انتخابی امیدواروں کے لئے پی ایچ اے کا ضابطہ اخلاق

انتخابی امیدواروں کے لئے پی ایچ اے کا ضابطہ اخلاق

مُلک میں عام انتخابات کی گہما گہمی ہے۔پُرامن فضا میں الیکشن مہم چلانے کے لئے جہاں پاکستان الیکشن کمیشن کی طرف سے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو ضابطۂ اخلاق کا پابند بنایا گیا ہے وہاں تشہیری مہم کے حوالے سے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی(پی ایچ اے) نے بھی ایک ضابطۂ اخلاق جاری کیا ہے۔امیدوار تشہیری مہم کے دوران اس کی پابندی کریں گے۔ امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ دو فٹ ضرب تین فٹ کے پورٹریٹ آویزاں کر سکتے ہیں۔مختلف سڑکوں کو کیٹیگری کے حوالے سے تقسیم کر دیا گیا ہے۔اے، بی اور سی کیٹیگری کے لئے بالترتیب 500، 300 اور 200 روپے فیس رکھی گئی ہے۔بینرز کے لئے بھی یہی کیٹیگری ہو گی۔ تین فٹ ضرب9 فٹ بینرز کے لئے800 روپے،500 روپے اور200 روپے پیشگی ادا کرنا ہوں گے۔ پی ایچ اے کی طرف سے الیکشن امیدواروں کو تشہیری مہم میں نظم و ضبط کا پابند بنانے کی کوشش لائق تحسین ہے،کیونکہ اب تک امیدوار اپنے بجٹ کے مطابق ایک دوسرے سے بڑھ کر پورٹریٹ اور بینرز تیار کرواتے رہے ہیں۔اس حوالے سے سڑکوں،کھمبوں اور گرین ایریاز پر کوئی جگہ خالی نہیں ملا کرتی تھی، جس سے خوبصورتی متاثر ہوتی تھی۔ پی ایچ اے کا عملہ محنت سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ یہ اچھی کاوش ہے کہ امیدواروں کی بے ہنگم، بے ترتیب تشہیری مہم کو روکا جا سکے گا۔ پی ایچ اے کو فیس کی صورت میں خاصی رقم وصول کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ضرورت اِس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اور امیدوار اس ضابطۂ اخلاق کی سنجیدگی سے پابندی کریں۔پی ایچ اے کے اعلیٰ حکام کو چاہئے تھا کہ پاکستان الیکشن کمیشن سے اپنے ضابطۂ اخلاق کی منظوری حاصل کر کے تمام امیدواروں کو اس کا پابند بناتے۔تاہم اب بھی ایک اچھی کوشش کی حمایت پاکستان الیکشن کمیشن کی طرف سے ہو سکتی ہے۔امیدواروں اور ان کے حامیوں کے درمیان بڑھ چڑھ کر پورٹریٹ اور بینرز لگانے کے معاملے میں تصادم اور تلخی کے واقعات کم ہو جائیں گے۔انتخابی فضا کو پُرامن رکھنا ویسے بھی بے حد ضروری ہے۔اِس حوالے سے پاکستان ہارٹی کلچر اتھارٹی کا ضابطۂ اخلاق بھی اپنا کردار بہتر طور پر ادا کر سکتا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