ربّ العالمین کو”اللہ میاں“ کہناچاہئے یا نہیں? کہیں ہم سب گستاخی کے مرتکب تو نہیں ہورہے؟

ربّ العالمین کو”اللہ میاں“ کہناچاہئے یا نہیں? کہیں ہم سب گستاخی کے مرتکب تو ...
ربّ العالمین کو”اللہ میاں“ کہناچاہئے یا نہیں? کہیں ہم سب گستاخی کے مرتکب تو نہیں ہورہے؟

  



لاہور ( نظام الدولہ)واٹس ایپ اور فیس بک سے تبادلہ خیال اور علمی مباحثوں میں جہاں دلچسپ سہولت فراہم ہورہی ہے وہاں مذہبی حوالے سے معلومات میں کمی کی وجہ سے عام مسلمانوں میں الجھنیں بھی جنم لے رہی ہیں ۔ایک ایسا ہی مسئلہ ان دنوں بھی جاری ہے کہ ربّ العالمین کو ” اللہ میاں “ کہنا چاہیے یا نہیں ،کہیں اس سے اللہ کی شان اقدس میں گستاخی تو نہیں ہورہی۔ ہمارے ہاں میاں کا لفظ بہت عام ہے ،اسکا مطلب شوہر، سر تاج ،دلال ،وغیرہ لیا جاتا ہے یا کچھ ذاتوں میں نام سے پہلے میاں کا لفظ لگایا جاتا ہے تو اس سے ذات برادی کی پہچان ہوجاتی ہے۔ اس الجھن کی شرعی حیثیت پر دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاءکا استدلال ہے کہ اللہ میاں کہنا درست ہے۔یہ کوئی عیب یا گستاخی نہیں۔ اردو زبان میں جب یہ لفظ اللہ کے نام کے ساتھ آئے تواس موقعہ پر لفظ میاں تعظیم کے لیے بولا جاتا ہے، اپنے محاورات اور بول چال میں اگر کوئی شخص یہ لفظ اللہ کے نام کے ساتھ بولتا ہے تو درست ہے، اللہ کے ساتھ میاں استعمال ہونے کی صورت میں دیگرمعنوں کا احتمال باقی نہیں رہتا، متعلقات کی تبدیلی سے معنی کی تبدیلی خود قرآن پاک میں موجود ہے”ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبیی“ یہاں اللہ کی طرف صلاة کی نسبت کرنے میں معنی اور ہوں گے اور ملائکہ کی طرف نسبت کرنے میں معنی اور ہوں گے۔ادارہ جامعة العلوم الاسلامیہ کراچی بھی ”اللہ میاں “ کہنے پر اسکو گناہ اور بے ادبی قرار نہیں دیتا تاہم تنظیم اتحادا مت کے چیئرمین اور ناظم اعلیٰ اتحادا مت اسلامک سنٹر محمد ضیاء الحق نقشبندی کی اپیل پر تنظیم اتحاد امت کے شریعہ بورڈ کے50سے زائد مفتیان کرام نے شرعی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اللہ تعالیٰ “ کے نام کے ساتھ ”میاں اور سائیں “کہناشرعی طور پر درست نہیں ہے۔ کیونکہ ان الفاظ کے معنی کم تر ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...