ان نامی گرامی پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی... پہلی قسط

ان نامی گرامی پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی... ...
ان نامی گرامی پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی... پہلی قسط

  



پبلک جھپکتے میں حیرت کاسماں بندھ گیا تھا۔ ہزاروں کا مجمع سکوت کے گہرے سمندر میں ڈوب چکا تھا۔ حالانکہ چند لمحے قبل یہی مجمع زندگی کی توانائیوں سے بھرپور بڑھکیں لگا رہا ، تالیاں بجا رہا تھا اور اپنی اپنی پسند کے پہلوانوں کی تعریف کے ڈونگرے برسا کر انہیں ’’ہلہ شیری‘‘ دے رہا تھا مگر اب توجیسے ہر فرد کو سانپ سونگھ گیا تھا۔

مجمع کی یہ حالت بے سبب نہ تھی۔ وہ منظر تھا ہی حیران کردینے والا۔ ہجوم کی پُر اشتیاق نظریں اس نوخیز لڑکے پر جمی تھیں جو قرمزی جانگیا پہنے اکھاڑے میں کسی چھلاوے کی طرح اچھل رہا تھا۔ وہ تیرہ چودہ سالہ پہلوان اپنی عمر سے دوگنے ایک فنکار پہلوان کو چند سکینڈ میں پچھاڑ کر اپنی فتح پر جھوم رہا ، ناچ رہا تھا۔ اسکی یہ حرکت کسی غرورکی مظہر نہیں تھی بلکہ وہ اپنی طاقت کی جولانیاں دکھا رہاتھا۔

ہزاروں افراد کے مجمع کی تالو سے چپکی زبانیں کھلنے لگیں اور سرگوشیوں کے اندازمیں اس نوخیز لڑکے کے بارے میں تبصرے ہونے لگے۔ وہ سب ایک دوسرے سے اس کے بارے میں دریافت کرنے لگے۔ فی الوقت انہیں کسی جانب سے اپنے سوالوں کے جواب نہیں مل رہے تھے۔ ان کی حیرانی کا یہ عالم یونہی برقراررہا اوران کی نظریں اس چھلاوے کے کسرتی بدن کوناپنے لگیں۔

اس کی تو ابھی مسیں نہیں بھیگی تھیں۔ مگر قدکاٹھ کا ایسا تھا کہ اسکا فولادی جسم دیکھ کر اس پر تجربہ کار فنکار پہلوان کا گماں ہوتا تھا۔ اسی لئے تو وہ مجمع کو حیران کر گیا تھا۔

چند منٹ پہلے جب یہی ’’چھلاوا‘‘ نما کمسن پہلوان اکھاڑے میں اترا تھا توبہت سوں کے ہونٹ معنی خیز مسکراہٹ سے کھل اٹھے تھے۔ کیونکہ اس کے مقابلہ میں صدیق نامی ایک فنکار پہلوان ہاتھی کی مانند جھول رہا تھا جو اس چھلاوے سے نہ صرف عمر میں بلکہ قد کاٹھ اور تجربہ میں بھی دو تین گنا تھا۔ تماشائیوں کو پہلے تو دنگل کے خلیفہ کی ذہنی صحت پر شک ہوا تھا جو ایک بڑی جوڑ کے پہلوان کے مقابلہ میں کمسن پہلوان کو لے آیا تھا پھر یہ سوچ کر سب نے محظوظ ہونے کا فیصلہ کر لیا ’’چلو آج یہ تماشا بھی دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

کمسن پہلوان کو اکھاڑے میں اتارنے سے پہلے اس کے ماموں کو بڑی تگ و دو کرنا پڑی تھی۔ وہ اپے بھانجے کے بارے میں بہت پر اعتماد تھا ۔اس نے دنگل کے خلیفہ کو اپنے بھانجے کا جوڑ اکھاڑے میں اتارنے کے لئے کہا تو خلیفہ نے اس کے مامون کو کوئی اہمیت نہ دی جس پر اس نے خلیفہ کو بڑے متین لہجہ میں کہا۔

