نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (1)

نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (1)
 نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (1)

  



امریکہ میں سیاسی سطح پر وقوع پذیر ہونے والی ڈرامائی تبدیلیوں اور روز بروز نیا رُخ اختیار کرتے ہوئے حالات کو کچھ تھمتے دیکھ کر اِس حوالے سے کالم لکھنے کی تیاری کر رہا تھا کہ یکے بعد دیگرے دو تابڑ توڑ حملے ہوگئے۔ ایک تو ریاست مشی گن میں ہمارے مہربان سمیع اللہ فاروق کی طرف سے، جو کراچی کے دُکھی ہیں اور پاکستان کی سیاست کا گہرا ادراک رکھتے ہیں۔دوسرا ہماری عزیزہ ہمال سلمان کی طرف سے جو حیدر آباد سندھ کی دکھیاری ہیں۔ وہ بی بی اے کی طالبہ ہیں اور انہوں نے عورتوں کے حقوق کے لئے زبردست تحریک چلا رکھی ہے۔ سمیع اللہ فاروق نے گزشتہ دِنوں شائع ہونے والا ایک ایسے برخوردار کالم نویس کا کالم تبصرے کے لئے بھجوایا جو خود کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا چودھری سمجھتے ہیں اور خود کو زندہ و جاوید بنانے کے لئے زیرو زیرو سیون ٹائپ سنسنی خیز جذباتی کالم لکھتے ہیں، جن میں حقائق کے خون سے رنگ بھرا گیا ہوتا ہے۔ کالم کا لُبِ لباب یہ ہے کہ اس میں نواز شریف کی وکالت کرتے ہوئے جنرل باجوہ کو بتایا گیا ہے کہ انہیں آئندہ دو ماہ کے دوران جوڈیشل پلس ملٹری ایمرجنسی لگانے کے بے شمار مواقع ملیں گے،لیکن اگر ایسا کیا گیا تو نواز شریف کو ہٹانے کا فیصلہ ایسی نئی اور غلط ٹویٹ ثابت ہو گا، جسے بعدازاں واپس لینا پڑ جائے گا۔ برخوردار کی یہ بات فوج کو سیاست میں ملوث کرنے، اس کی نیت پر شبہ کرنے اور اسے دھمکی دینے کے ضمن میں آتی ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ تو فوج کا متعلقہ محکمہ کرے گا۔ میرے لئے اس کالم میں تشویش کی بات اس کے آغاز میں1971ء میں پولینڈ کی قرارداد سے متعلق وہ جملہ ہے جس میں مُلک کی تاریخ کو بے ہودہ طریقے سے مسخ کر کے بیان کیا گیا ہے۔۔۔عزیزہ ہمال نے مجھ پر جو نزلہ گرایا ہے، وہ بھی صحافت کے انہی چودھری کا ٹی وی پر2006ء کے بیانیہ کالم کا ایک ٹکڑا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ الطاف حسین محرومی کے اس گڑھے کی پیداوار ہیں جوذوالفقار علی بھٹونے1973ء میں ملازمتوں کا کوٹہ سسٹم رائج کر کے پیدا کر دیا تھا۔یہ معاملہ بھی ریکارڈ کی درستگی کا تقاضا کرتا ہے،لیکن پولینڈ کی قرارداد کے بعد جس کا ذکر موصوف اپنے فلسفے کی روشنی میں ان الفاظ میں کرتے ہیں :’’ قوم فوج کی ڈھال ہوتی ہے اور فوج قوم کی تلوار۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ 1971ء میں یہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں تھے،چنانچہ ہم بُری طرح مار کھا گئے۔جنرل یحییٰ نے افراتفری میں ذوالفقار علی بھٹو کو سلامتی کونسل بھجوا دیا، جنہوں نے وہاں عین اُس وقت جذباتی تقریر کھڑکا دی جب پولینڈ کی قرارداد پیش ہوئی۔انہوں نے قرارداد کی کاپی پھاڑی اور ’’ہم ہزار سال تک لڑیں گے‘‘ کا نعرہ لگا کر ایوان سے باہر آ گئے۔ اس جذباتی تقریر نے پاکستان کے مقدر کا فیصلہ کر دیا۔ہم نے آدھا مُلک بھی گنوا دیا اور اپنے قومی وقار اور قومی اعتماد پر زخم بھی لگوا لئے۔

