آرمی چیف کا اٹھایا ہوا یہ قدم ۔۔۔

آرمی چیف کا اٹھایا ہوا یہ قدم ۔۔۔
آرمی چیف کا اٹھایا ہوا یہ قدم ۔۔۔

  



گزشتہ دنوں آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ نے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دشمنوں نے گمراہ کن مہم شروع کر رکھی ہے، یہ گمراہ کن مہم سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے پھیل رہی ہے، جس کے ذریعے سے دہشتگردی کے حالیہ واقعات کو فرقہ وارانہ اور لسانی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فوج سوشل میڈیا پر جاری مذموم مہم کو بغور دیکھ رہی ہے۔ قوم کو بھی اس سازش کو سمجھنا ہو گا، اور عہد کرنا ہوگا کہ ملک میں امن وامان کی صورتحال کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔ دشمن ہمیں دہشتگردی کے ذریعے تقسیم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، بحیثیت پاکستانی اور مسلمان ہم متحد ہیں اور ایک دوسرے کی مذہبی اقدار اور اقلیتوں کا مکمل احترام کرتے ہیں۔آرمی چیف نے کہاکہ پاک فوج کیلئے ہر شہید اور زخمی کی جان بلاتفریق برابر اور قیمتی ہے ،سانحہ پارا چنار کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا، یہ سانحہ ایک عظیم نقصان ہے۔‘‘ آرمی چیف کا اٹھایا ہوا یہ قدم دوررس نتائج کا حامل ہوگا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی ترقی کے دشمن ملک و قوم کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے مذموم عزائم رکھتے ہیں، اور جب بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات سے بھی انہیں ناپاک عزائم میں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو سازش کے تحت دہشتگردی کے حالیہ واقعات کو لسانیت اور فرقہ ورانہ رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پانچ سے زائد ویب سائیٹس ایسی ہیں جوباقاعدہ فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہیں ان میں سے دو بھارت، ایک افغانستان اور دو دیگر ممالک سے چلائی جارہی ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف مذہبی اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کو ہوا دینا ہے۔ آج دشمن کے ان ناپاک عزائم کو ناکام بنانے اور ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے پوری پاکستانی قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دشمن کی سازش کے مطابق فرقہ وارانہ فسادات اور لسانیت کے جھگڑوں کی بجائے باہمی روادای کو فروغ دیناہوگا۔ اسلام کی روشن تعلیمات بھی ہمیں اجتماعی وسماجی زندگی مثبت رویوں کے ساتھ گزارنے کا پابند کرتی ہے۔نماز ،زکوٰۃ ، روزہ، حج ، صدقات اور قربانی کے علاوہ اسلامی تہواروں کے اجتماعات اسلامی معاشرتی زندگی کی انمول حکمتوں سے لبریز ہیں، انکے ذریعے روز مرہ زندگی میں میانہ روی، تحمل وبرداشت،صبر،ایثار، عاجزی،اطاعت، مثبت سوچ اور انسانی ہمدردی کا درس دیا گیا ہے۔اسلامی تعلیمات کے احکامات کی روشنی اور فطرت انسانی کے رویوں کیخلاف اگر کوئی شخص مثبت کردار کی بجائے دقیانوسی پن اور انتہا پسندی کا رویہ اپناتا ہے تو وہ نہ صرف خود مصائب وآلام کو دعوت دیتا ہے بلکہ معاشرے کے عدم استحکام کا بھی باعث بنتا ہے۔یہ معاشرہ افراد کا معاشرہ ہے اور تمام افراد کی سوچ، خیالات، رویے،جذبات، علم، فہم وفراست، شعور، ادراک، عمل، طریقہ ، صلاحیتیں، قوت فیصلہ ایک جیسے نہیں ہوسکتے مگر منفی سوچ اپنانے والے افراد کے رویوں کے سبب پورے معاشرے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے جس کو قرآن پاک نے فتنہ اور فساد کا نام دیا ہے۔ جبکہ تعمیری سوچ اور مثبت رویے سر اسر خیرکا باعث ہیں ۔

واضع طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے کہ دشمن اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ایماء پر ہمیں کسی نہ کسی طرح الجھا کر پاکستان میں ترقی کے عمل کو روکنا چاہتا ہے ۔ بھارتی خفیہ ادارے را کے ایجنٹ اور بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسرکلبھوشن یادیو نے چشم کشا حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھارت کے سازشی کردار کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے۔

بھارتی جاسوس نے غیرمبہم الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ بھارت کا خفیہ ادارہ را پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی سرپرستی کرتا رہا ہے اور خود کلبھوشن نے ان سرگرمیوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔اس اعترافی بیان میں کلبھوشن نے بتایا ہے کہ وہ 2005ء میں بھی بلوچستان اور کراچی میں سرگرم رہا جبکہ گزشتہ سال اس کی پاکستان آمد کا مقصد کراچی ،کوئٹہ اور تربت سمیت مکران اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کو فروغ دینا اور دہشت گردی کی کارروائیوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچانا تھا تاکہ سی پیک کے لیے حالات کو ناسازگار بنایا جائے۔ کلبھوشن کے بقول ’’اس بار میرا پاکستان آنے کا مقصد بلوچ عسکریت پسندوں سے مل کر مکران کوسٹ سے ساحلی پٹی تک را کے تیس سے چالیس اہلکاروں کو داخل کرنا اور ان کے ذریعے فوجی انداز میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرانا تھا‘‘۔

کلبھوشن نے اپنے بیان میں اسلحہ اور مالی وسائل کی آمد کے پورے نیٹ ورک کی تفصیل بھی بتائی ہے جسے دہلی، ممبئی اور دبئی سے کنٹرول کیا جاتا ہے، جبکہ افغانستان کے مختلف شہروں میں قائم بھارتی سفارت خانے بھی اس میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔کلبھوشن نے انیل کمار نامی را کے ایک اور اہلکار کا ذکر بھی اپنے بیان میں کیا جوپاکستان میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لیے کوئٹہ کی ہزارہ برادری اورکو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کارروائیاں منظم کرتا رہا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور کراچی میں دہشت گردوں کی پیسے اور اسلحہ سے سرپرستی اب کوئی راز نہیں رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج پاکستان میں جہاں کہیں بم دھماکے، دہشت گردی اور قتل غارت کے واقعات رونماء ہورہے ہیں ان سب کے پس پردہ بھارت کی خفیہ ایجنسی اور خطے کو آگ و خون کی ندی بنانے کا خواب دیکھنے والے بھارتی انتہاپسندجنونی ہندوؤں کی تنظیمیں کارفرما ہیں۔ ملک دشمن عناصر کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے آج ہمارے علماء کو قومی وحدت اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...