کراچی ، بلوچستان میں بارشوں سے تباہی ، 21افراد جاں بحق ، متعدد زخمی ، کئی لاپتہ

کراچی ، بلوچستان میں بارشوں سے تباہی ، 21افراد جاں بحق ، متعدد زخمی ، کئی ...

  



کراچی،کوئٹہ(سٹاف رپورٹر، بیورورپورٹس، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشیں جاری ہیں ،چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے ،سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سمیت دیگر حادثات میں مزید21افراد جاں بحق،درجنوں زخمی ،کئی لاپتہ ،جبکہ سیکڑوں گھر تباہ ہوگئے ، نشیبی علاقے زیر آب ،ندی نالوں میں طغیانی ،کراچی میں بارشوں نے صوبائی حکومت اور شہری انتظامیہ کی چھپی نااہلی عیاں کر دی ۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، کئی مقامات پر بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ۔ بارش سے سب سے زیادہ تباہی کراچی میں ہوئی ہے جہاں بارش میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کیلئے رینجرز کو سڑکوں پر آنا پڑا ۔کراچی میں دو دن کی موسلا دھار بارش کے بعد کئی علاقے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے ساتھ اور مسائل کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بارش کا ریلا مساجد اور گھروں میں داخل ہوگیا جس کے باعث مکینوں کو سخت پریشانی کاسامنا کرنا پڑا، کرنٹ لگنے، ڈوبنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 4بچوں سمیت11افراد ہلاک ،بچوں سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے ، دوسری جانب حب چوکی کے قریب ندی کے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں 10 مکان بہہ گئے جبکہ بارہ افراد بھی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئے، سیلابی ریلے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی خصوصی ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور بچے سمیت 5 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں تاہم مزید افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر و گردونواح میںآج بھی بارش کا امکان ہے، تاہم اگلے 48گھنٹوں میں مون سون کا سسٹم کمزور پڑھ جائے گا اورآنے والے ہفتے میں بارشوں کا امکان نہیں تاہم موسم گرم اور بادل چھائے رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔شہر کو پانی فراہم کرنیوالے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے تیسرے بریک ڈاون کے باعث 72انچ قطر کی پائپ لائن 2جگہ سے پھٹ گئی ،جس کے باعث شہر کو 150ملین گیلن پانی فراہم نہیں کیا جاسکاجبکہ لائن پھٹنے سے قریبی علاقہ زیر آب آگیا۔ سندھ اسمبلی کے باہر بھی کئی کئی فٹ پانی موجود ہے ، جگہ جگہ کھڑے پانی ، کیچڑ اور بجلی کی آنکھ مچولی نے بھی لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ۔صوبہ سنبھالنے کے ذمہ دار اپنے دفاتر بھی نہ سنبھال سکے ۔کراچی میں بانی پاکستان کی رہائشگاہ وزیر مینشن بھی پانی میں گھر گئی، سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں نے آنکھیں بند کر لیں۔ ادھر بلوچستان میں حب، خضدار لورالائی، موسی خیل سمیت دیگر شہروں میں بارش کا سلسلہ گزشتہ تین دن سے وقفے وقفے سے جاری ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے 9افراد جاں بحق ،3لاپتہ ،120گھر تباہ 30سے زائد بھیڑ بکریاں ہلاک ،حب سے گڈانی جا نے والی شاہراہ پانی میں بہہ گئی پی ڈی ایم اے نے 7ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کردیئے ،صوبائی ڈی ایم اے کے مطابق 29جون کی صبح شروع ہو نیوالے بارشوں کے سلسلے نے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے جس کے نتیجے میں ضلع لسبیلہ کے علاقے حب میں 9افراد سیلابی ریلے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے جبکہ تین افراد تا حال لا پتہ ہیں،ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقوں بیکر اور پہلواگ میں 100گھر جبکہ لسبیلہ میں 20گھروں کو نقصان پہنچا ،حب سے گڈانی جا نیوالی شاہراہ بھی سیلاب میں مکمل طور پر بہہ گئی جس کے بعد ٹریفک کو متبا دل راستے سے روانہ کیا گیا ،اس کے علاوہ ژوب کے علاقے لکبند میں 30سے زائد بھیڑ بکر یاں بھی سیلابی ریلے میں ڈوب کر ہلاک ہوگئیں ۔ صورتحال کی نگرانی اور ریلیف کا کام شروع کردیا ہے ۔راجن پور ،کوہ سلیمان کے پہاڑی برساتی ندی نالوں کا سیلابی پانی کی سطح کم ہوگئی ہے تاہم مختلف علاقوں میں سیلابی پانی سے فصلیں اور مکانات متاثر ہوئے ہیں۔سندھ میں حیدر آباد ،میرپور خاص، ٹھٹھہ، بدین، سانگھڑ سمیت دیگر شہروں میں بھی بارش سے گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے جبکہ پہاڑ علاقوں میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ ادھر دیپالپور میں مکان کی چھت گرنے سے مزدور کی دو بیٹیاں ہلاک دو شدید زخمی ہو گئیں۔

بارشیں تباہی

مزید : صفحہ اول