سود رپر رقم اٹھا کر ملائشیا جانے اور ڈی پورٹ ہونیوالے 4بچوں کے باپ نے خودکشی کرلی

سود رپر رقم اٹھا کر ملائشیا جانے اور ڈی پورٹ ہونیوالے 4بچوں کے باپ نے خودکشی ...
 سود رپر رقم اٹھا کر ملائشیا جانے اور ڈی پورٹ ہونیوالے 4بچوں کے باپ نے خودکشی کرلی

  



لاہور (اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے)سود کی رقم ادا کرنے میں ناکامی پر 4بچوں کے باپ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔بتایا گیا ہے کہ گلبرگ کچی بستی کا رہائشی اشعرعرف باؤپیشے کے اعتبار سے حجام تھااور بیرون ملک جانے کا خواہش مند تھا۔اسی غرض سے اس نے ایک شخص سے سود پر قرض حاصل کیا اورملائشیا چلا گیا۔بیرون ملک وہ مستقل نہ ہو سکا اور ملائشین حکومت نے اسے ڈی پورٹ کر دیا۔ اشعر نے جس شخص سے قرض لیا تھا اس نے سود کی ادائیگی کے لئے اس پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیااور تاخیر پر دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔بتایا گیا ہے کہ قرض خوا نے ہر روزاشعر کے گھر کے چکر لگانے شروع کر دئے تھے جس سے وہ اور اس کے اہلخانہ شدید ذۃنی کرب اور خوف کا شکار ہو کر رہ گئے تھے ۔ جمعرات کے روز بھی قرض خوا اپنی سود کی رقم لینے اشعر کے گھر پہنچ گیا اور دھمکیاں دیں تو اشعرنے دلبرداشتہ ہوکرگلے میں پھندہ ڈال کرخودکشی کرلی۔پو لیس نے نعش ضروری کا رروا ئی کے لئے مردہ خا نہ میں منتقل کر کے تفتیش شروع کردی ہے ۔متوفی کے کزن کے مطابق حکومت کو چاہئے کہ اس طرح کے سودخوروں کے خلاف سخت قانون بنایاجائے ۔ سودی کاروبارکی وجہ سے پہلے بھی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

مزید : علاقائی


loading...