مجھے یقین ہے کہ چودھری صاحب اگر صرف قرارداد ہی پڑھنے کی زحمت کر لیتے تو قومی اہمیت کے اس معاملے میں سطحی بیان بازی سے گریز کرتے۔ ویسے تو اس قرارداد پر، جس کا اندراج آگے کیا گیا ہے، ایک نظر ڈالنے سے ہی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے،لیکن1971ء سے لے کر اب تک تقریباً نصف صدی کے دوران اور بھی بہت سے حقائق منظر عام پر آ چکے ہیں، اِس لئے بہتر ہو گا کہ ان کی روشنی میں اور اس ماحول کے تناظر میں اس کا جائزہ لیا جائے، جس میں یہ سلامتی کونسل میں پیش کی گئی۔اقوام متحدہ میں ان دِنوں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معاملات جس انداز میں چل رہے تھے، ان کا ماجرہ معروف امریکی یونیورسٹی پرنسٹن کے پروفیسر گیری جے باس نے، جو صحافی بھی رہ چکے ہیں، اپنی کتاب ’’بلڈ ٹیلی گرام‘‘ میں بیان کیا ہے۔ ڈھاکہ میں1971ء میں تعینات امریکی قونصل جنرل آرچر بلڈ کے حالاتِ زندگی پر مرکوز یہ کتابف، جو امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے ریکارڈ پر مبنی ہے،1971ء میں مشرقی پاکستان میں پیش آنے والے واقعات پر سند کا درجہ رکھتی ہے۔ اس دوران ڈھاکہ، اسلام آباد اور دہلی کے علاوہ پیکنگ(اب بیجنگ)، روس، واشنگٹن اور نیو یارک میں جو کچھ ہو رہا تھا، اس کا لمحہ لمحہ ذکر بھی اس کتاب میں ملتا ہے اور اس سازش کا بھی تفصیلی ذکر جو دہلی میں پاکستان کے خلاف تیار کی گئی۔ 2013ء میں شائع ہونے والی یہ کتاب امریکہ میں غیر ادبی کتاب کی حیثیت سے پلٹزر پرائز حاصل کر چکی ہے، جسے امریکی نوبل انعام کے ہم پلا سمجھا جاتا ہے۔ کتاب کے اندراجات (صفحہ283 تا286) کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ3دسمبر1971ء کو شروع ہو چکی تھی۔ ہندوستان نے مشرقی پاکستان میں (جہاں وہ پہلے سے دخل اندازی کر رہا تھا) تیزی سے آگے بڑھنا شروع کر دیا تھا۔اسے آگے بڑھنے کے لئے وقت درکار تھا جو روس اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بار بار ویٹو کر کے اسے فراہم کر رہا تھا، جبکہ امریکہ چین کی مدد سے یہ قراردادیں منظور کرانے کے لئے کوشاں تھا۔ اقوام متحدہ میں امریکی مندوب جارج ڈبلیو بش نے(جو بعد میں امریکہ کے صدر بنے) امریکہ کے صدر نکسن کے ایما پر سلامتی کونسل میں فوری جنگ بندی اور فوجوں کی واپسی کی قرارداد پیش کی، جس کے منظور ہو جانے سے بنگلہ دیش کے لئے ہندوستان کی تحریک کا خاتمہ ہو جاتا۔

