ریمنڈ ڈیوس کے ہوشربا انکشافات

ریمنڈ ڈیوس کے ہوشربا انکشافات
ریمنڈ ڈیوس کے ہوشربا انکشافات

  



ریمنڈ ڈیوس کی کتاب نے ایک بار پھر ہمارے زخم کرید دئیے اورحکومتی اشرافیہ سے سوال کیا ہے کہ ہماری کوئی غیرت بھی ہے یا نہیں ؟قوموں کی زندگی میں غیرت بڑ ے کام کی چیز ہوتی ہے۔ جو قوموں کے وقار اور آنے والے دور میں کسی بھی قوم کو فخر سے سر اُٹھا کر جینے کا افتخار بخشتی ہے۔ منافقت اور مصلحت میں فرق ہوتا ہے ۔ غریب ہونا اور بات ہے اور بے غیر ت ہونا دوسری بات ہے۔ ضروری نہیں کہ غریب ہو تو وہ بے غیرت بھی ہو۔ پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی جاسوس نے اپنی خود نوشت کتاب میں اپنی رہائی کے متعلق لکھا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہے کہ کس طرح ہماری قومی حمیت کو پامال کیا گیا۔ ایک عاشق رسولﷺ کو ناحق پھانسی پر چڑھا دیا گیا جس کا تعلق ایک غریب خاندان کے ساتھ تھا لیکن اُس کے جنازے میں پچاس لاکھ لوگ شریک ہوئے۔ اُس وقت عدلیہ کو قانون کی حاکمیت کا شوق چڑھ آیا اور ریمنڈ ڈیوس جو کہ ہمارے لوگوں کا قاتل تھا اُس کی رہائی کے لیے کس طرح ہمارا عدالتی نظام معطل کیا گیا اور اُس مقصد کے لیے دیت کو بھی استعمال کیا گیا اور سب کچھ ہوا جو کچھ امریکی غلام کر سکتے تھے۔آئیے جو کچھ ریمنڈ ڈیوس نے کہا اُس کی زبانی سُنتے ہیں ۔امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے اپنی متنازع رہائی کے حوالے سے کتاب میں تمام سیاست دانوں کو بری الذمہ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ جنرل پاشا اور ان کے ماتحت افسران تھے جو اسے جیل سے چھڑوانے کیلئے تمام فیصلے کر رہے تھے۔ریمنڈ ڈیوس نے حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی اور رانا ثناء اللہ کو بری الذمہ قرار دیا ہے لیکن اس ’’افواہ‘‘ کا ذکر بھی کیا ہے کہ زرداری اور نواز شریف کو اُس کی رہائی کے معاہدے کا علم تھا، لیکن ان کے کردار کے حوالے سے اُس نے کچھ نہیں لکھا۔اپنی کتاب میں ریمنڈ ڈیوس کی 2011ء میں رہائی ملکی عدلیہ اور انٹیلی جنس کے کردار پر ایک بدنما داغ ہے کہ عدلیہ اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ دینے پر کیسے ایک امریکی جاسوس کو دن دیہاڑے قتل کرنے کے باوجود چھوٹ گیا۔

ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود زرداری اور گیلانی مجھے سفارتی استثنیٰ نہیں دے رہے تھے۔امریکی جاسوس کتاب میں لکھتا ہے کہ ’’یکم فروری 2011 کو کانگریس کے غیر جانبدار وفد نے رکن کانگریس ڈیرل عیسیٰ کی قیادت میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی اور ان سے ویانا کنونشن کے تحت مجھے چھوڑنے کو کہا۔ امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود، زرداری سیاسی لحاظ سے اس قدر مضبوط شخص نہیں تھے کہ اپنے طور پر میرا مسئلہ حل کریں۔ اگر وہ میری رہائی کی حمایت کرتے تو اس سے قومی سطح پر اشتعال پھیل جاتا اور انہیں عہدے سے جانا پڑتا۔ صورتحال سازگار نہیں تھی کیونکہ یہ واقعہ عین اُس وقت پیش آیا تھا جب عرب ممالک میں انقلاب ’’عرب اسپرنگ‘‘ شروع ہو چکا تھا۔زرداری نے اپنی زندگی کے گیارہ سال جیل میں گزارے تھے اور ان ہی کی طرح گیلانی نے بھی ساڑھے پانچ سال جیل میں کاٹے۔ زرداری کی طرح گیلانی بھی مزنگ چونگی پر پیش آنے والے واقعے کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کیلئے کچھ نہیں کرنا چاہتے تھے۔زرداری کی جانب سے میرے معاملے پر بیان جاری کرنے کے دو دن بعد، گیلانی نے بھی تقریباً وہی باتیں قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر کہیں۔ معاملہ عدالت میں ہے۔ کہہ کر حکومت کے دونوں رہنماؤں نے اس معاملے پر کوئی موقف اختیار کرنے سے انکار کر دیا اور معاملہ پاکستان کے عدالتی نظام پر چھوڑ دیا۔‘‘

ریمنڈ ڈیوس نے رانا ثنا اللہ کے کردار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے میرے کیمرے کی تصاویر کو میرے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کیا اور ان تصاویر کو ایک جاسوس کا کام قرار دیا اور کہا کہ یہ سفارتکار کا کام نہیں، وہ جاسوسی اور

دیگر سرگرمیوں میں ملوث ہے۔‘‘

کتاب میں شاہ محمود قریشی کے حوالے سے ریمنڈ ڈیوس نے لکھا ہے کہ پاکستانی حکام نامعلوم امریکی حکام کی پاکستان میں بڑھتی موجودگی پر مشتعل تھے اور وہ میری ناخوشگوار صورتحال کو امریکا کیلئے باعث ہزیمت بنانا چاہتے تھے۔اُن حکام میں سے ایک کیمبرج یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تھے جنہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے مجھے سفارتی استثنیٰ دینے کیلئے دباؤ ڈالنے پر 30 جنوری کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ اپنے وکلاء کی معاونت کے ساتھ، شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں سفارتخانے کیلئے نہیں بلکہ قونصل خانے کیلئے کام کرتا ہوں اور وہ نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے 1961 اور 1963کا ویانا کنونشن پڑھا ہے اور جس طرح کی معافی امریکا میرے لئے مانگ رہا ہے وہ جائز نہیں۔

ریمنڈ ڈیوس لکھتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اضافی شراکت داری کے قانون پر صدر بارک اوباما کی جانب سے دستخط کیے جانے سے تین دن قبل، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی واشنگٹن پہنچے تاکہ پاک فوج کے تحفظات سے آگاہ کر سکیں۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری ہمیشہ سے ہی شاہ محمود قریشی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اطمینان محسوس کرتے تھے۔ وہ اکثر قریشی کو دوست کہتے اور انہوں نے قریشی کے بیٹے زین کو اپنے پاس سینیٹ آفس میں انٹرشپ پر مقرر کیا تھا۔ لیکن جب جان کیری مجھے لاہور جیل سے چھڑانے کیلئے معاہدہ کرانے کی خاطر 15 فروری 2011کو پاکستان پہنچے تو قریشی نے وہ رویہ اختیار کیا جو ایک دوست جیسا نہیں تھا۔مجھے سفارتی استثنیٰ دینے کیلئے حکومت کی بات ماننے کی بجائے انہوں نے مزنگ چونگی پر پیش آئے واقعے کے تین دن بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا اور دو ہفتوں بعد بھی وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اعلیٰ پاکستانی عہدیداروں کے ایک اجلاس میں، زرداری اور گیلانی نے قریشی کو منانے کی کوشش کی کہ وہ اپنا سخت موقف چھوڑ دیں لیکن قریشی نے اگلے ہی دن پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا کہ امریکا کے آگے نہ جھُکیں اور یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سر اُٹھا کے جیئیں۔

