'پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کا فیصلہ ٹی وی اینکر کے سوال پر کیا ، 15 ماہ تک تیاری کی: سابق بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکرکا انوکھا دعویٰ

'پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کا فیصلہ ٹی وی اینکر کے سوال پر کیا ، 15 ماہ تک ...
'پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کا فیصلہ ٹی وی اینکر کے سوال پر کیا ، 15 ماہ تک تیاری کی: سابق بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکرکا انوکھا دعویٰ

  



نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت کو پاکستانی حدود میں جھوٹے اور بے بنیاد سرجیکل سٹرائیک کے دعوی اور پوری دنیا میں ذلت و رسوائی حاصل کرنے کے بعد بھی چین نہ آیا،اب ایک مرتبہ پھر ہندوستان کے سابق وزیر دفاع اور مودی کابینہ کے اہم رکن رہے اور اب گو ا کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز  منوہر پاریکر نے انڈیا کی جگ ہنسائی کے لئے متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی وزیر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور سے ایک نجی  ٹیلی ویژن اینکر کے توہین آمیز سوال کی وجہ سے انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیک کا فیصلہ کیا تھا۔

بھارتی نجی ٹی وی کے مطابق  پنجی میں صنعت کاروں کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے گوا کے وزیر اعلیٰ سابق وزیر دفاع منوہر پاریکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کا منصوبہ 15 ماہ قبل بنایا گیا تھا۔انہوں نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 4 جون 2015 کو شمال مشرقی علاقے کے دہشت پسند گروپ این ایس سی این نے منی پور کے چندیل ضلع میں بھارتی فوج کے ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا اور 18 جوانوں کو ہلاک کر دیا ، جب انہیں یہ اطلاع ملی تو بقول ان کے میں نے توہین محسوس کی کہ دو سو افراد کے ایک دہشت گرد گروپ نے 18 ڈوگرہ جوانوں کو ہلاک کر دیا ،  یہ فوج کی توہین تھی، ہم نے دوپہر اور شام میں میٹنگ کی اور پہلی سرجیکل سٹرائیک کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ  8 جون کو  سرجیکل سٹرائیک کی گئی جس میں بھارت میانمار سرحد پر 70-80 دہشت گرد مارے گئے،مرکزی وزیر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور جو کہ سابق فوجی میں، ایک ٹی وی چینل پر اس کی تفصیلات پیش کر رہے تھے۔ اینکر نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ کے اندر مغربی سرحد پر بھی اسی قسم کی کارروائی کرنے کی جرات اور اہلیت ہے؟منوہر پاریکر  کے بقول میں نے اسے بڑی شدت سے سنا اور فیصلہ کیا کہ جب وقت آئے گا تو ایسا کیا جائے گا۔ 29 ستمبر 2016 کی سرجیکل سٹرائیک کی تیاری 9 جون 2015 سے شروع کر دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان نے سرجیکل سٹرائیک کے بھارت کے دعوے کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ایسی کوئی کارروائی سرے سے ہوئی ہی نہیں ہے۔بھارت بھی حزب اختلاف کی بعض جماعتوں نے اس دعوے پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت سے سرجیکل سٹرائیک کا ثبوت دینے کا مطالبہ کیا تھا مگر مودی سرکار اپنے ملک کی سیاسی جماعتوں اور عوام کے سامنے بھی اس جھوٹے دعوی کے کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی تھی ۔منوہر پاریکر کے اس بیان پر بھارت میں نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ ایک سینیر تجزیہ کار پروفیسر اپوروانند نے کہا کہ یہ بہت خطرناک بیان ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت انتہائی غیر سنجیدہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، عوام کو اس حکومت سے محتاط رہنا چاہیے۔ کیونکہ اس ملک کے لوگ محفوظ نہیں ہیں، یہ سرکار ٹیلی ویژن اینکر کے سوال پر فیصلے کر رہی ہے، اگر ایسے سوالات پر اتنے بڑے فیصلے کیے جا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ حکومت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ان میں نہ تو گہرائی ہے اور نہ ہی ٹھہرا ؤ ہے۔انہوں نے کہا کہ  ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں حکومت کی باگ ڈور کا ہونا ملک کی بیرونی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ہے اور اندرونی سلامتی کے لیے بھی۔سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے بھی اس بیان پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مرکز کی اسٹریٹجک سیکیورٹی پالیسی کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے ٹویٹر پر کہا کہ اگر ایک نیوز اینکر کے مبینہ سوال کی بنیاد پر اتنا بڑا فیصلہ کیا جاتا ہے تو پھر اس ملک کے عوام کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟۔

مزید : بین الاقوامی


loading...