امریکاکاپاکستان کے حوالے سے سخت پالیسی اپنانے پر غور

امریکاکاپاکستان کے حوالے سے سخت پالیسی اپنانے پر غور
امریکاکاپاکستان کے حوالے سے سخت پالیسی اپنانے پر غور

  



واشنگٹن(این این آئی) امریکی ووڈرو ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیائی امور کے ایک ماہرمائیکل کوگلمین نے کہاہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے حوالے سے سخت پالیسی اپنانے پر غور کر رہی ہے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور علاقائی صورتحال جیسی چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا یہ ممکنہ قدم کارآمد ثابت ہو گا؟ امریکی ووڈرو ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیائی امور کے ایک ماہرمائیکل کوگلمین نے جرمن ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں سختی متعارف کرائے جانے کے قوی امکانات ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دہشت گردی کے خلاف سخت رویہ رکھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ایسے عناصر کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا چاہیے، خواہ وہ جہاں بھی ہوں۔

انہوں نے کہاکہ ایسی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کو توسیع دی جا سکتی ہے اور اسلام آباد کو فراہم کی جانے والی عسکری مالی امداد میں بھی کمی ممکن ہے۔ واشنگٹن میں پاکستان کے حوالے سے سخت نظریات کے حامل اہلکاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں نیٹو اتحاد کے باہر ایک کلیدی اتحادی ملک کی حیثیت تلف کر دی جائے۔ چند ایک کا تو یہ بھی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی ریاست قرار دیا جائے، جو دہشت گردی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم یہ انتہائی سخت اقدامات اگرچہ انتظامیہ کے اختیارات میں ضرور ہیں لیکن میرا نہیں خیال کہ ان پر فوری عمل در آمد ممکن ہے۔ فی الحال فنڈز کی کٹوتی اور بغیر پائلٹ والے طیاروں کے حملوں کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ان کا کہناتھا کہ پاکستان اپنی جغرافیہ اور جیو پولیٹیکل عناصر کے سبب انتہائی اہم ملک ہے، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ امریکا افغانستان میں اپنی طویل ترین جنگ لڑ رہا ہے اور اس ملک کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں، تو پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز کیا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ اچھے روابط اور روس کی طرف جھکا بڑھ رہا ہے۔ یہ بھی اس ملک کو کافی اہم بنا دیتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...