پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ

پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ

الیکشن کمیشن نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا ہے،اِس فیصلے کے تحت اب صبح8بجے سے شام6 بجے تک پولنگ ہو گی، درمیان میں کوئی وقفہ نہیں دیا جائے گا،پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد موقع پر ہی گنتی ہو گی اور پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ سٹیشن کے مصدقہ نتائج حوالے کئے جائیں گے۔الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ ووٹروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینے اور انتخابی عمل میں اُن کی شرکت یقینی بنانے کے لئے کیا ہے۔تحریک انصاف نے ایک خط کے ذریعے پولنگ کا وقت رات آٹھ بجے تک کرنے کی درخواست کی تھی،اس سے پہلے عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد وقت رات بارہ بجے تک کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہوں نے اِس ضمن میں الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا یا نہیں،تاہم ان کا مطالبہ اُن کے بیانات میں متعدد بار سامنے آیا۔

اب تک ہونے والے انتخابات میں اگر پولنگ کا مجموعی وقت نو گھنٹے(نان سٹاپ) تھا تو بھی پولنگ اس کے اندر ہی مکمل ہوتی رہی۔البتہ کسی پولنگ سٹیشن پر اگر ووٹ ڈالنے والے قطار کے اندر موجود ہوں تو ان کے لئے وقت میں اضافے کا اختیار پریذائیڈنگ افسر کے پاس ہمیشہ ہی ہوتا ہے اِسی طرح اگر کسی بھی وجہ سے مقررہ وقت کے دوران پولنگ رُک جائے تو ووٹروں کی سہولت کے لئے مقررہ وقت میں مناسب توسیع ہمیشہ ہی کی جاتی ہے، تاہم پورے مُلک میں پولنگ کا وقت پہلی مرتبہ ایک گھنٹے کے لئے بڑھایا گیا ہے،اس اضافی وقت میں اگر ووٹ ڈالنے والے مستفید ہونا چاہیں گے تو اُن کے پاس یہ سہولت موجود ہو گی۔

اگرچہ دُنیا کے بہت سے ممالک میں پولنگ کا وقت دس گھنٹے سے بھی زیادہ ہوتا ہے،لیکن اِن ممالک اور ہمارے مُلک میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ وہاں پولنگ والے دن چھٹی نہیں ہوتی، معمول کے مطابق تمام دن ہر قسم کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں،سرکاری اور نجی شعبے کے دفاتر کھلے رہتے ہیں،تعلیمی اداروں میں حسبِ معمول کام ہو رہا ہوتاہے،جس کسی نے ووٹ ڈالنا ہوتا ہے وہ اپنی سہولت کے مطابق دفتر سے کام کے مقام سے مختصر یا طویل چھٹی لیتاہے یا اگر یہ سہولت موجود ہو تو پورے دِن کی چھٹی بھی لے سکتا ہے۔ووٹ ڈالنے کے لئے ’’پبلک ہالیڈے‘‘ کا کوئی تصور دُنیا کے بہت سے ممالک میں سرے سے موجود ہی نہیں، امریکہ جیسی واحد سپر طاقت میں جو اپنے نظام کی خوبیوں کی وجہ سے ہی اس مقام و مرتبے پر فائز ہوئی ووٹ ڈالنے کے لئے چھٹی نہیں ہوتی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ امریکہ میں پولنگ سٹیشن اتنے زیادہ اور اتنے باسہولت مقامات پر ہوتے ہیں کہ ووٹر آسانی سے اپنا ووٹ ڈال سکتا ہے اسے گھنٹوں قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا پڑتا، بائیو میٹرک مشینیں استعمال ہوتی ہیں، فور سٹار ہوٹلوں تک میں پولنگ سٹیشن بنے ہوتے ہیں اور لوگ اطمینان کے ساتھ ووٹ ڈال کر اپنے اپنے کام پر چلے جاتے ہیں۔پولنگ سٹیشنوں پر لڑائی مار کٹائی کا تصور بھی وہاں اجنبی اجنبی سا ہے۔

ایک اور بات جس سے عام لوگ واقف نہیں وہ یہ ہے کہ امریکہ میں پولنگ کے مقررہ دن سے کئی دن پہلے ہی پولنگ شروع کر دی جاتی ہے اور جو لوگ اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ اُنہیں مقررہ دن ووٹ ڈالنے کے لئے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے وہ اِس سہولت سے پہلے ہی فائدہ اٹھا لیتے ہیں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی اپنی سہولت کے مطابق ووٹ ڈالتے رہتے ہیں اور مشینیں ہر لحاظ سے محفوظ الیکشن سٹاف کے پاس رہتی ہیں اور اُسی وقت گنتی میں شمار کی جاتی ہیں، جب پولنگ والے دن پولنگ کی تکمیل کے بعد گنتی شروع ہوتی ہے،کبھی نہیں سُنا کہ اس نظام پر کسی سیاسی جماعت یا امیدوار نے اعتراض کیا ہو،یا گنتی پر معترض ہوا ہو۔

