سندھ میں نیب کا قانون غیر موثرہونے پر کئی وزراء کو ریلیف ملنے کا امکان

سندھ میں نیب کا قانون غیر موثرہونے پر کئی وزراء کو ریلیف ملنے کا امکان

  



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ کابینہ نے صوبے میں نیب کے قانون کو غیر موثر کردیا جس کے بعد نہ صرف پیپلز پارٹی کے کئی وزرا ء کو ر یلیف ملے گا بلکہ نیب کی کارروائیاں صرف وفاقی حکومت کے محکموں تک محدود ہو جائیں گی۔نجی ٹی وی کے مطابق سندھ کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہوا جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس میں سب سے اہم فیصلہ نیب کا بوریا بستر گول کرنے کا تھا۔ کابینہ کے اجلاس میں نیب کا آرڈیننس 1999 غیر موثر قرار دیدیا گیا اور نیب آرڈیننس کو ختم کرنے کا بل صوبائی اسمبلی میں پیر کو پیش کرنے کی منظوری دی گئی ۔یہ تجویز ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے صوبائی حکومت کو دی گئی تھی اور یہ قائم علی شاہ کے وقت سے زیر غور تھی تاہم اس پر قدم نہیں اٹھایا گیاتھا۔تاہم اب مراد علی شاہ نے بطور وزیر اعلیٰ یہ اہم قدم اٹھاتے ہوئے سندھ میں نیب کو غیر موثر کرنے کی منظوری دی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بھی نیب آرڈیننس 1999 ختم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس اقدام سے سندھ میں نیب کی عدالتیں ختم نہیں ہوں گی بلکہ صرف صوبائی حکومت کے کیسز ختم ہوجائیں گے جبکہ وفاقی حکومت کے زیر اہتمام محکموں میں کی جانے والی کرپشن کی تحقیقات جاری رہیں گی۔نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے کئی وزرا ء ایسے ہیں جن کیخلاف نیب میں انکوائریاں چل رہی ہیں ، سندھ کابینہ کے اس اقدام کے بعد بہت سے سیاستدانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔واضح رہے پہلے بد عنوانی کے کیسز نیب کے حوالے کیے جاتے تھے لیکن نیب آرڈیننس 1999 غیر موثر ہونے پر سندھ حکومت کے زیر اہتمام محکموں کے کیسز نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہو جائیں گے اور آئندہ صوبائی حکومت میں جو بھی کرپشن ہو گی اس کی تحقیقات یا اس کیخلاف کارروائیاں صوبائی حکومت کا محکمہ اینٹی کرپشن کرے گا۔

نجی ٹی وی دعویٰ

مزید : صفحہ اول