درخواستیں دینے والے تمام یاتریوں کو ویزہ جاری کردیا،صدیق الفاروق

درخواستیں دینے والے تمام یاتریوں کو ویزہ جاری کردیا،صدیق الفاروق

  



لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پاکستان سکھ گورو دوارہ پر بندھک کمیٹی کا اجلاس پردھان سردار تارا سنگھ کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں بھارت کی طرف سے گورو ارجن دیو جی کے شہیدی دن8جون اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی 28جون کو سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے سے روکنے پر شدید مذمت کرتے ہوئے قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا یہ اقوام متحد ہ کے چارٹر بھارت اور پاکستان کے دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی اور غیر انسانی عمل ہے۔ اجلاس میں چیئرمین محمد صدیق الفاروق نے بطور کنوینئر شرکت کی ،سیکرٹری جنرل گوپال سنگھ چاولہ ،سردار رمیشن سنگھ اروڑا، سردار بشن سنگھ ،سردار مہندر سنگھ ،سردار بھگت سنگھ ،سردار امر جیت سنگھ اوربورڈ کے ایڈیشنل سیکرٹری شرائز محمد طارق خان ، ڈپٹی سکرٹری شرائز عمران گوندل نے شرکت کی۔بعد ازاں چیئرمین بورڈ محمد صدیق الفاروق نے پردھان سردار تارا سنگھ اور دیگر سکھ رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ویزوں کے لیے درخواستیں دینے والے تمام یاتریوں کو ویزہ جاری کردیا اور انکے استقبال قیام و تعام اور سفر کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے لیکن بھارتی حکومت نے کسی چیز کا لحاظ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ تمام ممبرممالک ،دولت مشترکہ ،آسیان ،او آئی سی ،سمیت تمام بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرتا ہے اس کے خلاف ایکشن لیں،انہوں نے کہا کہ اجلاس نے دفتر خارجہ کی طرف سے بھارت کے خلاف بر وقت درعمل ظاہر کرنے اور بھارتی ڈپٹی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ دینے کی تعریف کی ۔اجلاس میں انڈین ہٹ دھرمی کے خلاف آئندہ احتجاجی مظاہر کا اعلان کیا جس کا جلد عملی نمونہ پیش کیا جائے گاجبکہ دنیا بھر کی سکھ تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ وقتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر عملی اقدامات کریں اوریہ معاملہ ہر فورم پر اٹھائیں اور بھارتی حکومت کی سوشلزم کا پول کھول کر دنیا کو اسکا اصل چہرہ دکھائیں ۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین نے کہا کہ کہ انڈیا کی جانب سے سکھ یاتریوں کو روکنے کے پیچھے کوئی اور مقاصد ہیں بھارتی حکومت کی اپنے ہی ملک کی اقلیتوں کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اور اسی وجہ سے دنیا بھر میں اسکی ذلت ورسوائی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔سکھ رہنماؤں نے میڈیا کے مثبت کردار کی بھر پور الفاظ میں تعریف کی ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...