اتنی سی کہانی

اتنی سی کہانی
اتنی سی کہانی

  

بڑے لوگ

ہماری ٹرین محراب پور پر خراب ہو گئی

جو جی بتانے لگا

’’چھوٹا سا گاؤں، دور دور تک کھیت کھلیان

شدید دھوپ میں ٹرین جلد ہی تنور بن گئی

بچے پیاس سے بلکنے

حلق خشک اور بھوک پیاس سے لوگ بے حال ہو گئے

عجب بے بسی تھی‘‘

اتنے میں قریبی گاؤں سے کچھ لوگ آتے دکھائی دئے

کِسی کے پاس ٹھنڈے پانی کا کولر تھا

کسی کے پاس گھڑا۔

کوئی چاولوں کی دیگ لایا،کوئی دودھ کا برتن۔مسافروں میں زندگی لوٹ آئی

آخر میں جوجی کہنے لگا،

’’شکر ہے ٹرین شہر میں خراب نہیں ہوئی غریبوں کی جیب خالی لیکن دِل بڑے ہوتے ہیں‘‘

مزید : رائے /کالم