامعات کے علمی مجلات میں ہوتا ہے۔ یہ مجلہ اب بھی باقاعدگی کے ساتھ ادارۂ تحقیقات اسلامی میں ڈاکٹر انصاری کے جانشین ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضیاء الحق کی نگرانی میں نکل رہا ہے۔

ڈاکٹر انصاری نے ڈھائی عشرے تک بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں شریعہ اینڈ لا فیکلٹی کے ڈین، شریعہ اکیڈمی کے ادارۂ تحقیقات اسلامی کے سربراہ۔ اور جامعہ کے نائب صدر (پرووائس چانسلر) اور صدر جامعہ (وائس چانسلر) اور جامعہ کے مختلف ذیلی اداروں کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ ڈاکٹر انصاری بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی سے آخری سانس تک ’’پروفیسر ایمریطس‘‘ کی حیثیت سے وابستہ رہے۔ اور اپنی شدید علالت کے باوجود تحقیق و تصنیف اور تالیف کے کام میں مصروف رہے۔ آپ نے اپنے انتقال سے چند ماہ قبل ہی یونیسکو کے ایک بڑے اہم علمی پروجیکٹ کے تحت ’’فاؤنڈیشن اسلام‘‘ کی پہلی جلد کا کام مکمل کیا۔ اس کی مزید پانچ جلدیں اور آنی ہیں، جس پر کام ہورہا ہے۔ ڈاکٹر انصاری کا ایک بڑا اہم علمی کارنامہ قرآن پاک کے پیغام کو انگریزی داں طبقے تک پہنچانے کے سلسلے میں ہے وہ ہے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے قرآن پاک کی تفسیر تفہیم القرآن کا انگریزی ترجمہ۔ ڈاکٹر انصاری نے مولانا مودودیؒ کے قرآن پاک کے اُردو ترجمہ کا انگریزی میں ترجمہ بہت پہلے مکمل کردیا تھا۔ جو برسوں سے مسلسل شائع ہورہا ہے۔ تفسیر تفہیم القرآن کی انگریزی میں بارہ جلدیں چھپ چکی ہیں، جن میں 26 پاروں کی مکمل تفسیر کا انگریزی میں ترجمہ ہے۔ دو جلدو ں کا کام نامکمل رہ گیا ہے جو وہ اپنی علالت کی وجہ سے مکمل نہ کرپائے۔ جس کا قلق انہیں اپنی رحلت سے چند گھنٹے پہلے تک بھی رہا۔ ان کے بیٹے یاسر انصاری اور بہو سمیرا انصاری نے بھی بتایا کہ جس صبح ان کا انتقال ہوا، اس رات دو بجے شب تک وہ ہم سے اپنے باقی رہ جانے والے علمی کاموں کے حوالے سے باتیں کرتے رہے۔ تفہیم القرآن کی دو جلدوں کا کام نامکمل رہ جانے کے قلق کا ذکر آخری رات بھی انہوں نے کیا۔ ڈاکٹر انصاری کے علمی کام پر کوئی جب تحقیق کرے گا تو صحیح طور پر ہمیں پتا چلے گا کہ ہمارے درمیان سے کتنا بڑا عہد ساز مسلم اسکالر اُٹھ گیا ہے، ان کے کام میں کتنا تنوع تھا۔اس کا اندازہ کرنے کے لئے ان مقالات کے عنوان ہی کافی ہیں جو انہوں نے مختلف مواقع پر ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنسوں میں پڑھے اور علمی مجلات کے لیے لکھے تھے۔ ان کا تحریر کردہ مضمون 1973ء میں ’’انسائیکلوپیڈیا آف برٹینیکا‘‘ میں ’’امام ابوحنیفہؒ کی شخصیت اور ان کا علمی مقام‘‘ شامل کیا گیا تھا، جسے دنیا بھر کے اہلِ علم آج بھی اتھارٹی تسلیم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر انصاری مکالمہ کے آدمی تھے، انہوں نے اپنے امریکہ اور کینیڈا کے قیام کے دوران اس کے لئے ایک ادارہ ’’انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ‘‘ کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کے قائم کردہ ادارے کو آج بھی امریکی مسلمانوں نمائندہ ادارہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...