قانون کا امتیازی نفاذ۔۔۔خطرناک رجحان

قانون کا امتیازی نفاذ۔۔۔خطرناک رجحان
 قانون کا امتیازی نفاذ۔۔۔خطرناک رجحان

  



شاید قارئین کو یاد ہو کہ جب ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ چل رہا تھا تو اُسے امریکہ بھیجنے کے لئے مختلف حیلے بہانے تلاش کئے جا رہے تھے۔ اُنہی دِنوں مَیں نے ’’ریمنڈ تیرے جاں نثار، بے شمار بے شمار‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا، جس میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ امریکی جاسوس کو جلد ہی باعزت طور پر امریکہ بھیج دیا جائے گا، اب جبکہ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب سامنے آ چکی ہے اور اُس نے یہ بھانڈا بھی پھوڑ دیا ہے کہ اُسے باہر بھیجنے کے لئے مقتولین کے ورثا سے ڈیل پر جو23کروڑ روپے خرچ کئے گئے تھے،وہ بھی امریکہ نے نہیں، پاکستانی حکومت نے ادا کئے تھے تو مَیں سوچ رہا ہوں پاکستان میں کیا کچھ ہوتا رہا ہے؟مجھے رہ رہ کر وہ امریکی ڈگلس بروکس یاد آ جاتا ہے جو امریکی ادارے ایشیا، فاؤنڈیشن کی طرف سے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں قائم انگریزی زبان کے شعبے کا سربراہ مقرر ہوا تھا اور دو سال اُس کا اُٹھنا بیٹھنا میرے ساتھ رہا تھا۔ وہ جب بازار جاتا یا کسی دفتر میں اُسے کام پڑ جاتا تو چند روپے خرچ کر کے جب اُس کا ہر کام ہو جاتا تو اُس کا ایک جملہ جو اب اُس کا تکیہ کلام بن چکا تھا فوراً نکلتا۔۔۔ Every Thing is Possible in Pakistan۔۔۔یعنی پاکستان میں ہر چیز ممکن ہے۔ ریمنڈ ڈیونس کے بعد بھی کتنے ہی واقعات ایسے ہوئے ہیں، جو ڈگلس بروکس کے اس جملے کو سچ ثابت کرتے ہیں۔

ہمیں مان لینا چاہئے کہ ہم معاشرے کو اچھی مثالیں نہیں دے سکے۔ ہمارا حال اُس دودھ کے جلے جیسا ہے جو چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔اب کسی کو بھی یقین نہیں کہ ہم بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دے سکیں گے۔ سب کو ریمنڈ ڈیوس یاد آ جاتا ہے، جیسے وہ دن دیہاڑے بندے مار کر بآسانی امریکہ چلا گیا تھا، اُسی طرح یہ بھارتی جاسوس بھی سب کچھ تسلیم کر لینے کے بعد رہائی پا جائے گا۔ ہم دوسروں کے مجرموں کو تو کیا سزا دیں گے، اپنے لوگوں کو امریکہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دینے پر بھی سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔حافظ سعید ہوں یا صلاح الدین ہمیں جو فرمان ملتا ہے، اُس کے مطابق عمل کرتے ہیں، سو حال یہ ہے کہ مُلک میں یقین نام کی کوئی شے باقی نہیں رہی۔ حکمران کچھ بھی کہتے ر ہیں، عوام یہی سمجھتے ہیں کہ سب کچھ دھوکہ دینے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ عوام کے اِس تاثر کو داخلی واقعات مزیدتقویت پہنچاتے ہیں۔ قانون کی عملداری کے لئے اب صرف ایک روزن بچا ہے، جس کا نام سپریم کورٹ ہے۔ فوج نے جب سے سیاسی معاملات کو اپنے لئے شجر ممنوعہ قرار دیا ہے، باقی سپریم کورٹ ہی بچ گئی ہے۔ اب ہر کوئی یہ دہائی دیتا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان فلاں یا فلاں واقعہ کا ازخود نوٹس لیں۔ یہ حکومت کی بدترین ناکامی ہے، مگر شاید سیاسی حکمرانوں کو اس کی ذرہ بھرپرواہ نہیں یا پھر اُنہیں پاناما کیس نے اِس قدر دباؤ میں رکھا ہوا ہے کہ وہ ایسے کسی مسئلے میں پڑناہی نہیں چاہتے۔ اس پالیسی کی وجہ سے یہ تاثر گہرا ہوتا چلا جارہا ہے کہ مُلک میں قانون نام کی کوئی شے موجود نہیں۔