بھارت میں تو گنتی کا مرحلہ پولنگ کے تمام مراحل کی تکمیل کے بعد شروع ہوتا ہے،وہاں لوک سبھا کے انتخابات مرحلہ وار ہوتے ہیں اور ایک مرحلہ تقریباً چار یا پانچ ریاستوں پر محیط ہوتا ہے،غالباً چھ مراحل میں یہ سلسلہ مکمل ہوتا ہے اور اس میں کم و بیش ڈیڑھ ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔ اِس دوران جن ریاستوں میں پولنگ ہو جاتی ہے وہاں ووٹوں سے بھرے ہوئے بکس الیکشن کمیشن کی نگرانی میں گنتی کے مقام تک پہنچائے جاتے ہیں،پھر جب اطمینان سے گنتی شروع ہوتی ہے تو پورے مُلک کے بیلٹ باکس گنتی کے لئے ایک جگہ موجود ہوتے ہیں۔بے قاعدگیاں تو شاید وہاں بھی ہوتی ہوں گی،لیکن پورے انتخابی نظام اور گنتی پر کبھی کوئی بڑا اعتراض سامنے نہیں آیا، بھارت میں اب تک پندرہ الیکشن ہو چکے ہیں اور ہمارا نہیں خیال کہ کبھی کسی جماعت نے الیکشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہو۔الیکشن بھی برسر اقتدار حکومت ہی کراتی ہے، کوئی نگران وغیرہ نہیں ہوتے۔برسر اقتدار پارٹی الیکشن جیت بھی جاتی ہے اور ہار بھی جاتی ہے اور جو بھی صورت ہو اس کے مطابق حکمران اقتدار نئے آنے والوں کے سپرد کر کے اپنی اگلی ذمہ داریوں کی تیاری شروع کر دیتے ہیں،پھر وہاں ریاستی انتخابات لوک سبھا کے ساتھ منعقد کرانا ضروری نہیں سمجھا جاتا، ریاستی اسمبلیاں جب جب اور جیسے جیسے اپنی مدت کی تکمیل کرتی ہیں اُن کے انتخابات ہوتے رہتے ہیں اور ریاستی حکومتیں ٹوٹتی بنتی رہتی ہیں۔مرکزی حکومت سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا یہ بھی نہیں کہ پورے مُلک کی ریاستوں میں اسی جماعت کی حکومت ہو، جس جماعت کی حکومت مرکز میں ہے۔

اگرچہ پاکستان میں بھی وفاق اور صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں بننے لگی ہیں تاہم یہاں اب تک وفاقی اور صوبائی انتخابات ایک ساتھ ہی ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے پولنگ سٹاف کا کام بہت وقت طلب ہو جاتا ہے،پولنگ کا عملہ ایک روز پہلے انتخابی سازو سامان لے کر دور دراز کے پولنگ سٹیشنوں پر پہنچنے کے لئے تیاری کر لیتا ہے اور صبح آٹھ بجے پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہر کام کی تکمیل ضروری ہے،پھر ووٹنگ نان سٹاپ ہوتی ہے۔ سٹاف پر پابندی ہوتی ہے کہ وہ کسی امیدوار سے کھانا چائے وغیرہ قبول نہیں کر سکتا،لیکن عملاً یہ سب کچھ ہوتا ہے،امیدوار جہاں ووٹروں کے لئے باہر کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، وہاں پولنگ سٹاف کو بھی کھانا پہنچاتے ہیں، چائے وغیرہ کا اہتمام بھی ہوتا ہے،کیونکہ طویل گھنٹوں تک کام کرنے کے لئے یہ سب ضروری ہے،ایک گھنٹے کی توسیع کے بعد اب پولنگ چھ بجے مکمل ہو گی تو کئی گھنٹے گنتی پر صرف ہو جائیں گے،تمام سٹاف کو وہیں رہنا ہوتا ہے اور آدھی رات کے بعد (اور بعض صورتوں میں اگلے دن چڑھے تک) دستخط شدہ نتیجہ مجوزہ فارم پر امیدواروں کے ایجنٹوں کے حوالے کر کے وہاں سے رخصت ہونا پڑتا ہے۔

پولنگ کے دن سے پہلے شروع ہونے والا یہ وقت طلب اور اعصاب شکن کام بعض صورتوں میں چوبیس گھنٹوں تک پھیل جاتا ہے،بیس گھنٹے تو اوسط ہیں،اِس لئے جو حضرات رات بارہ بجے تک توسیع کا مطالبہ کر رہے تھے اُن کے پیش نظر یہ مشکلات نہیں تھیں یا انہوں نے سوچے سمجھے بغیر ہی یہ مطالبہ داغ دیا تھا،اب ایک گھنٹہ توسیع کا فیصلہ بھی پولنگ کی گنتی کے مراحل کی طوالت کا باعث بنے گا، بہتر ہوتا کہ یہ فیصلہ پہلے ہوتا، لیکن ہمارا مزاج یہ ہے کہ ہم فیصلے عجلت میں کرتے ہیں،حالانکہ الیکشن کمیشن مستقل ادارہ ہے، جو سال کے بارہ مہینے کام کرتا ہے،اس طرح کے فیصلے اگر سوچ بچار کے ساتھ پہلے ہو جائیں اور سب سٹیک ہولڈروں سے مشاورت بھی کر لی جائے تو کیا مضائقہ ہے؟ ویسے اوپر ہم نے امریکہ اور بھارت کی جو مثالیں درج کی ہیں، کیا اُن میں ہمارے لئے کوئی سبق پوشیدہ نہیں ہے، ہمارے الیکشن کمیشن کے پاس جب کبھی فرصت ہو وہ آئندہ کے لئے اس سے رہنمائی لینے میں اگر عار محسوس کرے تو بھی اس پر غور کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں،کامیاب افراد اور کامیاب ممالک کی مثالوں سے سبق سیکھ لینے میں آخر حرج ہی کیا ہے؟

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...