دستی کےدس جرائم

 دستی کےدس جرائم
 دستی کےدس جرائم

  



تحریر: محمد رفیق  متراہ آبادی 

مسٹر ون فائیو(15) یعنی ہلپ لائن کے نام سے مشہور،مظفر گڑھ کی بستی جھنگ موڑ کے رہنے والے غریب محکمہ آبپاشی کے بیلدار  کے فرزند   جمشید دستی کو پہلوانی اور کشتی کا شوق تو والد سے ہوا۔ بعد میں ذہن آزمائی بھی کرنے کے لیے میدان عمل میں آئے اور محترم ایدھی صاحب کے مشن کو سنبھالتے ہوئے  اس میں نئی بات کا اضافہ کرتے ہوئے وقت کے فرعونوں کے سامنے غرباء کی آواز کو ببانگ دھل اسمبلی کے فلور پر بلند کیا ۔بچپن مصائب و آلام اور غربت میں گزرا۔ والدہ نے جانور پال کر پرورش کی  ۔ چند ہزار روپے سے الیکشن میں حصہ لیا۔ غریبوں کی آواز بن کر، غرباء نے دل کھول کر ساتھ دیا اور یوں حنا ربانی کھر کے حلقے میں سے  ساٹھ ہزار ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اورNA.178 سے بھاری اکثریت سے آزاد امیدوار کے حیثیت سے جیت کے جھنڈے گاڑدئے ۔ڈرون  کے خلاف آواز بلند کی کیونکہ وہ ملکی خود مختاری کے خلاف تھے اور حقیقی اپوزیشن کا کردار نبھاتے ہوئے حکومت مخالف تقریریں کھل کر کیں  اور کوئی طاقت انکی آواز کو دبا نہ سکی۔

مظفر گڑھ کے مزدور اور غربت میں پسے ہوئے لوگوں کو فری بس سروس مخیر حضرات کے تعاون سے مہیاکی جو پانچ بڑی بسوں پر مشتمل ہے ،رکشہ یونین کے ساتھ گدھا گاڑی والوں کے لیے بھی یونین قائم کی۔

جمشید دستی فی الحال دہشت گردی کی  ایف ۔آئی ۔آر  کی وجہ سے  مظفر گڑھ سے ڈیرہ غازی خان  اور اب سرگودھا جیل میں ہیں،ویسے تو دستی صاحب کے جرائم اتنے ہیں کہ لسٹ سے باہر ہیں مگر میں نے اس مختصر رپورٹ میں دس جرائم پر اکتفاء کیا ہے

1۔جمشید دستی کا پہلا جرم یہ ہے کہ وہ ایک غریب  شخص کا بیٹا ہے اگر وہ کسی امیر کے گھر پیدا ہوتا تو آج مجرم نا ہوتا۔2۔دوسرا جرم یہ ہے کہ جس طرح ہماری پاکستانی کلچر کی پہچان  ہے کہ عہدہ اور شہرت کے ملتے ہی اپنی اوقات کو بھول کر گرگٹ کی طرح رنگ بدل جاتا ہے   ،موصوف اس وصف سے بھی عاری ہیں اور بغیر سیکیورٹی کے آتے جاتے ہیں جو کہ یقیناً ممبرز کے لیے توہین کا باعث ہیں۔ 3۔تیسرا جرم کہ غریب علاقوں کے رہنے والوں کے لیے دل میں درد   رکھنا  اور انکی فلاح و بہبود کے لیے سر توڑ کوششیں کرنا جبکہ ہر وڈیرے نے اپنی جائدادیں بنائیں ۔4۔چوتھا جرم یہ ہے کہ جس ٹھاٹھ سے  ممبر آف نیشنل اسمبلی  آتے  جاتے ہیں اور راستے کی انسانی رکاوٹوں کو کچلتے ہوئے جاتے ہیں   اسکی بجائے سائکل پر بیٹھ کر جانا   جو اسمبلی میں ممبران کے لیے توہین سے کم نہیں ۔5۔پانچواں جرم تو  یہ ہے کہ  کسانوں کی کھیتیوں کو مرنے سے بچانے کے لیے پانی کا بند کھولا اور الزام یہ ہے کہ وہ پانی سندھ کی طرف جا رہا تھا جس سے دو صوبوں میں تصادم ہو سکتا تھا جبکہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔6۔چھٹا جرم یہ ہے کہ اسمبلی میں بیٹھے ممبران جہا ں قرآن و حدیث کی رو سے قانون سازی کی جاتی ہے  اس مقدس جگہ پر بیٹھ کر پینے والے شرابیوں کو ثبوت سمیت بے نقاب  کیا جو   تیس ، چالیس سال سے کسی نے نہیں کیا جبکہ اسی پارلیمنٹ کا حصہ دین کے نام پر مشہور ہونے والی اسلامی و سیاسی جماعت کے نمائندگان بھی براجمان ہیں۔7۔ساتواں جرم   اسلامی شعار کو زندہ کرنے کے لیے غرباء  کے ساتھ  چھوٹے چھوٹے کاموں میں ہاتھ بٹانا، جیسے کہ گدھا گاڑی چلانا،بال کاٹنا،لوگوں کو فری جوتے پالش کر کے دینا ،کہیں سبزی بیچنا ،کہیں فروٹ کا ٹھیلہ لگانا جبکہ دیگر لوگ انہیں کام کرنے نہیں دیتے۔ LDA  کے ذریعے غرباء کا استحصال کیا جاتا ہے۔8۔آٹھواں جرم یہ ہے  کہ مظلوموں ،مقتولوں اور شہیدوں کے حق میں آواز  کا بلندکرنا   عین  اس وقت جبکہ جمہوریت پورے آب و تاب سے بادشاہت کا لبادہ اوڑھ چکی ہو ۔9۔نواں جرم تو یہ ہے کہ عین اس وقت کہ جب موجودہ حکومت میں بیٹھے لوگ فوج کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہوں  اور سوشل میڈیا پر اورچینلز پر آ کر  فوج کو دھمکی دے رہے ہوں کہ ہم تمہارا حشر نشر کر دینگے عین اس وقت محترم میاں محمد نواز شریف کے دورے کے دوران اتنی بڑی جسارت کی کہ ان کے سامنے گو نواز گو  کے نعرے لگوائے بلکہ عوامی طاقت بھی دکھائی۔10۔ دسواں اور سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ جمشید دستی کرپشن مہیں کرتا ۔ جس جگہ پر اربوں روپے کا مال کھا کر ڈکار بھی نہ لیا جاتا ہو،جس جگہ پر چلتے پھرتے عام سے پولیس افسر کو کچل کر کچہری جاتے وقت بغیرہتھکڑی پولیس کے پرٹوکول میں  لایا لے جایا جاتا  ہو اور میڈیا کو انتہائی نا زیبا الفاظ سے نوازا جاتا ہو،وہاں دسی جیسا عام پاکستانی ایم این اے تو مجرم کہلائے گا۔نہ تو ان پہ منی لانڈرنگ کا کیس ہے اور نا ہی ان پر ٹیکس کی عدم ادائیگی کا الزام ہے،نا تو شراب وجوے کا۔ اور اوپر سے آزاد امیدوار ہوتے ہوئے دو حلقوں میں بہترین کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

