پنجاب: ماتحت عدالتوں میں 23لاکھوں 35ہزار 38مقدمات زیر التوا، 2برسوں میں 32لاکھ سے زائد مقدمات نمٹائے گئے

پنجاب: ماتحت عدالتوں میں 23لاکھوں 35ہزار 38مقدمات زیر التوا، 2برسوں میں 32لاکھ ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ کی ستمبر 2015ء سے مئی 2017ء تک زیر التواء مقدمات کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں 23لاکھ 35ہزار 38مقدمات زیر التواء ہیں جبکہ گزشتہ 2سالوں میں 32لاکھ 67ہزار92مقدمات کے فیصلے کئے گئے ، ماتحت عدالتوں میں گزشتہ 2 برسوں میں 32لاکھ 23ہزار 649نئے مقدمات دائر ہوئے جبکہ ماتحت عدالتوں میں 2015ء سے قبل مجموعی طور پر 23لاکھ 78ہزار 481مقدمات زیر التواء تھے،رپورٹ کے مطابق ماتحت عدالتوں میں ایک ہزار 788جوڈیشل افسران مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں ، اس تعداد کے مطابق پرانے مقدمات نمٹانے کے لئے 33سال کا عرصہ درکار ہے جبکہ زیر التواء مقدمات کو 2سال میں نمٹانے کے لئے 400 ججز بڑھانے کی ضرورت ہے ، رپورٹ کے مطابق اگر ججوں کی تعداد میں مزید 800 جوڈیشل افسروں کا اضافہ کر دیا جائے تو پرانے مقدمات 9ماہ میں نمٹائے جا سکتے ہیں، کارکردگی رپورٹ میں پنجاب کے 5بڑے اضلاع میں زیر التواء مقدمات کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ضلع لاہور ایک لاکھ اناسی ہزار 569زیر التواء مقدمات کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ فیصل آباد کی عدالتوں میں 85ہزار 511مقدمات زیر التواء ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضلع ملتان ماتحت عدالتوں میں 60ہزار 753مقدمات زیر التواء ہیں جبکہ راولپنڈی کی ضلعی عدلیہ میں 59ہزار 584مقدمات التواء کا شکار ہیں اور ضلع قصور میں 55ہزار 247مقدمات زیر التواء ہیں، رپورٹ میں پاکستان بھر کی عدالتوں میں جوڈیشل افسروں کے پاس زیر التواء مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں ججز کی کمی کی وجہ سے ایک جج کے پاس 748مقدمات زیر التواء ہیں ایک جوڈیشل افسر ہر ماہ اوسطاً 106مقدمات نمٹاتاہے جبکہ وفاقی دارالحکومت کی ضلعی عدلیہ میں ایک جج کے پاس 385مقدمات زیر التواء ہیں اور اسلام آباد کے ایک جوڈیشل افسر کے ماہانہ مقدمات نمٹانے کی اوسط تعداد 52ہے ، عدالتوں میں کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی ماتحت عدالتوں میں ایک جوڈیشل افسر کے پاس 363مقدمات زیر التواء ہیں اور خیبر پختونخواہ کی ماتحت عدلیہ میں ایک جوڈیشل ہر ماہ افسر اوسطاً 52مقدمات نمٹاتا ہے، کارکردگی رپورٹ میں مزید تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سندھ کی ضلعی عدلیہ میں ایک جج کے پاس اوسطاً 217مقدمات زیر التواء ہیں جبکہ سندھ کی ماتحت عدلیہ میں ایک جوڈیشل افسر کے ماہانہ مقدمات نمٹانے کی اوسطاً تعداد 47ہے جبکہ بلوچستان کی ماتحت عدالتوں کے ایک جج کے پاس اوسطاً 83مقدمات زیر التواء ہیں اور بلوچستان کی ماتحت عدالتوں کے ایک جوڈیشل افسر کے ماہانہ مقدمات نمٹانے کی اوسط تعداد 5ہے۔

مقدمات،رپورٹ

مزید : صفحہ آخر