جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر17

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر17
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر17

  



’’دیوی جی ! اس مسلے میں کچھ نہیں رکھا۔ تیری قدر تو ہم جیسے سادھو جانت ہیں۔ اس مورکھ کو کیا کھبر کہ توکیا ہے؟‘‘

مجھے سادھو کی بات سن کر بہت غصہ آیا اس سے پہلے کہ میں اسے کچھ کہتا اچانک بلی نے سادھو پر حملہ کر دیا۔ شاید سادھو کا مجھے احمق کہنا اس کی ناراضگی کس سبب بنا تھا۔ وہ بجلی کے کوندے کی طرح لپکی اور اس سے جا ٹکرائی۔ ہٹا کٹا سادھو اچھل کر کئی فٹ پیچھے جا گرا۔ بلی نے زمین پر لوٹ لگائی۔ ایک بار پھر وہ اس پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔سادھو کی آنکھوں میں جیسے آگ کے الاؤ روشن ہوگئے۔ وہ پھرتی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اس کا سر اور جسم مٹی سے اٹ گئے تھے۔ مالا اسکے ہاتھ سے نکل نہ جانے کہاں جا گری۔ اس کی حالت کافی مضحکہ خیز ہو چکی تھی۔ جب وہ اٹھا تو غصے سے کانپ رہا تھا۔ اچانک اس نے اپنے ہاتھ کا رخ بلی کی طرف کر دیا جس میں سے آگ کا شعلہ نکل کر بلی کی طرف بڑھا۔ بلی نے چھلانگ لگائی اور سادھو کا وار خالی جانے دیا پھر ایک لمبی چھلانگ لگا کر کھیتوں میں اگی فصل میں غائب ہوگئی۔ سادھو بھی بجلی کی سی تیزی سے اس کے پیچھے لپکا۔ آناً فاناً دونوں میری آنکوں سے اوجھل ہوگئے۔ میں حیران و ششدر سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ان کے غائب ہونے کے بعد مجھے ہوش آیا میں نے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کی اور چل پڑا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی داستان۔ ۔ ۔قسط نمبر16 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ سب کیا تھا؟ سادھو ایک معمولی سی بلی کو دیوی کیوں کہہ رہا تھا؟ اول تو اس کا بلی سے مخاطب ہونا ہی کچھ کم عجیب بات نہ تھی کجا کہ وہ اس سے باقاعدہ گفتگو کر رہا تھا۔ بلی کا طرز عمل بھی کچھ کم حیران کن نہ تھا۔

میں سارا راستہ یہی کچھ سوچتا رہا بینک پہنچنے تک میں نے اس سارے گھورک دھندے کا یہ حل نکالا کہ سادھو اپنے کسی ذاتی فائدے کے لئے بار بار میرے سامنے آتا ہے اور یہ سب جو میرے سامنے ہوا مجھے مرعوب کرنے کے لئے تھا۔

’’آگ کا وہ شعلہ جو اس کے ہاتھ نکلا تھا وہ کیا تھا؟‘‘میرے اندر سے سوال ابھرا۔ ’’اس قسم کے شعبدے یہ لوگ جاتنے ہیں‘‘ میں نے خود کو مطمئن کیا۔ میں نے بینک کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی اور اندر داخل ہوگیا۔ سٹاف کے سلام کا جواب دیتے ہوئے میں اپنے کیبن میں آگیا۔ تھوڑی دیر بعد چپراسی چائے لے کر آیا۔ چائے پی کرمیں اپنے کام میں ایسا منہک ہوا کہ صبح والا واقعہ میرے دماغ بالکل نکل گیا۔دو بجے میں نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر نکل آیا۔ جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ بلی بڑے مزے سے پچھلی سیٹ پر محو خواب تھی۔ ’’یہ بند گاڑی میں کہاں سے آگئی۔‘‘ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور میاؤں کی آواز نکالی۔ میں نے اسے ہاتھوں میں اٹھایا اور دروازہ کھول کر باہر نکال دیا۔ اس نے فریادی نظروں سے میری طرف دیکھا نہ جانے مجھے کیوں اس پر ترس آگیا۔ میں نے دروازہ کھول کر پچکارا تو وہ چھلانگ لگا کر گاڑی میں آگئی۔ میں نے دروازہ بند کیا وہ آرام سے میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔

