لاوارث خیبرپختونخوا

لاوارث خیبرپختونخوا
 لاوارث خیبرپختونخوا

  



عید سے دو روز قبل جب میں شوگران کے اس ہوٹل میں پہنچا جو کیوائی سے آٹھ کلومیٹر اوپراس پہاڑی پر واقع تھا جہاں محکمہ جنگلات کے ریسٹ ہاوس میں بڑا سا ہیلی کاپٹر پر پھیلائے کھڑا تھا، ریسٹ ہاوس کا وسیع میدان کالی وردی والوں کے گھیرے میں تھا اور وی وی آئی پی موومنٹ کے ہاعث معمول کے مطابق اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ بتایا جا رہا تھا کہ وہاں خان صاحب اپنے دوستوں کے ساتھ موجود ہیں، وہ نتھیا گلی سے شوگران پہنچے تھے، اگلی صبح ریسٹ ہاوس کے جنگلے سے لگے ہوئے درجنوں لوگ ہیلی کاپٹر کے مسافر کو کہیں اور جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔

جب آپ ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہیں تو پھر آپ کو سڑکوں کی اہمیت کاپتا نہیں چلتا۔میں نے آخری روزوں میں شوگران جانے کے لئے حسن ابدال سے جی ٹی روڈ کو چھوڑااورہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور بالاکوٹ جیسے خوبصورت شہروں سے گزرتی ہوئی قراقرم روڈ کا سفر شروع کیا ، یہ ایک اچھی سڑک ہے جو بالاکوٹ کے بعدکیوائی ، پارس، کاغان، ناران ، لولو سر، بابوسر ٹاپ اور دیگر مقامات سے گزرتی گلگت تک چلی جا تی ہے۔ یہ سڑک وفاقی حکومت کے ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بنوائی ہے اورخیبرپختونخوا کی حکومت کا ڈس کریڈٹ یہ ہے کہ وہ اس سڑک پر ٹریفک کو رواں رکھنے میں بھی ناکام نظر آتی ہے جو سیاحوں کی نظر میں بیڈ گورننس کی انتہا ہے۔ میں نے شوگران سے سری پائے جاتے ہوئے ٹریک کو دیکھا، وہاں صرف جیپ ہی جا سکتی ہے اور دوسری طرف ناران سے عالمی سطح پر شہرت رکھنے والی جھیل سیف الملوک کا ٹریک بھی انتہائی بری حالت میں ہے، یہاں بھی جیپ کے سوا کوئی گاڑی نہیں جا سکتی، جواز دیا گیاکہ لوگ یہاں پتھروں میں آتے ہیں، انہیں ایسے ہی ٹریکس پر ایڈونچر کرنا چاہئے۔میں نے یہ بات مان لی کہ لو گ آسمان کو چھوتے ہوئے خوبصورت پہاڑوں ا ور ہر چند کلومیٹر کے بعد شورمچاتی آبشاروں کے لئے ہی وہاں آتے ہیں، چلیں جھیل کا ٹریک ایک ایڈونچرہی سہی مگر کیا کوئی وضاحت دی جا سکتی ہے کہ اس آٹھ سے نو کلومیٹر بڑے بڑے پتھروں بھرے ٹریک میں پانچ، سات ایسے مقامات کیوں ہیں جہاں سے ایک وقت میں صرف ایک گاڑی ہی گزر سکتی ہے۔ حکومت کو اچھی طرح علم ہے کہ ہر سیزن میں جھیل پر جانے والوں کی تعداد سینکڑوں اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہوجاتی ہے۔ عید کے موقعے پر اتنی زیادہ جیپیں ان پانچ سات ’ باٹل نیکس‘میں پھنس جاتی ہیں کہ ان رنگ برنگیوں کو گنا بھی نہیں جا سکتا ،یوں آدھے گھنٹے کا راستہ تین ، تین گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ حکومت بہت آسانی کے ساتھ سیزن سے قبل گلیشئر کو کاٹتے ہوئے راستہ ٹووے یعنی دو رویہ کر سکتی ہے، موڑوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، پہاڑ کو تھوڑا سے کھرچتے ہوئے راستہ کھلا کیا جا سکتا ہے مگر کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ یہ المیہ صرف جھیل سیف الملوک کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اگر آپ لولو سر یا بابو سر ٹاپ کی طرف جائیں تو اس خوبصورت سڑک پر بھی جہاںآبشار آتی ہے وہاں راستہ خراب ہوجاتا ہے، گاڑیاں آپس میں پھنس جاتی ہیں۔ میں نے پوچھا یہ ایسا کام ہے جوچھوٹے موٹے افسران کے حکم سے ہی ہو سکتا ہے، پوچھا، کیوں نہیں ہوتاہم سیاح یا خیبرپختونخوا کے عوام دونوں جانتے ہیں کہ یہ کام کیوں نہیں ہوتا۔شوگران سے اڑ کر نامعلوم مقام کی طر ف جانے والے عمران خان صاحب کہتے ہیں کہ سڑکیں عام آدمی کا مسئلہ نہیں ہیں۔

