سندھ میں نیب کے متبادل صوبائی احتساب لانے کا فیصلہ ، اینٹی کرپشن قوانین میں ترامیم کیلئے قرارداد منظور

سندھ میں نیب کے متبادل صوبائی احتساب لانے کا فیصلہ ، اینٹی کرپشن قوانین میں ...

  



کراچی (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) سندھ کابینہ نے نیب کی جگہ صوبائی سطح پراحتساب کیلئے اینٹی کرپشن قوانین میں ترامیم کیلئے قرارداد متفقہ طورپرمنظور جبکہ صوبہ میں نئی شوگرملزکے قیام پر بھی پابند ی عائد کردی ہے، اس بات کا فیصلہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا ، کابینہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ ورکرزویلفیئرفنڈزکے فنڈز میں کٹو تی پر وزیراعلیٰ سندھ کو معاملہ وزیراعظم نوازشریف کے سامنے اٹھانے کے فیصلے کی بھی توثیق کی ۔ جمعہ کے روزوزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونیوالے اجلاس میں تمام صوبائی وزراء ، مشیر، چیف سیکرٹری رضوان میمن، اسپیشل اسٹنٹس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ سندھ کابینہ کی مشاورت سے وزیراعلی نے محکمہ صنعت کی سفارش پر صوبے میں نئی شگر ملز لگانے پر پابندی عائد کردی، اس قسم کی پابندی پنجاب حکومت پہلے ہی لگا چکی ہے۔ کابینہ کو پابندی لگانے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ صوبے میں پہلے ہی شگر ملز زیادہ ہیں اور مزید لگیں تو روئی کی کاشت کم ہوجائے گی۔کابینہ نے صوبے میں نیب کی جگہ اپنا احتساب ادارہ قائم کرنے کیلئے اینٹی کرپشن کے قوانین میں ترمیم کی سفارشات بھی منظورکرلیں ،کابینہ کوبتایا کہ اینٹی کرپشن قوانین میں ترامیم اورنیب سندھ کے اختیارات ختم کرنے سے متعلق قانون سازی کی جائے گی اوراس کیلئے اسمبلی کا اجلاس پیرتین جولائی کوطلب کیا جائے گا ۔ کابینہ کو سندھ ریونیو بورڈ سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ سال 17۔2016 میں سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈز کی وصولی کیلئے مقررہ ہدف 765 ملین روپے کے ضمن میں مجموعی رقم 2170 ملین روپے وصول کیے گئے جو ہدف سے 1405 ملین روپے زائد ہیں، جس پر وزیراعلی نے سندھ ریونیو بورڈ کے کام کو سراہتے ہوئے کہا اس کا مقصدیہ ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کو بہت ہی کم فنڈز مہیا کرتی تھی، وہ اس مسئلہ پروزیراعظم نواز شریف سے بات کریں گے کہ وفاقی حکومت سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈز کی اخراجات سے سندھ کو بہت ہی کم پیسہ دیتی تھی۔ سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈز نے امسال سے وصولیاں جمع کرنا شروع کی ہیں۔ ویلفیئر فنڈز اور سندھ ریونیو بورڈ کے مقررہ ہدف کو حاصل کرنے پر کابینہ نے بھی وزیراعلی کو مبارک باد پیش کی۔محکمہ بلدیات کے وزیر جام خان شورو نے کابینہ کو بریفنگ میں بتایا کہ کے فور فیز 1 (260 ایم ڈی جی منصوبہ جون18 ء میں مکمل ہوگا، جس کیلئے 5 بلین روپے کی 12000 ایکڑ پر مشتمل زمین خریدی گئی ہے۔کراچی میں پانی کی ضرورت 1200 ملین گیلن ہے جس میں کینجھر سے 550 ملین گیلن جبکہ حب سے 100 ملین گیلن پانی ملتا ہے، جس پر وزیراعلی نے کے فور منصوبہ کوبغیر تاخیر مکمل کرنے کی ہدایت کی ، صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا کے فور منصوبے کیلئے 3.5 بلین روپے کے فنڈز مزید درکار ہیں، جس پر وزیراعلی نے کہا وفاقی حکومت سے آدھی رقم فراہم کرنے کی درخواست کرونگا۔ جام خان شورو نے کابینہ کو مزید بتایا کہ ہم لوکل کونسلوں کو فنڈز دے چکے ہیں اورانہیں ڈی واٹرنگ مشینری خریدنے کی اجازت بھی ہے تاکہ مون سون بارشوں کے پانی کی صحیح طریقے سے نکاسی ہوسکے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگومیں صوبائی وزیراطلاعات ناصرحسین شاہ اور وزیر قانون ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا سندھ میں نیا اینٹی کرپشن قانون منظوری کے بعد نافذ العمل ہوتے ہی نیب مقدمات اینٹی کرپشن کورٹس کو منتقل ہوجا ئینگے ۔ مشرف دور کے دو قوانین ختم کرچکے، نیب قانون کا سندھ میں دائرہ کار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،نیب کا قانون مشرف دور کا کالا قا نو ن ہے ،ہم اپنا نیا قانونی مسودہ لارہے ہیں ۔ نیب قانون انسانی حقوق کیخلاف اورعجب تھا جس میں نوٹس دینے اور رہا کرنیوالا ایک تھا ۔

سندھ کابینہ

مزید : صفحہ اول