آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی تباہ کردی، منظور وٹو

آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی تباہ کردی، منظور وٹو
 آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی تباہ کردی، منظور وٹو

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

’’لو وہ بھی کہہ رہے ہیں، بے ننگ و نام ہے۔ یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں‘‘۔ دروغ برگر دن راوی جس نے لکھا کہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور سپیکر پنجاب اسمبلی میاں منظور وٹو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اب وہ جماعت نہیں رہی، اسے آصف علی زرداری نے تباہ کردیا ہے، یہ چونکا دینے والی بات ہے جو ہمارے لئے بہت ہی حیرت کا باعث ہے کہ سابق صدر مملکت تو اب تک پیار میں الجھے ہوئے ہیں اور ان کو گھر کے لٹنے کا بھی افسوس نہیں کہ وٹو خاندان کی ’’بے وفائی‘‘ کے باوجود وہ ان سے ’’توقع‘‘ رکھتے ہیں، اسی لئے تو حویلی لکھا والے اس حلقے سے ابھی تک پیپلز پارٹی کا کوئی امیدوار ہی نہیں ڈھونڈا جہاں سے میاں منظور وٹو قومی اسمبلی اور ان کے نیچے دونوں صوبائی نشستوں پر ان کے چھوٹے صاحبزادے اور صاحبزادی امیدوار ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ خود میاں منظور قومی اسمبلی کے لئے آزاد امیدوار اور ان کے بچے تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر ہیں، شاید وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں، ’’میں تو بے وفا نہیں‘‘ بچوں کی مرضی ہے، ان کو پابند نہیں کیا جاسکتا، یہ شاید اس وجہ سے ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی یہ بات کہی گئی تھی کہ میاں منظور وٹو کی تحریک انصاف سے بات ہوچکی اور وہ پیپلز پارٹی کو داغ مفارقت دیکر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ہیں، بات تھی آصف علی زرداری کے ’’صبر‘‘ کی کہ ان کی طرف سے ابھی تک کوئی رد عمل نہیں دیا گیا بلکہ میاں منظور وٹو کو پیپلز پارٹی کے مرکزی نائب صدر کے عہدہ سے بھی فارغ نہیں کیا، ممکن ہے کسی جیالے دل والے کو غصہ آئے اور وہ کچھ کہہ گزرے لیکن وٹو صاحب کا کیا بگڑے گا، ان کو پرواہ ہوتی تو ان کا ریکارڈ بہت روشن ہوتا۔

یہ تو چھیڑ خوباں سے چلی جائے والی بات ہے، ہمیں تو آج لوٹا ازم کا بھی ذکر کرنا ہے کہ ماشاء اللہ کاغذات نامزدگی واپس لئے جانے کے بعد ہی اندازہ ہوا ہے کہ ’’لوٹوں‘‘ نے کہاں کہاں ٹھکانے ڈھونڈے اور اب ان کو الیکٹ ایبل (جیت کے حامل) کہا جارہا ہے اور منظور وٹو بھی اپنے حلقے کے حوالے سے خود کو جیت کا حامل سمجھتے ہیں اور جن نشستوں پر خود صاحبزادی اور صاحبزادے سمیت امیدوار ہیں یہ ان کی آبائی نشستیں قرار پاتی ہیں وہ شاید پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی کی توقع نہیں کرتے تھے لیکن بھول گئے کہ انہوں نے کچھ دیر کردی ہے وہ آزاد ضرور ہوئے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کا ’’بھوت‘‘ کب ان کو چھوڑنے والا ہے، یہ سوال تو اٹھے گا کہ ’’کب کھلا تجھ پہ یہ راز، میرے آنے یا میرے جانے کے بعد‘‘۔

ہماری خواہش ہے کہ یہ جو حضرات طویل عرصہ سے پارٹیوں کے نام پر وفاداریاں تبدیل کرتے رہے ہیں، ان سب کو ثقہ ’’لوٹا‘‘ قرار دے دیا جائے اور ان کے انتخابی نشان کے لئے درجنوں لوٹوں پر مشتمل ایک نیا نشان تیار کیا جائے، یہ حضرات ’’کسی نہ کسی طرح‘‘ ایک حلقہ چن کر وہاں اپنی پوزیشن مستحکم کرتے ہیں، جو زیادہ تر برادری یا الطاف بھائی والی ترکیب سے ہوتی ہے اور یوں ان کو یقین ہوتا ہے کہ چالیس پینتالیس ہزار ووٹ تو ان کے اپنے ہیں، اگر ان کو کسی ابھرتی جماعت یا ہوا کے رخ پر اوپر چڑھتی پارٹی کا سہارا مل جائے تو وہ آسانی سے جیت جائیں گے اور ان کو ایسی جماعتیں بھی خوشی سے حاصل کرلیتی ہیں اور یوں یہ سلسلہ چلتا آرہا ہے اور ایک ایک فرد نے کئی کئی جماعتیں تبدیل کی ہیں اور پھر دعویٰ ہے کہ ہماری تو سرکاری پارٹی ہے ہم نے کبھی جماعت یا وفاداری تبدیل نہیں کی۔

بات تو میاں منظور احمد وٹو اور آصف علی زرداری سے شروع ہوئی تھی یہ سابق صدر مملکت ہیں جنہوں نے محترم منظور وٹو کو نہ صرف پیپلز پارٹی میں خوشی آمدید کہا بلکہ ان کو مرکزی پنجاب میں پارٹی کا صدر بھی بنایا اور کارکنوں کی پرواہ بھی نہ کی، متعدد راہنماؤں نے سمجھایا، مشورہ دیا کہ اعتبار نہ کرو، لیکن زرداری نہ مانے اور اپنی سی ہی کی، وسطی پنجاب کا صدر ہوتے ہی، محترم نے بلاول ہاؤس لاہور کے مرکز پر تادیدہ قبضہ کیا، حویلی لکھا سے ’’جیالے‘‘ برآمد کرکے نظم و نسق میں دخیل کئے، لاہور والوں اور پرانے جیالوں کو کھڈے لائن لگانے کی بھرپور سعی کی، پھر ایک دن وہ بھی تھا، جب بلاول بھٹو لاہور آئے تو بلاول ہاؤس بحریہ ٹاؤن کے دروازے لاہوریوں پر بند کردیئے گئے، گیٹ کے باہر احتجاج ہوا تو اندر موجود ڈاکٹر جہانگیر بدر (مرحوم) خود باہر آگئے اور انہوں نے زبردستی دروازے کھلوا کر لاہوریوں کو اندر بلایا، پھر پنڈال میں نعرہ بازی اور کچھ دھینگا مشتی بھی ہوگئی کہ نئے اور پرانے جیالوں کا مسئلہ تھا، جب تک میاں منظور وٹو رہے یہ کشمکش ہوتی رہی حتیٰ کہ پیپلز پارٹی والوں کو یہ بھی افسوس رہا کہ محترم صدروسطی پنجاب کی حیثیت سے پارٹی پالیسی کے خلاف بھی بات کر جاتے تھے، یہ کشمکش ان کا یہ عہدہ ختم ہونے پر ٹھنڈی پڑی کہ پنجاب میں پارٹی ابھر ہی نہیں رہی تھی، اس کے بعد جب تحریک انصاف کا دھرنا ہوا، شہرت ہوئی کہ نادیدہ قوتیں معاون ہیں تو بہت سے لالچ میں آئے اور چلتے بنے، ندیم افضل چن اور ان محترم کے حوالے سے بھی خبریں گرم رہیں، جبکہ قمر زمان کائرہ کو بھی لپیٹا گیا، تاہم وٹو صاحب صبر والے ہیں، ندیم افضل چن کا حوصلہ جب جواب دے گیا تو وہ خود کو روک نہ سکے کہ ان کے خاندان والے سبھی چلے گئے تھے،قمر زمان کائرہ ثابت قدم اور منظور وٹو موقع کے منتظر رہے کہ وہ ہمیشہ سے وقت پر چوٹ لگانے کے عادی ہیں، سپیکر شپ سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے تک بھی ’’ٹائمنگ‘‘ ہی کا مسئلہ تھا، ان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 18اراکین پنجاب اسمبلی کو لے کر وزیر اعلیٰ بن گئے تھے، بہر حال اب ان کے ارادے بالکل واضح ہیں وہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جیتا نہیں جاسکتا، بہر حال دیکھتے ہیں، آزاد امیدوار کی حیثیت سے پیپلز والے دور کا کیا حساب دیتے ہیں، وہ ماہر تو ہیں، کچھ نہ کچھ تو کہہ ہی لیں گے جیسے ان کے نزدیک اب پیپلز پارٹی ختم اور سہرا جناب آصف علی زرداری کے سر ہے۔

مزید : رائے /کالم