میں غیر ارادی طور پر اسی راستے سے واپس آیا جس پر آج صبح میرا سادھو سے ٹکراؤ ہوا تھا۔ سڑک پر اکا دکا گاڑیاں آ جا رہی تھیں بلی بڑے اطمینان سے ساتھ والی سیٹ پر آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔ میں نے دیکھا وہ ہر طرح سے ایک عام بلی دکھائی دے رہی تھی۔ اچانک گاڑی بری طرح لہرائی اور خود بخود رک گئی۔ سڑک پر ٹائروں کے رگڑنے کی آواز آئی۔ میں نے گھبرا کر سامنے دیکھا تو سڑک پر ملنگ کھڑا تھا۔ گاڑی اس سے بمشکل چند انچ کے فاصلے پر خود بخود رک گئی تھی۔ وہ فقیروں جیسا لمبا جھولا پہنے سڑک کے بیچوں بیچ لمبی سی لاتھی زمین سے ٹکائے کھڑا تھا۔ آج اس کے چہرے پر مسکراہٹ کے بجائے سنجیدگی طاری تھی۔ وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے میری ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی بلی کو دیکھ رہا تھا جو ہڑ بڑا کر سیٹ پر کھڑی ہو گئی تھی۔ مجھے اس کی آنکھوں سے خوف نظر آیا۔ اس نے ایک نظر ملنگ کو دیکھا پھر باہر کی طرف چھلانگ لگا دی۔ ایک چھنا کے سے بائیں سائیڈ کی کھڑی کا شیشہ ٹوٹ کا باہر جا گرا ۔ بلی نے ایک لمبی زقند بھری اور کھیتوں میں جا کر غائب ہوگئی۔

’’ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا بھاگ گئی ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ڈر گئی‘‘ ملنگ قہقہے لگا رہا تھا۔

’’دیکھا تو نے ۔۔۔کیسے مجھ سے ڈر کر بھاگ گئی ہے؟‘‘ وہ یک بیک سنجیدہ ہو کر مجھ سے مخاطب ہوا میں جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکا۔

’’بابا جی! آپ ایک جھلک دکھا کر کہاں غائب ہو جاتے ہیں میں کئی دن سے آپ کو تلاش کر رہا ہوں۔ آئیں گاڑی میں بیٹھیں آپ جہاں کہیں گے میں آپ کو پہنچا دوں گا پلیز آئیں‘‘ میں نے ملنگ کے سامنے پہنچ کر عاجزی سے کہا۔ کئی سوالات تھے میرے ذہن میں اور مجھے یقین تھا ملنگ ان سوالوں کا جواب دے سکتا ہے۔

’’سادھو کے چکر میں مت پھنسنا۔۔۔بہت مکار ہے وہ، اس سے بچ کر رہنا۔ اور سن ۔۔۔بزرگوں کے دیے ہوئے تحفے کی قدر کرنا سیکھ۔۔۔نفس پر قابو رکھ۔ وہ تیری ہر رات خریدنا چاہتی ہے۔۔۔اس سے بچ‘‘ جیسے اس نے میری بات سنی ہی نہ ہو۔

’’بابا جی! آپ جیسے کہیں گے میں کروں گا براہ کرم آپ مجھے کچھ وقت دیں مجھے آپ سے بہت سی باتیں کرنا ہیں‘‘ میں نے پھر التجا کی۔

’’اس نے میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے پھر قہقہے لگانے شروع کر دیے’’ہا۔۔۔ ہا۔۔۔ سب کتے اس کے پیچھےپڑے ہیں لیکن وہ تجھ پر ریجھ گئی ہے۔ آگ سے مت کھیل۔۔۔سن رہا ہے نا ۔۔۔آگ تیرے گھر کو جلا دے گی۔‘‘

کبھی وہ قہقہے لگانے لگتا کبھی بے معنی باتیں کرتا رہا۔

’’پیچھے مڑ کر دیکھ‘‘ اس بار وہ سنجیدگی سے بولا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا سڑک سنسان پڑی تھی۔

’’پیچھے تو کچھ۔۔۔‘‘ میں نے مڑ کر کہنا شروع کیا لیکن دیکھا تو ملنگ غائب تھا۔ اس نے جان بوجھ کر مجھے پیچھے دیکھنے کو کہا تھا۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا لیکن وہ کہیں بھی نہ تھا۔ میں نے کھڑی کے ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرف دیکھا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : رادھا