تیل کی کم قیمت عالمی ترقی کیلئے خطرہ ہے،میاں زاہد حسین

تیل کی کم قیمت عالمی ترقی کیلئے خطرہ ہے،میاں زاہد حسین

  



کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی عالمی ترقی کیلئے خطرناک ہے۔ تیل کی کم قیمت دنیا کو انرجی سیکورٹی کے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔مشرق وسطیٰ اور خلیج کے سستے تیل اور گیس پر عالمی انحصار بڑھ رہا ہے جس سے انکے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ تیل کی مہنگی پیداوار کے سبب مغربی ممالک میں توانائی کی صنعتیں دیوالیہ ہو رہی ہیں ۔بڑھتے ہوئے ڈیفالٹ کے سبب بینکوں نے آئل اینڈ گیس کمپنیوں کو قرضے دینا بند کر دئیے ہیں جس سے صورتحال مزید گھمبیر ہو گئی ہے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں عالمی سطح پر توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ تیل کی آمدنی پر انحصار کرنے والے کئی مغربی اور اسلامی ممالک کے بجٹ غیر متوازن ہو چکے ہیں جس سے معاشی سست روی پیدا ہوئی ہے۔گزشتہ چار ماہ میں سعودی عرب کے زرمبادلہ کے زخائر مین 36 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے جبکہ تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک کا حال بھی برا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک کے مقابلہ میں تیل کی سستی پیداوار کے سبب 1970 کے بعد پہلی بارمشرق وسطیٰ تیل کی 66 فیصد عالمی ضروریات پوری کرنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے تاہم سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ سے ایشیائی ممالک ہی زیادہ متاثر ہو نگے۔2040 تک چین امریکہ سے پانچ گنا زیادہ تیل استعمال کر رہا ہوگاجبکہ اس وقت تک پورپ کی نصف بجلی متبادل توانائی کے زرائع سے پوری ہو گی۔2040 تک چین اور جاپان کی 30 فیصدجبکہ امریکہ اور بھارت کی 25 فیصد بجلی متبادل زرائع سے حاصل کی جا رہی ہو گا جس سے تیل کی طلب میں کمی آئے گی ۔اس وقت دینا 94.5 ملین بیرل تیل روزانہ استعمال کر رہی ہے جس میں 2020 تک سالانہ ایک فیصد اضافہ بھی متوقع نہیں جبکہ 2040 تک امریکہ، یورپ اور جاپان کی طلب میں ایک کروڑ بیرل روزانہ کی کمی متوقع ہے ۔حکومت اس سلسلے میں اہم اقدامات کر رہی ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...