’’خلیفہ جی! میرے بھانجے کوبھی فنکاری دکھانے کا موقع دیں۔‘‘

خلیفہ نے متکبرانہ انداز میں اس کو دیکھا اور پوچھا’’تمہیں پہلے کہیں نہیں دیکھا۔‘‘

’’ہم جی پٹیالہ سے آئے ہیں‘‘ اس نے کہا’’سنا تھا کہ گوالیارکے مہاراجہ نے خاص دنگل کا اہتمام کیا ہے اس لئے ہم بھی زور آزمائی کرنے آگئے ہیں۔‘‘

خلیفہ نے اپنا لہجہ برقرار رکھا اور پوچھا۔’’تم بھی کوئی فنکاری دکھاؤ گے یا تمہارا پٹھہ۔۔۔‘‘

’’نہیں خلیفہ جی۔۔۔اب ہماری جوانی کا سورج تو ڈھل چکا۔ اپنے پٹھے کو اکھاڑے میں اتارنا چاہتا ہوں‘‘ اس نے اپنے بھانجے کو توصیفی نظروں سے دیکھا اور کہا’’سخی پیر کی دعا سے میرا بھانجھا بڑا شہ زور اور ترکھا ہے۔ آپ اسکا کوئی جوڑ لائیے۔ بلکہ اس سے دوگنا بڑا جوڑ ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ انشاء اللہ میرا پٹھہ مایوس نہیں کرے گا۔‘‘

خلیفہ کی آنکھیں ایک لمحہ کے لئے پھیل گئیں پھر اسنے ایک نگاہ غلط کمسن پہلوان پر ڈالی جواپنے ماموں کے برابر سینہ تانے کھڑا تھا۔ کمسن پہلوان نے خلیفہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور اپنا سینہ ٹھونک کر بولا۔’’خلیفہ جی، جوڑ مجھ سے بڑاہی نکالئے۔ برابر کے جوڑ سے ہتھ جوری کا مزہ نہ آئے گا۔‘‘

’’اچھا‘‘ بڑے دعوے ہیں۔ کوئی حسب نسب ہے تو بتاؤ۔‘‘ خلیفہ نے کمسن پہلوان کو مسکرا کرکہا۔

’’خلیفہ جی!اس کے بارے میں بس اتنا ہی کافی ہے کہ یہ شیر ابن شیرہے۔‘‘ کمسن پہلوان کے ماموں نے کہا تو خلیفہ ایک لمحہ کے لئے چونک سا گیا۔ ماموں بھانجے کے پُر اعتماد لہجے نے خلیفہ کو متزلزل کر دیا۔

’’یہ توٹھیک ہے مگریہ جاننابھی ضروری ہے کہ یہ بچہ کس کاپٹھہ ہے؟۔ خاندانی پہلوان ہے یا ابھی نیانیا دنیائے پہلوانی میں آیا ہے۔‘‘ خلیفہ نے کہا۔ ’’آپ اگر پہلوان ہیں توخوب جانتے ہیں کہ جوڑ کو اکھاڑے میں اتارنے سے پہلے اسکا ڈھنڈورا کرانا ضروری ہوتاہے۔‘‘

’’خلیفہ جی!یہ میرا پٹھہ ہے اورمیرا نام حمیدہ پہلوان ہے۔۔۔‘‘حمیدہ پہلوان لڑکے کے ماموں نے اپنا تعارف کرانے کے بعداپنے بھانجے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’مگر ہم اسے پیار سے بھولو کہتے ہیں۔‘‘

خلیفہ حمیدہ پہلوان کا نام سن کر ہمہ تن گوش ہوگیا۔ اسکے چہرے پر شرمندگی سی چھانے لگی۔’’خلیفہ جی! اس بھولوکا جو والد ہے اس کا نام امام بخش پہلوان رستم ہند ہے۔ تایا اسکا رستم زماں گاماں پہلوان ہے۔ دادا عزیز بخش پہلوان بہی والا تھا اور نانا رحمانی پہلوان امرتسری تھا۔ یہ دونوں طرف سے رستموں کا فرزند ہے۔ یعنی ہوا ناں شیرا بن شیر۔ اب کہئے اس کی عمرکا جوڑ ہی نکالیں گے یا بڑا!‘‘

