کشمیربھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے

کشمیربھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے
کشمیربھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے

میرے بڑے بھائی ممتاز کالم نویس طاہر سرور میرکو لاہور شفٹ ہوئے پچیس برس ہو چکے لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا کہ وہ سال کی دوعیدوں پر گوجرانوالہ نہ آئے ہوں حسب روایت اس باربھی ایسا ہی ہواوہ آئے ہم بھائیوں کے ساتھ نماز عید ادا کی اور قبرستان والدین کی قبروں پر حاضر ہوئے فاتحہ خوانی کے بعداُن کے بارے باتیں کرنے لگے ہمارے والد جموں سے تعلق رکھتے تھے اور جموں سے والہانہ محبت کرتے تھے۔

ان کا خیال تھا اپنی زندگی میں جموں واپس چلے جائیں گئے لیکن ایسا نہ ہوااسی اثناء میں طاہربھائی نے جموں کال ملادی اورجموں کے بارے باتیں کرنے لگے جہاں بھارتی فوج نے ظلم برپاکرکے جنت نظیر وادی کو جہنم بنادیا ہے مقبوضہ کشمیر کی کہانی بہت دردناک ہے جوسات عشروں پرمحیط ہے اس کہانی کاہرورق انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں ہزاروں نہتے شہریوں کی شہادت پرتشدد اور انسانیت سوز واقعات ،نسل کشی خواتین کی بے حرمتی آزادی پسند رہنماؤں کی کشمیریوں سے بھری جیلوں اور پیلٹ گنوں سے آنکھوں کی بینائی چھیننے جیسے واقعات سے بھراپڑا ہے جنت نظیرکشمیرآج لاکھ سے زائد شہداء لاکھوں بے گھر،بیواؤں یتیموں اوراپاہجوں کامسکن ہے مقبوضہ کشمیربھارت کی نام نہاد جمہوریت کے منہ پرطمانچہ ہے جہاں کشمیریوں کے انفرادی اوراجتماعی انسانی حقوق سلب کئے جارہے ہیں آزادی مانگنے والوں پرطاقت کابے تحاشہ استعمال کیاجاتا ہے بھارتی فوج کے ظلم وجبرسے مقبوضہ کشمیر کے شہری محفوظ نہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی داستانیں کئی دہائیوں پرپھیلی ہیں۔ کشمیر کی شہادتوں پر متضاد اعداد و شمارہیں کیونکہ میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں پرکئی طرح کی پابندیوں کی وجہ سے درست اعدادوشمارکئی گنا زیادہ ہوسکتے ہیں سی این این کے مطابق 1989ء سے اب تک مقبوضہ کشمیرمیں 48ہزارافراد شہید ہوئے رائٹر نے بھی اتنی ہی شہادتیں رپورٹ کی ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 65ہزار افراد شہیدہوئے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سترہزارکشمیری شہید ہوئے بھارتی حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق تقریباََ45ہزارکشمیری شہید ہوئے کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی آنکھوں میں چھرے مارنے کودنیا بھرمیں بے نقاب کرنے والی بھارتی صحافی برکھادت تھیں 100 ایسے کشمیری ہیں جن کی آنکھوں میں چھروں کی وجہ سے آنکھوں کی روشنی چلی گئی یہاں تک کہ نوسال کے بچے کی آنکھوں میں بھی چھرے مارے برہان وانی کی شہادت کے بعدکشمیرکی احتجاجی تحریک کودبانے کے لئے بھارتی فوج نے چھروں والی بندوق کااس قدراستعمال کیا کہ اس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی آبادی کے تناسب سے دنیا کے کسی بھی خطے یا شہر کے مقابلے میں اگر کسی جگہ سب سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں تو وہ وادی کشمیر ہے سات لاکھ فوج کشمیرمیں تعینات ہے جو ہر 20 افراد پر ایک فوجی بنتا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیرفوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا ہے کشمیر پاکستان کے لئے زندگی و موت کا مسئلہ ہے پاکستان مسئلہ کشمیر کا فریق بھی ہے اور وکیل بھی پاکستانی قوم اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کشمیرکوشہ رگ جب کہ بھارت اٹوٹ انگ کہتا ہے۔دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کی بڑی وجہ ہی مسئلہ کشمیرہے بھارت اورپاکستان کو مل کراس مسئلے کوحل کرنا چاہئے، کیونکہ جنگ اس کا حل

نہیں مسئلہ کشمیرکو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا، کیونکہ یہ جنوبی ایشاء میں جوہری جنگ کی وجہ بن سکتا ہے اگراسکاٹ لینڈکے عوام کوریفرنڈم کاحق مل سکتا ہے انڈونیشیاء سے عیسائی آبادی پرمشتمل مشرقی علاقے کوآزادمملکت قراردیا جاسکتا ہے یوگنڈامیں قدرتی وسائل سے مالا مال جنوبی سوڈان کی آزادی کاانتظام کیاجاسکتا ہے یوکرین میں روسی فوج کوچندہفتوں میں داخل کرادیاجاتا ہے توپھرکشمیرمیں ظلم وجبر کی پالیسی ترک کیوں نہیں کی جاتی کشمیری حریت پسندآزادی کی جائز جدوجہد کر رہے ہیں مقبوضہ کشمیرمیں بی جے پی کی علیحدگی سے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی حکومت ٹوٹ گئی یہ عمل نہ صرف کشمیر کے بالادست طبقات کی پالیسیوں کی ناکامی کی غمازی کرتا ہے،بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران زرہ نظام کاظلم آخرٹوٹ ہی جاتا ہے یہ مخلوط حکومت شروع سے ہی جعلی اور متضاد بنیادوں پرمبنی تھی بھارتی مقبوضہ کشمیرمیں ظلم کی انتہا سے پوری دنیاواقف ہے کشمیرہی کیاپورے خطے میں ریاستی دھونس اورجبراتنا بڑھ گیا ہے کہ نام نہادجمہوری حکومتوں میں بھی زہریلی اورنظرنہ آنے والی آمریت مسلط ہوچکی ہے جہاں جانوروں کی نسل کشی روکی جارہی ہے مگرنہتے کشمیریوں کی نسل کشی کھلے عام کی جارہی ہے جوبراہ راست فوجی آمریتوں سے کہیں بدترہے ہندوستان میں نریندرمودی کی بی جے پی سرکار کے برسراقتدارآنے کے بعدیہ عمل زیادہ شدت اختیارکرگیا جہاں دائیں بازوکی مخالفت کرنے والی صحافی خاتون کو یا تو مار دیاجاتاہے یا پراسرار اندازمیں خاموش کروا دیا جاتا ہے کبھی امن اورکبھی جنگی جنوں کے یہ ناٹک توسترسال سے یہاں چلتے رہے ہیں اوریہ ایک ہی سکے کے دورخ ہیں مسئلہ صرف کشمیرکاہی نہیں ہے برصغیرکے ڈیڑھ ارب عام لوگ ہرطرح کی غربت محرومی اور ذِلّتوں کا شکار ہیں آدھی دنیا کی تربت اس خطے میں ملتی ہے لیکن یہاں کے حکمران طبقات کوصرف دولت اور طاقت کی ہوس مقدم ہے اس طرز حکمرانی کوبدلنے کی ضرورت ہے اور انسانی نسل کشی کو ختم کرنا ہو گا۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...