جرمنی نے فیس بک ،گوگل،ٹویٹر کو ایسی دھمکی دے دی کہ اب وہ ایسی حرکتیں بالکل نہیں کریں گے جو وہ پاکستان میں کرتے ہیں

جرمنی نے فیس بک ،گوگل،ٹویٹر کو ایسی دھمکی دے دی کہ اب وہ ایسی حرکتیں بالکل ...
جرمنی نے فیس بک ،گوگل،ٹویٹر کو ایسی دھمکی دے دی کہ اب وہ ایسی حرکتیں بالکل نہیں کریں گے جو وہ پاکستان میں کرتے ہیں

  



برلن ( نیوزڈیسک) آج کے جدید دور میں جہاں عام شہری سوشل میڈیا کا ستعمال کرتے ہیں وہی دہشتگردوں کے ہاتھ میں بھی یہ خطرناک ہتھیار بن گیا ہے۔ دہشتگرد تنظیمیں نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتی ہیں جبکہ شدت پسند نظریات رکھنے والے عام شہری بھی متنازع اور نفرت انگیز مواد سوشل میڈیا پر بکثرت پوسٹ کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ مسئلہ دنیا بھر میں سامنے آ رہا ہے لیکن جرمنی نے اس کے انسداد کیلئے ایک حیرت انگیز قدم اٹھا لیا ہے۔

جرمن پارلیمنٹ نے ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے جس کے مطابق فیس بک، ٹویٹراور یوٹیوب جیسی ویب سائٹوں کیلئے لازم ہو گا کہ وہ پوسٹ کئے گئے کسی بھی قسم کے نفرت انگیز مواد کو فوری پر ڈیلیٹ کریں ورنہ انہیں بھاری جرمانے کا سامنا کرنا ہو گا ۔

ویب سائٹ DW.comکی رپورٹ کے مطابق نئے قانون کے تحت کمپنیوں کے پاس 24 گھنٹوں کا ٹائم ہو گا جس کے دوران وہ جرمن قانون کے مطابق نفرت انگیز اور متنازع قرار دیئے گئے مواد کو ہٹا سکیں گی۔ زیادہ پیچیدہ اور مبہم مواد کی صورت میں یہ مہلت سات دن کی ہو گی۔ نفرت انگیز مواد کو دیئے گئے وقت میں ختم نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ کمپنی کو 50 ملین یورو ( تقریباً 6ارب پاکستانی روپے ) کا جرمانہ ہو گا۔

جرمن حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد کی صورت میں انٹرنیٹ پر نفرت انگیز مواد ، جعلی خبروں اور دہشتگرد تنظیموں کے پراپیگنڈہ میں بڑی حد تک کمی آجائے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...