ایسے شخص کو ضرور کال کوٹھڑی میں سانپوں اور بچھوؤں  اور چوہوں کا سامنا کرنا چاہیے ،میرے خیال سے جیل میں بیٹھے سانپ اور بچھو یقیناً اقتدار میں بیٹھے ہوئے بچھوؤں اور سانپوں  سے کم زہریلے ہونگے  ۔اللہ تعالیٰ مظلوم جمشید دستی کو اپنے فضل کے ذریعے  اور اپنے پیارے محبوب کے صدقے رہائی دلائے اور انکی بوڑھی والدہ اور بیمار بہن کو جو کہ کینسر کی آخری سٹیج پر ہے اسے صبر عطا فرمائے۔

فیض احمد فیض نے بہت پہلے  ہمارے معاشرے کی عکاسی اپنے اشعار میں کر دی تھی ،اور وہ کہتے ہیں کہ اب ایسا دور آ گیا ہے کہ اگر اپنی جان عزیز ہے تو  خاموش ہو کر رہنا پڑے گا جابر کے جبر کو اور ظالم کے ظلم کو برداشت کرنا پڑے گاوہ لکھتے ہیں

نثار میں تیری گلی کے اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

۔مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے فیض ہمارے مستقبل کو سمجھتے تھے یا ہمارے حکمرانون نے فیض کے اشعار کو عملی طور جامہ پہنانے کی بھرپور سعی  کی ہے ۔ چار دن کی زندگی ہے آخر کوئی کتنا ظلم کر لے گا ،ہمیشہ ظلم اور جبر  کو ختم ہونا پڑتا ہے ۔اس لیے سمجھدار لوگ کہتے ہیں جیسی کرنی ویسی بھرنی۔

ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا آسان کام نہیں  اس کا خمیازہ ڈاکٹر محمدطاہر القادری  کو بھگتنا پڑا ہے وہ بھی  چودہ  خون کی صورت میں  سو سے زائد زخمیوں کی صورت میں اور کئی کارکنان ہمیشہ کے لیے معذورکر دیے گئے مزید بھی انہیں ایسی امید ہی رکھنی چاہیے۔میرے خیال سے ابھی بھی قوم کے اندر شعور موجود ہے ۔ جو کہ جمشید دستی کی حمایت میں سوشل میڈیا پر لوگوں نے سپورٹ کیا ہے بلکہ ممبرز آف نیشنل اسمبلی اور کئی دیگرتنظیموں نے بھی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے مطابق  اور جمشید دستی کی بہن کی طرف سے ملنے والی معلومات کے مطابق جمشید دستی کی جان کو خطرہ تھا  میڈیا پر خبر گرم تھی کہ انہیں باغی قرار دے کر پولیس مقابلے میں مار دیا جانا تھا ۔اگر ہماری قوم آج بھی حق کے آواز بلند نہیں کرتی تو پھر ہمیشہ کے لیے ظلم ،جبر ،کرپشن،رشوت،دہشت گردی،بد عنوانی اوراغوا برائے تاوان جیسے تحائف کی منتظر رہے۔۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