’’جونیئر گارڈ فادر ‘‘ کی نااہلی کیلئے بھی عدالت جائینگے: بابر اعوان

’’جونیئر گارڈ فادر ‘‘ کی نااہلی کیلئے بھی عدالت جائینگے: بابر اعوان

  



فیصل آباد(سپیشل رپورٹر)پی ٹی آئی کے رہنما سابق سینیٹر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جولائی میں بہت بڑی تبدیلی آنے والی ہے اور آپ سب یہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور پاکستان میں سب کا احتساب ہونا چاہیے بالخصوص ان ایک ہزارلوگوں کا بھی جنہوں نے کبھی ٹیکس دیا ہی نہیں بلکہ ملک میں لوٹ مار کر کے اربوں روپے کی جائیدادیں بنا لی ہیں جبکہ پانامہ کیس کے فیصلہ کے فورا بعد ہی پنجاب کے ’’جونیئر گارڈ فادر‘‘ کی نااہلی کے لیے پی ٹی آئی عدالت سے رجوع کرے گی بلکہ ملک کے وزیراعظم کے بیٹوں اور بیٹی سے تفتیش کے لئے کرسیاں‘ قلم‘ ایئر کیڈیشنڈ کا ماحول میسر کیا جاتا ہے جبکہ عام آدمی کیلئے ’’سانپ بچھو‘‘ کے ساتھ تفتیش کی جاتی ہے یہ اظہار انہوں نے گذشتہ روز فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے رہنما راجہ ریاض احمد کے ڈیرہ پر پریس کانفرنس کے دوران کہیں اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما راجہ ریاض احمد پی ٹی آئی این اے 85کے رہنمامیاں محمد علی سرفراز، میاں حسنین ،حسن خان نیازی ،اسد معظم اور دیگر کارکنان بھی موجود تھے بابر اعوان نے کہا کہ احمد پور شرقیہ میں 250سے زائد افراد کی موت واقع ہو گئی ہے اور دو سو سے زائد جل گئے لیکن حکومت کے پاس اصل تعداد تک ابھی تک موجود نہیں حکومت کبھی 150اور کبھی 200کی تعداد بتا رہی ہے جاں بحق ہونے والے زیادہ افراد خانہ بدوش اور بے روزگار تھے.انہوں نے کہا کہ جو عمران خان کو اشتہاری کہہ رہے ہیں وہ خود 16قتلوں کے نامزد ملزم ہیں نہ ہی وہ اشتہاری ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کو شامل تفتیش یا گرفتار کیا جا رہاہے اس کی مثال یوں ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘ اس بات کو علی الاعلان شیر علی بھی کر چکا ہے کہ کس نے قتل کروائے ہیں جبکہ جمشید دستی کو صرف اس لئے گرفتار کر لیا کہ وہ عام آدمی کے ساتھ کھڑا تھا حکومت کے خلاف بول رہا تھا حق کے ساتھ کھڑا ہوا تھا نہ کہ اسے گرفتار کر کے جیل میں بند کیا بلکہ راتوں رات اس کی جیل بھی تبدیل کر دی گئی اور وہ کون سا قانون تھا جس کے تحت جیل تبدیل کی گئی حالانکہ ان کے کار خاص لوگوں کو جیلوں میں وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتاہے بابر عوان نے کہا کہ ایک معمولی آدمی جس نے پانی کھولا اس کی ویڈیو دیکھ کر اس پر دو دہشت گردی کے مقدمات تو درج کروائے دیئے گئے جبکہ مکمل ویڈیو دیکھیں تو اصل ملزمان کو ئی ’’اور‘‘ ہی لوگ ہیں ان پر کوئی بھی مقدمہ درج نہ ہو سکا۔

بابر اعوان

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...