امریکہ کا موقف تھا کہ ہندوستان کا مشرقی پاکستان پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ امریکی قرارداد کے حق میں11، جبکہ مخالفت میں صرف دو ووٹ آئے، ایک روس کا اور دوسرا اس کی طفیلی ریاست پولینڈ کا۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر روس نے اسے ویٹو کر دیا۔ اس پر نکسن بہت ناراض ہوئے اور ان کے کہنے پر جارج بش نے4دسمبر کو ایک اور ملتی جلتی قرارداد پیش کر دی، جس پر ایک بار پھر ہندوستان کے لئے وہی شرمناک صورتِ حال پیدا ہو گئی، یعنی حمایت میں11اور مخالفت میں دو ووٹ آئے۔ روس نے اسے بھی ویٹو کر دیا ۔ اس پر امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے روس کو خبردار کیا کہ اس کے رویے سے دونوں ممالک کے درمیان خلیج پیدا ہو رہی ہے۔ خود نکسن نے روس کے وزیر خارجہ کو ایک خط میں سختی سے لکھا کہ روس پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف ہندوستان کی جارحیت کی حمایت کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں تعطل کی صورتِ حال سے نکلنے کے لئے مراکش، تنزانیہ اور زیمبیا نے مشورہ دیا کہ معاملہ جنرل اسمبلی میں لے جایا جائے، جہاں اسے بھاری اکثریت حاصل ہو گی،چنانچہ7دسمبر1971ء کو 104 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور ہونے وا لی اس قرارداد کے وقت بھی ہندوستان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جس میں جنگ بندی اور فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ دیگر الفاظ میں اس قرارداد کے ذریعے بنگلہ دیش کو آزاد کرانے کے بھارتی موقف کو تقریباً پوری دُنیا کی طرف سے رد کر دیا گیا تھا۔قرارداد کی مخالفت میں بھوٹان جیسے چھوٹے مُلک اور روس کی طفیلی ریاستوں کو ملا کر صرف 11ووٹ آئے تھے۔اِس دوران ہندوستان نے عالمی رائے عامہ کو پس پشت ڈال کر بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا تھا اور اس کی فوجیں ڈھاکہ تک پہنچنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں۔ادھر دو قراردادیں مسترد کر دیئے جانے کے باعث امریکہ اور روس کے تعلقات میں شدید تناؤ آ گیا تھا۔

نکسن کو ہندوستان پر شدید غصہ تھا اور اس نے ساتویں بحری بیڑے کو بنگال کا رُخ کرنے کی ہدایات جاری کر دی تھیں۔(جس کے جواب میں ولادی واسٹک سے روس کا بحری بیڑہ بھی بحر ہند کی جانب روانہ ہو چکا تھا،جبکہ چین کی طرف سے لداخ کی جانب سے ہندوستان پر حملے کے امکانات کے پیش نظر روس نے چین کے ساتھ اپنی سرحدوں پر بھاری تعداد میں فوجیں لگا دی تھیں)۔ پاکستان نے امریکہ سے بحیرۂ عرب اور خلیج بنگال میں بحری بیڑہ بھیجنے کی باضابطہ درخواست 13دسمبر 1971ء کو امریکہ میں اپنے سفیر جنرل رضا کی معرفت کی تھی۔ خود یحییٰ خان نے بھی ذاتی طور پر نکسن سے یہی درخواست کی تھی، جس کے جواب میں بتایا گیا تھاکہ بحری بیڑہ 16دسمبر کو خلیج بنگال پہنچ جائے گا۔ یہ تھا وہ تناظر جس میں 15دسمبر کو پولینڈ کی قرارداد پیش کی گئی، جس کے خاص خاص نکات یہ ہیں:شیخ مجیب الرحمن کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے اور ان کی سربراہی میں اقتدار قانونی طور پر منتخب نمائندوں کے حوالے کر دیا جائے۔ پاکستان کی فوج کو وہاں سے ہٹا لیا جائے۔ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو مغربی پاکستان اور وہاں مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں مشرقی پاکستان منتقل کر دیا جائے۔اس وقت کے سیکرٹری خارجہ سلطان محمد خان کی رائے میں، جس کا اظہار انہوں نے اپنی کتاب ’’ایک سفارت کار کی یاد داشتیں‘‘ میں کیا ہے۔ قرارداد کی منظوری ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھی۔ معروف سفارت کار جمشید مارکر نے اپنی کتاب ’’کوائٹ ڈپلومیسی‘‘ میں لکھا ہے کہ اس قرارداد کا مطلب اپنی زمین کے بڑے حصے پر قبضے کو ایک بین الاقوامی فورم پر قانونی طور پر قبول کرنا اور منظور کرنا تھا، جس کی دُنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کی نظر میں خود مختاری کے حق سے دستبرداری کا تقاضا کرنے والی یہ قرارداد جس قدر ذلت آمیز تھی، اس قدر ناقابلِ تصور اور ناقابل منظوربھی تھی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ قرارداد کو مسترد کرنے کا فیصلہ سلامتی کونسل کے چیمبر میں داخل ہونے سے قبل ہی کر لیا گیا تھا اورذوالفقار علی بھٹو نے جو کچھ پھاڑا وہ قرارداد کی نقل نہیں، بلکہ ان کے اپنے نوٹس اور دیگر فالتو کاغذات تھے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم