کرم ایجنسی سرحدپر داعش مضبوط ہو رہی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

کرم ایجنسی سرحدپر داعش مضبوط ہو رہی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

  



راولپنڈی )مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کرم ایجنسی کیساتھ افغانستان میں داعش مضبوط ہو رہی ہے جوپاکستان میں امن کیلئے شدید خطرہ بن رہی ہے اس خطرے سے نمٹنے کیلئے پاک افغان بارڈر کو محفوظ بنایا جا رہا ہے ، پاکستان میں داعش کا کوئی منظم سیٹ اپ نہیں داعش کو پاکستان میں قدم نہیں جمانے دیں گے ۔گزشتہ روزایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں ان کامزید کہنا تھا کرم ایجنسی کی دوسری طرف افغان علاقے میں داعش مضبوط ہو رہی ہے تاہم افغان سکیورٹی فورسز داعش کیخلاف زیادہ سرگرم نہیں۔ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کو روکنے کیلئے پاک افغان بارڈر پر 2600کلو میٹر باڑ لگانے کا

فیصلہ کیا ہے اور یہ باڑ انہی علاقوں میں سب سے پہلے لگائی جا رہی ہے جہاں سے وطن عزیزکو زیادہ خطرات ہیں، کسی بھی علاقے کی سکیورٹی وہاں کے مقامی لوگوں کو شامل کئے بنا کامیاب نہیں ہوسکتی ، قبائلی عمائدین کی پارا چنار کی سکیو رٹی میں کردار ادا کرنیکی خواہش قابل ستائش اقدام ہے۔آرمی چیف نے ایف سی کمانڈنٹ پارا چنار کو تبدیل کردیاہے ،سانحہ پارا چنار جس وقت پیش آیا آرمی چیف ترکی میں تھے، اس کے بعد عید اورموسم کی خراب صورتحال کے باعث وہاں نہیں جا سکے۔گزشتہ روز جب آرمی چیف نے دورہ پارا چنار کیا اور دھرناکے نمائند و ں سے ملاقات کی تو دھرنا شرکاکے انتظامی اور سکیورٹی سے متعلق مطالبات کو جہاں بغور سنااور سکیورٹی سے متعلق مطالبات پر فوری عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے کہا پارا چنار کی سکیورٹی بہتر بنانے کیلئے سیف سٹی پراجیکٹ شروع ، جدید چیک پوسٹیں قائم جبکہ پاک فوج کی اضافی نفری بھی علاقے میں تعینات کی جائے ۔انکا کہنا تھاآرمی چیف کا اتحاد سے بہتر کوئی پیغام نہیں ہے جب تک ہم سب متحد ہیں کوئی خطرہ نہیں، متحد ہو کر دہشتگردوں کو شکست دیں گے، لوگوں کو بنیادی سہولتیں نہ ملنے تک دائمی امن نہیں ہو سکتا پولیس او رعدالتوں کا نظام بہتر ہو گا تو دائمی امن آئے گا،پارا چنار دھماکوں کے دہشتگردوں کے مقامی سہولت کاروں کو پکڑ لیا ہے،مقدمہ ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلے گا ،پاک فوج نے نو گو ایریاز ختم کر دیئے ہیں ۔ دہشتگرد افغانستان میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں ۔ انتہا پسندی ایک مائنڈ سیٹ ہے یہ تبدیل کرنا ہو گا، ملک میں سکیورٹی کے حالات بہتر ہو گئے ہیں۔

آصف غفور

مزید : صفحہ اول


loading...