محمد حنیف اس جیپ کا ڈرائیور تھا جسے میں نے جھیل پر جانے کے لئے پچیس سو روپے کرائے پر حاصل کیا تھا، میرا اس کے ساتھ وعدہ تھا کہ میں جھیل پر گھنٹہ ،ڈیڑھ گھنٹہ ہی رکوں گا تاکہ وہ واپس آ کر دوسری سواری لے سکے اور عید کما سکے مگر جاتے ہوئے راستہ دوگنے اور واپسی پر ٹریفک جا بجا جام ہونے کی وجہ سے چھ گنا وقت یعنی تین گھنٹو ں میں طے ہوا۔ محمد حنیف نے کہا کہ وہ اس بیڈ گورننس کی وجہ سے صبح آٹھ بجے جا کر دو بجے واپس لوٹا ، میں اس دوران ایک ٹرپ اور لگا لیتا تو مزید اڑھائی ہزار اس عید پر جیب میں ہوتے۔میں نے جھیل سیف الملوک کو قریبا اٹھارہ ، بیس برس کے بعد دیکھا اور میرا دل بجھ کے رہ گیا۔ سیف الملوک کے بارے میں ہم پڑھا کرتے تھے کہ چاندنی راتوں میں یہاں پریا ں اترا کرتی ہیں مگر وہاں گند گی ہی گندگی ہے، تجاوزات ہی تجاوزات ہیں،وہاں کسی نے دو جگہوں پر مسجد یں تو بنادی ہیں مگر خواتین اوربچوں تک کے لیے ٹوائلٹ موجود نہیں، میں نے وہاں گائیں ، بکریاں چرتی دیکھیں، ان میں سے کچھ کے ساتھ سیلفی بنائی توایک نے جھیل کے پانی میں’ گائے موتر‘ نچھاور کرنا شروع کردیا، دور دور تک گوبر پھیلا ہوا تھا، جھیل کے کناروں پر خالی ہونے والی بوتلیں اور چپس وغیرہ کے پیکٹ تیر رہے تھے، جھیل سے تھوڑا سا پرے ہو کے دیکھا تومجھے محسوس ہوا کہ یہ سیرگاہ نہیں بلکہ اوپن ائیر ٹوائیلٹ ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگرصوبائی حکومت راستے نہیں بنا سکتی تو پولیس اہلکار ہی ان ٹریکس پر تعینات کر دے جو ٹریفک کنٹرول کرتے رہیں، پولیس والے کم ہیں تو سیزن کے دنوں بالخصوص عیدین پر عارضی ملازمین ہی ہائر کر لے مگر کسی کو کچھ پروا ہ نہیں کہ خیبرپختونخوا کے خوبصورتی کے مریض وہاں سیزن میں آنے کے بعد بیڈ گورننس کی وجہ سے ٹریفک جام کے مریض بن جاتے ہیں۔ عید کے موقعے پر ناران پختون نوجوانوں سے بھرا ہوا تھا، مری کے برعکس فیملیز بہت کم تھیں، ہلڑ بازی تھی اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا، پشاور کے پٹھان اس لئے بھی زیادہ تھے کہ وہاں مولانا پوپلزئی ہر مرتبہ ایک روز پہلے ہی عید کروا دیتے ہیں اور وہ نماز پڑھ کے کاغان، ناران کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ مجھے ناران سے خودڈرائیو کرتے ہوئے براہ راست لاہور واپس آنا تھا اور گوگل میپ بتا رہا تھا کہ میں دس گھنٹوں میں لاہور پہنچ سکتا ہوں۔ سب سے پہلے برا یہ ہوا کہ اسی روز جھیل سیف الملوک کے ٹریک کی بیڈ گورننس نے میرے کئی گھنٹے ضائع کر دئیے۔ سہ پہر تین بجے لاہور کی طرف سفر شروع کیا، کاغان ویلی میں ٹراوٹ انجوائے کی اور جب بالاکوٹ کی طرف بڑھ رہا تھا تو پارس کے قریب دریائے کنہار کے پل پر ٹریفک بلاک تھی، کاغان اور بالاکوٹ دونوں اطراف میلوں لمبی قطاریں تھیں، وہی پہاڑ جو دن کو کسی دلہن کی طرح خوبصورتی کا مرقع لگ رہے تھے رات کے اندھیرے میں کسی ہیبت ناک جن کی طرح ڈرا رہے تھے۔ میں نے ناران سے حسن ابدال سے کچھ پہلے ضلع اٹک سے پنجاب کی حد ودشروع ہونے تک خیبرپختونخوا کا یہ راستہ محض بیڈ گورننس کی وجہ سے دس گھنٹوں میں طے کیا۔ مجھے جہاں رات آٹھ سے پہلے ہونا چاہئے تھا وہاں رات ایک بجے پہنچا مگر خیبرپختونخوا کے گیٹ سے نکلنے کے بعد پنجاب کی سڑکیں تھیں، مجھے جس سڑک پر اپنی نو برس پرانی مگر آرام دہ گاڑی ریڑھا لگ رہی تھی، پنجاب میں داخل ہوتے ہی وہ اسی سڑک پر تیرنے لگی،ہاں، یہاں مجھ سے تیس روپے ٹیکس ضرور لیا گیااور اس کے بعد کا راستہ موٹر وے تھا ، میں نے جو راستہ حسن ابدال تک دس گھنٹوں میں طے کیا تھا اس سے دوگنے سے بھی زیادہ کلومیٹر پانچ گھنٹوں میں طے ہو گئے تھے، میں صبح چھ بجے گھر پہنچ پایا تھا۔

