چین سے سٹریٹجک شراکت داری ، روس سے مضبوط تعلقات پر اظہار اطمینان ، امریکہ بھارت اعلامیہ ، کشمیر میں مظالم پر خاموشی مایوس کن ہے : نواز شریف

چین سے سٹریٹجک شراکت داری ، روس سے مضبوط تعلقات پر اظہار اطمینان ، امریکہ ...

  



اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک228 ایجنسیاں )وزیراعظم نوازشریف نے وزارت خارجہ کوملک کی خارجہ پالیسی کوعصرحاضرکے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ’’گائیڈلائنز‘‘دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے پرامن ہمسائیگی کے اصول پر کاربند رہے گامگر قومی سلامتی پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا، نہتے کشمیریوں کی جدوجہد کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے ۔وزیراعظم نوازشریف کے زیرصدارت دفترخارجہ میں اہم اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔اجلاس میں دنیابھرمیں ہونے والے حالیہ پیشرفت کے تناظرمیں خارجہ پالیسی کے تمام پہلوؤں کاجائزہ لیاگیا۔ مشیرخارجہ سرتاج عزیز، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور تمام ڈیسک کے ڈائریکٹر جنرلزنے اہم خارجہ امورکے بارے میں بریفنگ دی ۔شرکا کو پاک بھارت تعلقات، بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں ،کلبھوشن یادیو کیس میں ہونے والی پیش رفت ،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور افغانستان سرحدی امور اور ٹرمپ مودی اعلامیہ کے خطے پر اثرات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔وزیراعظم کو پاکستان، افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات ،سرحدی معاملات اور وزارت خارجہ کے اقدامات کے بارے میں بریف کیاگیا ۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ٹرمپ مودی مشترکہ اعلامیہ میں امریکہ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش عملًا واپس لے لی ہے ، امریکہ نے خطے میں قیام امن میں کردار ادا کرنے کا موقع ضائع کر دیا ۔وزیراعظم نے بدلتی صورتحال پر وزارت خارجہ کو گائیڈلائنز دیں۔سفارتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملکی سلامتی کویقینی بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گےِ پاکستان خلیج میں کشیدگی کے خاتمے اورمفاہمتی کوششوں کوجاری رکھے گا۔ اجلاس میں افغانستان میں امن کیلئے چین کی سفارتکاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے امت مسلمہ کے اتحاد کی کوششیں جاری رکھنے اور سعودی قطر تنازع میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ بھی کیاگیا ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے فوری حل کیلء سفارتکاری کو مزید متحرک کیا جائے گا ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمسایوں سے پرامن تعلقات چاہتا ہے مگر اپنی سلامتی پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ہم خطے میں امن و استحکام کیلئے پرامن ہمسائیگی کے اصول پر کاربند رہیں گے ۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام کی جدوجہد کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا ، افغانستان میں امن کیلئے چین کی مصالحتی کاوشوں کا خیر مقدم کرتے ہیں ، خلیج کی صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے پاکستان بدستورکردار ادا کرتا رہے گا ۔ پاکستان خطے بھر سمیت خاص طور پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور خوشگوار تعلقاتکا خواہاں ہے لیکن پرامن ہمسائیگی کے ساتھ اپنے دفاع اور سلامتی حوالے سے بھی مکمل طور پر آگاہ ہیں ۔ سرتاج عزیز نے خطے کی سفارتی اور سلامتی کی صورت حال پر تین گھنٹے تک تفصیلی بریفنگ دی جس میں افغانستان ‘ ایران اور بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات پر نواز شریف کو آگاہ کیا گیا ۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے ساتھ ملاقات اور ڈرون طیاروں سمیت اسلحہ کی فروخت کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ بھارتی ایل او سی اور مقبوضہ کشمیر میں جارحیت پر اظہار تشویش کیا گیا اور اتفاق کیا گیا کہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کو فروغ دینے کے لئے سفارتی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا ۔ فغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ سسٹم اور باڑ لگانے پربھی بریفنگ دی گئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ کوئی افغان باشندہ بائیومیٹرک سسٹم کے علاوہ پاکستانی سرحد کے اندر داخل نہیں ہو سکے گا اجلاس میں سعودی عرب اور قطر کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ بھی زیر بحث آیا جس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب اور قطر کے ساتھ اچھے اور برادرانہ تعلقات ہیں اور پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ حل کرنے کے لئے مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا ۔ اجلاس میں پا ک چین تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی اور پاک افغان حالات ساز گاری کے لئے چین کے کردار اور اس کی کوششوں کو سراہا گیا ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے تمام امور پر اطمینان کا اظہار کیا اور تمام امور پر جامع حکمت عملی بنا کر دفتر خارجہ کو رپورٹ وزیر اعظم ہاؤس میں پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ امریکہ بھارت مشترکہ اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموشی مایوس کن ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا جائے پر امن ہمسائیگی اور تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے حل اولین ترجیح ہے معاشی ترقی کیلئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو موثر خدمات فراہم کی جائیں وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کیلئے مذاکرات کی ضرورت پربھی زور دیا ۔ وزیراعظم نے چین کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری ‘ روس کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات اور امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک مذاکرات کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم نے ایس سی او رکنیت اور وسط ایشیای ممالک کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور معاسی بہتری کا بھی ان کامیابیوں میں بڑا ہاتھ ہے وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کیلئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے افغانستان سے متعلق اقدامات کو حتمی شکل دی جائے اور مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا جائے پر امن ہمسائیگی اور تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے حل ہماری اولین ترجیح ہے انہوں نے افغان تعلقات کی بہتری کیلئے چین کے کردار کو سراہا اور افغانستان کے ساتھ سرحد پار دہشت گردی روکنے کیلئے لائحہ عمل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سرحد پار دہشت گردی روکنے کیلئے لائحہ عمل افغان صدر کے ساتھ چین میں ہونے والی گفتگو میں طے پایا تھا۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ معاسی ترقی کیلئے بیرون ملک پاکستانیوں کو موثر خدمات فراہم کی جائیں وزیراعظم نے طبی بنیادوں پر ویزوں کی معطلی کا بھی نوٹس لیا ہنگامی بنیادوں پر طبی سہولیات کی مناسبت قیمتون پر فراہمی کی ہدایت کی اور کہا کہ اعضاء کی پیوندکاری کیلئے مریضوں کو مناسب سہولایت فراہم کی جائیں قبل ازیں وزیراعظم نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کو فون کیا اور کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھے گا خوبصورت ترین علاقہ ہے سیاح اس سال بھی کشمیر کا رخ کررہے ہیں آزاد کشمیر حکومت سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کرے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے ساتھ ملاقات اور ڈرون طیاروں سمیت اسلحہ کی فروخت کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ بھارتی ایل او سی اور مقبوضہ کشمیر میں جارحیت پر اظہار تشویش کیا گیا ۔

نواز شریف

مزید : صفحہ اول


loading...