مثلاً اس بات کا کوئی کیسے دفاع کرے گا کہ بلوچستان اسمبلی کے رکن عبدالمجید اچکزئی دن دیہاڑے ایک پولیس سارجنٹ کو کچلنے کے بعد کئی دن تک آزاد پھرتے رہے۔ کیا یہ واقعہ جو سوشل میڈیا اور پھر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے گھر گھر پہنچ گیا تھا اور جسے دیکھ کر ہر شخص کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے کہ کیسے بہیمانہ طریقے سے ایک پولیس والے کو کچلا گیا، اس قابل تھا کہ اسے اتنے دن نظر انداز رکھا جاتا۔ اثرورسوخ کا یہ عالم تھا کہ سب کے سامنے اور موجودگی میں ہونے والے اس واقعہ کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف کاٹی گئی۔ مقصد یہ تھا کہ چند دنوں میں اس پر مٹی ڈال کر سب کچھ برابر کردیا جائے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے بھانڈہ پھوڑ دیا۔ اس کیس میں تمام حکومتی ادارے اور بااثر اشرافیہ بری طرح بے نقاب ہوئی۔ یہ واضح ہوگیا کہ مُلک کو جنگل کے قانون کی طرز پر چلایا جارہا ہے۔ مثلاً آئی جی بلوچستان ، جن کی سروس صرف اڑھائی ماہ رہ گئی ہے، اس میں بری طرح بے نقاب ہوئے۔ ان کی فورس کا ایک فرد سب کے سامنے ماردیا گیا، انہیں اس کی فوری رپورٹ بھی مل گئی اور یہ بھی علم ہو گیا کہ اسے ایم پی اے عبدالمجید اچکزئی نے اپنی گاڑی سے کچلاہے، مگر اس کے باوجود انہوں نے ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کرنے کی ہدایت دی۔ شاید وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے اچکزئی خاندان کی صوبے میں کلیدی اہمیت کے باوجود اس کی خواہشات کے برعکس کام کیا تو انہیں منصب سے ہٹا دیا جائے گا۔ یہ کسی آئی جی کی سطح کے افسر کی سب سے بڑی شکست ہے، تاہم جب دباؤ بڑھا تو عبدالمجید اچکزئی کو گرفتار کر لیا گیا، مگر افسوس کہ اس کے بعد بھی پولیس دباؤ سے نہ نکل سکی، ملزم کو نہ صرف حوالات میں بیڈ، ٹی وی اور ائرکنڈیشنرکی سہولتیں دی گئی، بلکہ جب عدالت میں پیشی کے لئے لایا گیا تو وہ ایک آزاد شخص کی حیثیت سے بغیر ہتھکڑیوں کے پیش ہوا۔ اس نے میڈیا کو دھمکیاں دیں، بدمعاش کہا۔ کاش اس صورتِ حال کا نوٹس کوئی اور نہیں وزیر اعظم نواز شریف لیتے، مگر وہ کیسے لے سکتے تھے۔ محمود خان اچکزئی کو وہ بھلا کیسے ناراض کرسکتے تھے۔ سوجب کہیں سے عوام کو انصاف ملتا نظر نہ آیا تو سوشل میڈیا اور عام میڈیا کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان سے سوموٹو ایکشن لینے کی اپیل کی گئی۔

اس مُلک میں کسی بااثر کو قانون کے شکنجے میں لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ جب چیف جسٹس نے سوموٹو ایکشن لیا تو فوراً ایک صلح نامہ سامنے آگیا، جو غالباً عدالتِ عظمیٰ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک کوشش تھی۔ اُس میں لکھا گیا تھا کہ مقتول سارجنٹ کے ایک بیٹے کو سرکاری ملازمت دی جائے گی اور سرکاری گھر بھی الاٹ کیا جائے گا۔ کوئی پوچھے کہ ایک ایم پی اے سرکاری ملازمت دینے کا معاہدہ کیسے کر سکتا ہے۔ اس کا تو صاف مطلب یہ ہے کہ حکومت اس میں ایک قاتل ایم پی اے کی پوری سپورٹ کر رہی ہے، تاہم سارجنٹ کے ورثاء نے ایسے کسی بھی معاہدے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی سی زیارت نے مقتول کے سرکاری واجبات دلانے کے لئے سادہ کاغذ پر دستخط کرائے تھے جس پر بعدازاں صلح کی تحریر لکھ دی گئی۔گویا ڈی سی زیارت بھی اس فراڈ میں ملوث تھا۔ قانون کے امتیازی ہونے کا تاثر اِس لئے بھی زیادہ پھیلا کہ انہی دِنوں ایم این اے جمشید دستی کو بھی عدالت میں پیش کیا جاتا تھا۔ دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑی لگائے اور سخت پہرے میں اُس کی پیشی ہوتی۔۔۔مجید اچکزئی کی پیشی کا جمشید دستی کی پیشی سے موازنہ کیا جانے لگا تو نزلہ کسی اور پر نہیں، بلکہ حکومت پر گرایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب جمشید دستی نے حالیہ پیشی میں اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی رو رو کر دہائی دی تو پورے مُلک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جمشید دستی پلک جھپکنے میں ایک ایسا مظلوم کردار بن گیا، جس کے ساتھ ہر کوئی ہمدردی کرنے لگا، پھر سیاسی تناظر میں بات کچھ اور اوپر چلی گئی اور عمران خان نے حسین نواز کی تصویر پر واویلا مچانے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جمشید دستی پر جو ظلم ہو رہا ہے، اُس پر اُن کی زبانیں گنگ ہو چکی ہیں۔وطن عزیز میں یہ تاثر بہت گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہاں غریب کے لئے ایک اور امرا کے لئے دوسرا قانون موجود ہے، بلکہ امرا کے لئے سرے سے کوئی قانون ہے ہی نہیں۔ یہ بڑی خطرناک صورتِ حال ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اس امتیاز سے معاشرے میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے تو غلط نہیں کہتا۔ ہم تو اُس دین کے پیرو کار ہیں، جس کا درس یہ ہے کہ انصاف کرو، کیونکہ تم سے پہلے کی قومیں اسی لئے تباہ و برباد ہوئیں کہ انہوں نے قانون کو مختلف خانوں میں بانٹ رکھا تھا۔ بات ریمنڈ ڈیوس سے شروع ہوئی تھی تو ایک خیال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ تو اپنے ایک قاتل کو چھڑا کر لے گیا،مگ ہم عافیہ صدیقی کو امریکیوں کی قید سے نہیں چھڑا سکے، شاید اِس لئے ہم میں اتنا دم خم ہی نہیں کہ دُنیا کی بڑی طاقتوں کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہو سکیں۔

مزید : کالم


loading...