جنت نظیر تو اپنے کشمیر کو کہا جاتا ہے مگر میرا خیبرپختونخوا بھی کسی طرح کم نہیں ہے، میں نے اپنی عید کے تیسرے روز لاہور واپس لوٹتے ہوئے ایک مرتبہ پھرناران جانے والوں کی میلو ں لمبی قطاریں دیکھیں ، ہر آبشار پر ٹریفک بلا ک تھی اور جس اتھارٹی نے اس ٹریفک کو منظم کرنا تھا وہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ میں نے محمد حنیف سے پوچھا،تمہارے صوبے کی حکومت نے سڑکیں نہیں بنائیں تو کیا پولیس کو ٹھیک کر دیا ہے، جواب ملا، تبدیلی یہ آئی ہے کہ جو کام اے این پی کے دور میں پولیس والا پچاس روپے لے کے کر دیتا تھا اب اس کے پانچ سو لیتاہے۔ تعلیم کی بات ہوئی تو میں نے بابوسر ٹاپ تک بچوں کر ہر آبشار پر ٹریفک میں پھنس جانے والی ہر گاڑی سے دس ، دس روپے کی بھیک مانگتے دیکھا۔ میں تعلیم اور صحت کیا ڈسکس کروں کہ میں تو ایک سیاح اور ایک مہمان کے طور پر شمالی علاقہ جات میں گیا تھا مگر وہاں کی حکمران اتھارٹی کا خیال ہے کہ سڑکیں اہم نہیں ہوتیں ۔میں اب سیزن میں شمالی علاقہ جات کی طرف جاتے ہوئے ایک بار ضرور سوچوں گا کہ کیا میں خیبر پختونخوا کے پہاڑوں پر ملنے والی تفریح ،خوشی اور انجوائے منٹ کے ساتھ وہاں ملنے والی ذلت،خواری اور تکلیف کے لئے تیار ہوں؟

مزید : کالم


loading...