میاں نواز شریف کے کردار کے حوالے سے ریمنڈ ڈیوس نے ایک سطر کی ’’افواہ‘‘ کا ذکر کیا ہے کہ میاں صاحب کو میری رہائی کا علم تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’جو بات مجھے بعد میں پتہ چلی وہ یہ تھی کہ منصوبہ کئی ہفتے پہلے ہی بنایا جا چکا تھا۔ کچھ اطلاعات کے مطابق یہ منصوبہ چار ہفتے قبل جان کیری کی امریکا میں متعین پاکستانی سفیر حسین حقانی کے ساتھ ملاقات کے وقت سامنے آیا۔ ایک اور اطلاع یہ بھی تھی کہ میری رہائی کا منصوبہ جنرل پاشا اور سفیر کیمرون منٹر کے درمیان ملاقات کے دوران بنایا گیا۔ افواہ تھی کہ پاک فوج کا اس معاہدے میں ہاتھ تھا۔ اور زرداری اور نواز شریف کا بھی۔‘‘

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کیلئے کام کرنے والے سابق جاسوس کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ اپنی رہائی کے وقت وہ بچوں کی طرح روئے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ دیت کا معاہدہ قبول کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے پر مقتول افراد کے اہل خانہ رو رہے تھے۔

انہوں نے اپنی رہائی میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) احمد شجاع پاشا کے کردار کی تعریف کی ہے۔ کتاب میں انہوں نے بتایا ہے کہ ’’جیسے ہی (خون بہا کا معاہدہ) منصوبہ تشکیل دیا گیا، لیکن ایک پاکستانی افسر نے مجھے آخر تک تذبذت میں مبتلا کیے رکھا۔اسی موقع پر پاشا اس معاہدے کو کامیاب بنانے کیلئے بھرپور انداز سے پرعزم تھے۔ سی آئی اے ایجنٹ نے یہ بھی بتایا ہے کہ مقتول افراد کے اہل خانہ پر یہ معاہدہ قبول کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ ڈیوس کے مطابق، چونکہ مقتول افراد کے 18 اہل خانہ یہ معاہدہ قبول کرنے سے ہچکچا رہے تھے، ایجنٹس نے ان پر اتنا دباؤ ڈالا جتنا دیت کی قبولیت کیلئے ضروری تھا۔ اُن کے وکیل اسد منظور بٹ کی مدد سے یہ لوگ معاہدہ کیخلاف مزاحمت کر رہے تھے۔ریمنڈ ڈیوس نے بتایا کہ جنرل پاشا نے وکیل کو تبدیل کرکے اسد منظور بٹ کو لگانے کی ذمہ داری لی اور ایک اطلاع یہ بھی تھی کہ وکیل نے راجہ ارشاد کے ساتھ مل کر جماعت اسلامی کی ایما پر اس کیس پر مفت کام کیا جو کسی بھی دوسرے مذہبی گروپ کے مقابلے میں ایک ادارے کا زیادہ شکر گزار تھا۔ریمنڈ ڈیوس کے مطابق، ایک شخص جس نے اس منصوبے کو یکسر مسترد کر دیا وہ مقتول محمد فہیم کا بھائی وسیم تھا۔ منصوبے کا ایک اور مخالف مشہود الرحمان تھا جس کا بھائی اس گاڑی سے ٹکر کی وجہ سے ہلاک ہوا جو مجھے بچانے کیلئے آ رہی تھی اور اُس نے حال ہی میں برطانیہ سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔

مقتولین کے اہل خانہ کو شدت پسند اسلام پسندوں اور کٹر اسلامی ایجنڈے کی پیروی کرنے والے وکیل کی رائے سے دور رکھنے کیلئے جنرل پاشا کے لوگوں نے 14 مارچ کو مداخلت کی اور اِن 18 افراد کو حراست میں لے کر غائب کر دیا۔6 مارچ کو میری قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے ہونے والے ٹرائل کے دو دن بعد تک، اسد منظور بٹ نے اُن سے فون پر رابطہ کیا لیکن اسے کامیابی نہیں ملی، اور ان کے پڑوسیوں نے تصدیق کی کہ یہ لوگ غائب ہوگئے ہیں۔ مقتول فیضان حیدر کے کزن اعجاز احمد نے بتایا کہ ان کے گھروں پر تالے پڑے تھے، ان کے فون بند ہو چکے تھے، اگر انہوں نے ایسا کیا تھا تو یہ سب ان کی مرضی کے بغیر ہوا تھا۔16 مارچ کے ٹرائل سے ایک رات قبل، جنرل پاشا کے لوگ اہل خانہ کو کوٹ لکھپت جیل لے گئے اور دیت ڈیل قبول کرنے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اگر انہوں نے مجھے معاف کرنے پر رضامندی ظاہر کی تو انہیں اس کے عوض بھاری رقم دی جائے گی اور آمادہ نہ ہونے کی صورت میں انہیں اگلی صبح اُس وقت نتائج سے آگاہ کر دیا گیا جب انہیں عدالت کے باہر بندوق کی نوک پر زیر حراست رکھا گیا اور خبردار کیا گیا کہ میڈیا سے کوئی بات نہ کی جائے۔

جب اسد منظور بٹ وہاں پہنچے تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا، انہیں اُن کے موکلین سے ملنے دیا گیا اور نہ ہی بات کرنے کی دی گئی۔ ایک ماہ سے زائد عرصے تک ملک کے پیچیدہ نظامِ قانون میں رہنمائی کرنے والے شخص تک رسائی نہ دیئے جانے کا صدمہ مقتولین کے اہل خانہ کے چہرے سے واضح نظر آ رہا تھا اور اس صورتحال کے سب سے زیادہ اثرات خواتین پر مرتب ہوئے۔کچھ کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور کچھ ہچکیاں لے کر رو رہی تھیں۔ ان کے نئے وکیل ارشاد نے جج کے سامنے دستخط شدہ دستاویز پیش کی جس میں لکھا تھا کہ فہیم اور فیضان کے تمام 18 کے قانونی ورثاء نے دستاویزات کی حد تک مجھے معاف کرنے اور دیت قبول کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہر رشتہ دار کی جانب سے ضروری کاغذی کارروائی اور دستخط کیے جانے کے بعد، جج نے جب پوچھا کہ کیا کسی پر ایسا کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا تھا تو تمام 18 اہل خانہ نے انکار کیا۔جج نے سرکاری وکیل اور وکیل صفائی دونوں سے پوچھا کہ انہیں کسی بھی طرح کا اعتراض سامنے لانے کا اختیار ہے لیکن دونوں میں سے کسی فریق نے اعتراض نہیں اٹھایا۔

ریمنڈ ڈیوس نے یہ بھی بتایا ہے کہ جب اسے اُس کی رہائی کا علم ہوا تو وہ کیسے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ جیسے ہی مجھے معلوم ہوا کہ میں رہا ہونے والا ہوں، اور یہ کوئی بھونڈا مذاق نہیں تھا، میں نے خوشی، افسوس، صدمے وغیرہ جیسے جذبات ایک طرف رکھے کہ بالآخر میں واپس جا رہا ہوں۔اپنے رویے اور حالت کی وجہ سے اگرچہ مجھے ایک سخت جان شخص سمجھا جا رہا تھا لیکن اپنی زندگی کے انتہائی غیر محفوظ لمحات کو دیکھ دیگر میری سخت جان جیسی کیفیت ختم ہو چکی تھی اور اُس وقت میں صرف ایک ایسا شوہر اور ایک ایسا باپ تھا جو کچھ اور نہیں صرف اپنے گھر واپس جانا چاہتا تھا۔ اور ہاں، میں اُس وقت ایک بچوں کی طرح رو رہا تھا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...