خلیفہ اپنے رویہ پر نادم تھا۔ وہ جوہر شناس ضرور تھا مگر یہاں مات کھا گیا۔ اس سے بڑی بھول ہوئی جو اس نے حمیدہ پہلوان کے لئے پہلے پہل طنزیہ لہجہ اختیار کیا۔ اسنے حمیدہ پہلوان کا نام سن رکھا تھا اور اس کی دلیری اور درویشی سے اچھی طرف واقف تھا۔ حمیدہ پہلوان سے یہ اسکی پہلی ملاقات تھی۔ اگر وہ ان سے پہلے مل چکاہوتا تو یوں خطا کاری نہ کرتا۔ حمیدہ پہلوان کو خلیفہ کا لہجہ بڑا کسیلا لگا تھا۔ جبھی انہوں نے جواباً بھولوکاتعارف کرانے سے پہلے تمہید باندھدی تھی ورنہ یہ حرکت توان کے مزاج کے بالکل خلاف تھی۔ حمیدہ پہلوان ایک درویش صفت پہلوان تھے جو ایام جوانی میں ہمیشہ قلندرانہ مزاج کے ساتھ کسرت کرتے تھے۔ وہ اپنا تعارف کرانے میں نہ توپہل کرتے تھے اور نہ ہی شان تفاخر سے ان کی گردن اکڑ جاتی تھی بلکہ انکساری ان کے مزاج کا خاصہ تھی۔

حمیدہ پہلوان جتنا نیک سیرت تھا اتناہی طاقت اور فنکاری میں مہان تھا۔ انہوں نے گونگاپہلوان رستم ہند، منگل سنگھ پہلوان اور گنڈا سنگھ پہلوان جیسے نامی گرامی پہلوانوں کو پچھاڑ کر رستم ہند کا اعزازحاصل کیا تھا۔ ان کی شرافت اور سادگی کاایک معمولی سا واقعہ زبان زد عام رہا۔ وہ یہ کہ ایک بار حمیدہ پہلوان ایک دنگل دیکھنے کے لئے گئے۔ بہت ہجوم تھا۔ ایک تھانیدار نے حمیدہ پہلوان کونہ پہچانا اور انہیں اپنی چھڑی کی نوک چبھو کر بدتمیزی سے کہا۔

’’اوئے چل قطار میں کھڑے ہو۔‘‘

حمیدہ پہلوان نے حکم کی تعمیل کی۔ کسی نے تھانیدارکوکہا ’’جانتے ہویہ کون ہے؟‘‘

یہ رستم ہند حمیدہ پہلوان ہیں۔‘‘ تھانیدار شرمندہ ہوگیا اورحمیدہ پہلوان سے معذرت چاہی جس پر حمیدہ پہلوان کہنے لگے۔’’کوئی بات نہیں تھانیدار صاحب! یہ تو آپ کی ڈیوٹی ہے۔‘‘ تھانیدارکی حرکت کواس نامی گرامی پہلوان نے نظر انداز کرکے تھانیدار کو شرمندگی سے بچا لیا۔

خلیفہ نے چند جوڑ نکالنے کے بعد بھولو کو اکھاڑے میں بلوایا اور منصف کے ذریعے اعلان کرایا۔

’’اس بچے کو اپنے سے بڑے پہلوان سے کشتی لڑنے کاشوق ہے۔ یہ شیر ابن شیر رستموں کابیٹا ہے۔ امام بخش رستم ہند کا بیٹا، گاماں رستم زماں کابھتیجا اور حمیدہ پہلوان کا پٹھہ ہے۔ اس کے مقابلہ پر صدیق پہلوان آرہا ہے جوڑبرابر کانہیں ہے۔ ایک اگر سیر ہے تو دوسراچھٹانک، دیکھئے اب کون میدان مارتا ہے۔‘‘

مجمع نے کمسن پہلوان بھولو کا تعارف سنا تو ہرکوئی اسکی طرف متوجہ ہوگیا۔ ہرکسی کا خیال تھا کہ اتنے بڑے پہلوانوں کا سپوت ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ بزرگوں کی تمام طاقتیں بھی اس چھوٹے سے وجود میں دخول کر چکی ہوں۔ اس کی جتنی عمرہے اتنا ہی تجربہ ہوگا۔ اپنی عمرسے بڑھ کر یہ کیا تیر مارے گا۔ اسے اپنے برابرکا جوڑ ہی مانگنا چاہئے۔ بڑے جوڑ سے مار کھا کراپنے خاندان کی بدنامی کا باعث نہ بن جائے۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : طاقت کے طوفاں


loading...