معمولی جرائم کے مجرموں کوجیل بھیجنے کی بجائے بطورسزا فنی نوعیت کے کام لے کرمعاشرے کا مفیدشہری بنایاجاسکتا ،ورکشاپ سے ججوں کا خطاب

معمولی جرائم کے مجرموں کوجیل بھیجنے کی بجائے بطورسزا فنی نوعیت کے کام لے ...
معمولی جرائم کے مجرموں کوجیل بھیجنے کی بجائے بطورسزا فنی نوعیت کے کام لے کرمعاشرے کا مفیدشہری بنایاجاسکتا ،ورکشاپ سے ججوں کا خطاب

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں پروبیشن کے دوران کمیونٹی سروسز کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ میں ججوں،پولیس افسروں سمیت متعلقہ شخصیات نے شرکت کی۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی،4نوجوان شہید ، خاتون سمیت14زخمی

ججوں کا کہناہے کہ معمولی جرائم میں ملوث مجرموں کوجیلوں میں بھیجنے کی بجائے ان سے سزا کے طورپرفنی نوعیت کے کام لے کرانہیں معاشرے کا مفیدشہری بنایاجاسکتا ہے۔پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں پروبیشن کے دوران کمیونٹی سروسز کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں سیشن جج لاہورعابد حسین قریشی ، سیشن جج روالپنڈی سہیل ناصر،سیشن جج شیخوپورہ سردارطاہرصابر، سیشن جج ننکانہ خالد نوید ڈار، سیشن جج قصورسید مظفرعلی شاہ ، سیشن جج گوجرانولہ عبدالناصر، سیشن جج فیصل آباد نذیراحمد گجانہ ، سیشن جج حافظ آباد اشترعباس سمیت دیگرجوڈیشل افسران، پروبیشن افسران، پراسیکیوشن، پولیس اورجیل پولیس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاءکو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل ناصر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروبیشن کا مقصد معمولی جرائم میں ملوث جیلوں میں بھیجنے کی بجائے ان سے سزا کے طورکام لے کران کو معاشرے کا مفید شہری بنانا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ پروبیشن کے دوران معاشرے کے ہرفرد کو ان ملزمان کی اصلاح کے لئے اپنا کردارادا کرنا چاہیے ، ان ملزمان سے سزاکے طورپردوسروں کوپڑھانے سمیت دیگرفنی کام لے کرمعاشرے کا مفیدشہری بنایاجاسکتا ہے۔سیشن جج لاہورعابد حسین قریشی نے کہا کہ معمولی قسم کے جرائم میں ملوث زیادہ ترملزمان زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے ان کوجیلوں میں بھیجنے کی بجائے ان سے سزا کے طوپردرخت لگانے،الیکٹریشن سمیت دیگرفنی نوعیت کے کام لئے جاسکتے ہیں۔ تقریب سے اسد جمال، شاہ سلمان، دل محمد ملک، ارشدمحمود اور سکائپ کے ذریعے برطانوی ہائی کورٹ کے جسٹس مورا مک گاﺅن نے لیکچرز دیئے۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاءکواسناد بھی دی گئیں۔

مزید : لاہور


loading...