امریکہ افغانستا ن کی ربورٹ بنانے والی لڑکیوں سے ڈر گیا ،آنے سے روک دیا

امریکہ افغانستا ن کی ربورٹ بنانے والی لڑکیوں سے ڈر گیا ،آنے سے روک دیا
امریکہ افغانستا ن کی ربورٹ بنانے والی لڑکیوں سے ڈر گیا ،آنے سے روک دیا

  



کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان سے طالبان کی حکومت تو ختم ہو گئی لیکن امریکا افغان عوام کی ’ترقی اور آزادی‘ کے لئے اب بھی یہاں موجود ہے۔ امریکا بہادر افغانوں کی ترقی اور آزادی کے ساتھ کتنا مخلص ہے اس کا اندازہ ان ذہین طالبات کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی سے کیا جا سکتا ہے جنہیں امریکا میں منعقد ہونے والے روبورٹ ٹیکنالوجی کے مقابلے فرسٹ گلوبل چیلنج میں شرکت کیلئے جانا تھا مگر ہزار کوشش کے باوجود امریکا کا ویزا نہیں مل سکا۔

جریدے فوربز کی رپورٹ کے مطابق ذہین افغان طالبات کے ایجاد کردہ روبوٹ کو توامریکا جانے کی اجازت مل گئی ہے لیکن طالبات کو اپنے روبوٹ کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان لڑکیوں کا تعلق ہرات شہر سے ہے اور وہ 500 میل کا انتہائی کٹھن سفر طے کر کے ایک نہیں بلکہ دو بار ویزا انٹریو کیلئے دارلحکومت کابل گئیں، لیکن بدقسمتی سے انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ افغان لڑکیوں کو ویزا کیوں نہیں دیا گیا۔ دریں اثناء لڑکیاں اپنے روبوٹ کو آخری مرحلے کیلئے تیار کر رہی ہیں تاکہ یہ امریکا جا کر مقابلے میں شریک 163 دیگر روبوٹس کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔

فرسٹ گلوبل کے صدر اور سابق امریکی کانگرس مین جو سیسٹاک نے اس صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ہرگز توقع نہیں کر رہا تھا کہ افغانستان کی ان انتہائی قابل اور بہادر لڑکیوں کو امریکا آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ مقابلے کے روز وہ 7000 میل کی دوری سے وہ اپنے روبوٹ کی حوصلہ افزائی کر رہی ہوں گی۔‘‘ واضح رہے کہ اس مقابلے کیلئے عراق، ایران اور سوڈان جیسے ممالک کی ٹیموں کو پہلے ہی ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس