جاوید ہاشمی، تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے

جاوید ہاشمی، تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے
جاوید ہاشمی، تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جاوید ہاشمی کی زندگی میں یہ کیسا موڑ آگیا ہے، انہوں نے کبھی سوچا تھا، نہ اُن کے چاہنے والوں کو اس کی اُمید تھی، وہ خود کہتے تھے، میرے جیتے جی ایساوقت نہیں آئے گا کہ عام انتخابات ہوں اور جاوید ہاشمی اُن میں حصہ نہ لے۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے تک وہ اعلان کرتے رہے کہ اگر انہیں مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ نہ ملا، تب بھی وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں ضرور حصہ لیں گے۔ چند ماہ پہلے تک اُن کا بیانیہ یہ تھا کہ وہ صدر بننا چاہتے ہیں اور نہ وزیر اعظم، بلکہ صرف ایم این اے بننے کی خواہش رکھتے ہیں، تاکہ ملک کے سب سے بڑے جمہوری ایوان میں عوام کی ترجمانی کرسکیں، مگر آج یہ صورت حال ہے کہ انہوں نے خود اپنے کاغذات واپس لے لئے ہیں اور انتخابات سے دستبرداری کا اعلان کردیا ہے۔

وہ چودھری نثار علی خان کی طرح ٹکٹ نہ ملنے کا واویلا نہیں کررہے، نہ ہی بغاوت کرکے آزاد امیدوار بنے ہیں، بلکہ انہوں نے سر تسلیم خم کرکے خود کو ایک طرف کرلیا ہے۔

جب اُن کی اسلام آباد میں نواز شریف سے ملاقات ہوئی تھی، اُس کے چند دن بعد ملتان میں اُن سے ملاقات ہوئی، جس میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ میاں صاحب نے انہیں خود ٹکٹ کی پیش کش کی ہے کہ ہاشمی صاحب جس حلقے سے چاہیں انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، مسلم لیگ (ن) اُن کے ساتھ ہے، بعد ازاں ملتان میں بھی وہ یہی کہتے رہے کہ اُن کے لئے ٹکٹ کا مسئلہ نہیں، نواز شریف خودآفر دے چکے ہیں، مگر سب نے دیکھا کہ سیاست کی بے رحمی نے جاوید ہاشمی کی ساری اُمیدوں اور سارے دعوؤں پر پانی پھیر دیا۔

انہیں ٹکٹ نہ ملا، حالانکہ انہوں نے اس اُمید پر دو حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، اُن کی بجائے طارق رشید کو حلقہ 155کا ٹکٹ دے دیا گیا۔

اس حوالے سے اندر کی کہانی بھی زیرگردش ہے۔ کہا جارہا ہے کہ جاوید ہاشمی دو بھائیوں کی سیاست کا نشانہ بن گئے، جس طرح نواز شریف یہ نہیں چاہتے تھے کہ چودھری نثار علی خان کو پارٹی ٹکٹ دیا جائے، حتیٰ کہ انہوں نے آخر وقت پر مداخلت کرکے چودھری نثار علی خان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بھی نامزد کر دیئے، اُسی طرح شہباز شریف اور حمزہ شہباز، جاوید ہاشمی کے حق میں نہیں تھے۔

وہ چاہتے تھے کہ ملتان میں جو لوگ پارٹی کے ساتھ سردو گرم حالات میں کھڑے رہے ہیں، ٹکٹ اُن کا حق ہے۔ ایسے ہی ایک اُمیدوار طارق رشید ہیں، جنہوں نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر جاوید ہاشمی کو ٹکٹ دیا گیا تو ملتان کے مسلم لیگی اُن کی قطعاً حمایت نہیں کریں گے اور وہ بڑی شکست سے دو چار ہو جائیں گے۔ جاوید ہاشمی نے بہت کوشش کی کہ ملتان کے مسلم لیگی ورکروں کو رام کرسکیں، ایک دو جگہوں پر انہیں نوجوانوں کی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا،جس پر مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت نے ان کے حق میں ایک آواز بھی نہیں اٹھائی۔

جب چند ہفتے پہلے ملتان میں نوازشریف اور مریم نواز جلسہ کرنے آئے تو سٹیج پر نوازشریف نے انہیں بھرپور پذیرائی دی، ان کا ہاتھ فضا میں بلند کیا اور انہیں جمہوریت کا جانباز قرار دیا،ا یہی وہ موقع تھا، جب نوازشریف کو یہ اندازہ ہو گیا کہ پارٹی کی مقامی قیادت کے اندر جاوید ہاشمی کے لئے کیا جذبات ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نوازشریف نے جاوید ہاشمی کو جلسے میں گرم جوشی سے خوش آمدید ضرور کہا، تاہم یہ اعلان پھر بھی نہ کیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہیں مسلم لیگ (ن) کا حامی کہا گیا، انہیں پارٹی کارکن پھر بھی نہ بتایا گیا۔ شکر ہے جاوید ہاشمی نے اس بار اسے اسی طرح دل پر نہیں لیا، جیسے برسوں پہلے نوازشریف کی بے اعتنائی پر ڈپریشن کا شکار ہو کر فالج کی زد میں آ گئے تھے۔

کچھ لوگ جاوید ہاشمی کا موازنہ مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان سے کرتے ہیں اور اس موازنے کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ جس طرح نوابزادہ نصراللہ خان نے زندگی بھر جمہوریت کے لئے جدوجہد کی، اسی طرح جاوید ہاشمی بھی یہ کام کرتے رہے۔

اس کے لئے جیلیں بھی کاٹیں اور سختیاں بھی جھیلیں، لیکن مَیں اس موازنے کو نہیں مانتا۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے اپنی شخصیت کو ایک آزاد منش انسان کی حیثیت سے پروان چڑھایا۔ وہ اپنی جماعت بنا کر اس کی سربراہی کرتے رہے۔ انہیں تانگہ پارٹی کا سربراہ بھی کہا گیا اور یہ طعنہ بھی دیا گیا کہ وہ انتخابی سیاست میں کامیاب نہیں ہو سکتے، مگر انہوں نے کبھی اس کی پروا نہیں کی۔

اپنی ایک رکنی پارٹی کے ذریعے وہ خود کو ایک ایسے مقام پر لے گئے، جہاں بہت کم پاکستانی سیاستدان پہنچ سکے۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کرالیا کہ نہ انہیں خریدا جا سکتا ہے اور نہ کوئی آمر انہیں جھکا سکتا ہے۔ جاوید ہاشمی ہمیشہ کسی جماعت کے سائے تلے سیاست کرتے رہے۔ جماعت اسلامی، تحریک استقلال، ضیاء کی آمریت، نوازشریف، مسلم لیگ اور عمران خان کی تحریک انصاف ان کے مساکن رہے۔

اس دوران اُن کا سیاسی قد بڑھتا رہا۔ وہ ایک ایسا کردار بن گئے، جو آسانی سے کہیں نہیں سما سکتا۔ وہ بولتے تھے اور جس جماعت میں رہے، اس پر اپنا غلبہ بھی چاہتے تھے، مگر یہ کیسے ممکن تھا۔

وہ نوازشریف کی غیر موجودگی میں مسلم لیگ (ن) کو زندہ رکھنے کی جدوجہد کرتے رہے، مگر جونہی وہ واپس آئے انہیں پھر دیوار سے لگا دیا گیا۔ وہ تحریک انصاف کے صدر بنا دیئے گئے۔

یہ عمران خان کے بعد دوسرا بڑا عہدہ تھا، لیکن جاوید ہاشمی تو اس سے کچھ زیادہ چاہتے تھے، ان کی خواہش تھی کہ عمران خان ان کے اشاروں پر چلیں، بھلا ایسا کیسے ممکن ہے کہ آپ پارٹی کے بانی چیئرمین کو ہی اشاروں پر نچانے کے خبط میں مبتلا ہو جائیں۔

سو اسی خبط میں وہ تحریک انصاف کو اس وقت چھوڑ گئے، جب وہ اپنے عروج پر کھڑی تھی۔۔۔ یہ ایسا فیصلہ تھا، جس کے بعد جاوید ہاشمی سیاسی طور پر سنبھل نہ سکے، انہوں نے جس نشست سے استعفیٰ دیا، اُس پر ضمنی انتخاب بُری طرح ہار گئے، حالانکہ مسلم لیگ (ن) نے اُن کی مکمل حمایت کی تھی، اُس کے بعد اُن کا وہ دور شروع ہوا، جسے دورِ معلق کہا جاسکتا ہے۔

وہ کسی جماعت میں نہ رہے، مگر سیاست کرتے رہے، اُن کا جھکاؤ مسلم لیگ (ن) کی طرف ہوگیا، لیکن وہاں اب اُن کے لئے نرم گوشہ نہیں تھا۔

انہوں نے اپنی کتاب ’’زندہ تاریخ‘‘ میں صاف صاف بتا دیا کہ کون کون نہیں چاہتا کہ وہ مسلم لیگ (ن) میں واپس آئیں۔ نواز شریف کے گرد جتنے لوگ تھے، وہ سب جاوید ہاشمی کی واپسی کے مخالف تھے۔

سو یہ بیل مسلم لیگ (ن) کے حالیہ دورِ حکومت میں منڈھے نہ چڑھ سکی، اگر اس عرصے کے دوران جاوید ہاشمی کی شخصیت کے اُتار چڑھاؤ کو دیکھا جائے تو صاف لگتا ہے کہ وہ ہروقت نواز شریف کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا جتن کرتے رہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انہوں نے نواز شریف پر شدید تنقید کے نشتر برسائے۔ یہ سچے عاشق کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے محبوب کو متوجہ کرنے کے لئے ہر حربہ آزماتا ہے۔ جب نواز شریف پر تنقید سے کام نہ بنا تو وہ دوسری طرف آگئے، پھر جب نواز شریف کو پاناما کیس میں نااہل قرار دیا گیا تو گویا جاوید ہاشمی کی لاٹری نکل آئی، وہ مکمل طور پر نواز شریف کے بیانیہ کی حمایت میں آکھڑے ہوئے،حتیٰ کہ جوش جنوں میں اس حد تک آگے نکل گئے کہ شاید نواز شریف بھی اُن کی اس حالت مجذوبی پر پریشان ہوگئے ہوں گے۔

انہوں نے ججوں اور جرنیلوں پر تابڑ توڑ حملے گئے۔ ایک پریس کانفرنس تو ایسی کی جسے چینلوں نے نشر نہ کرنے ہی میں عافیت سمجھی، تاہم سوشل میڈیا پر سب نے دیکھا کہ جاوید ہاشمی حبِ نواز شریف میں کہاں سے کہاں چلے گئے ہیں۔ کیا عجیب صورت حال ہے کہ چودھری نثار علی خان نواز شریف کے بیانیہ کا ساتھ نہ دے کر مسلم لیگ (ن) سے غیر اعلانیہ طور پر نکال دیئے گئے اور جاوید ہاشمی نواز شریف کے بیانیہ میں حد سے گزر جانے پر ناقابلِ قبول ٹھہرے۔

چودھری نثار علی خان نے تو پھر بھی ہمت کی اور آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے رہے، لیکن جاوید ہاشمی غالباً ہمت ہار گئے، انہیں بڑی دیر بعد پتہ چلا کہ ’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ہیں‘‘۔۔۔ اب وہ ایک نیا بیانیہ سامنے لائے ہیں۔

اُن کا استدلال ہے کہ ضروری نہیں اسمبلی کا رکن بن کر سیاست کی جائے، سیاست دان آزاد رہ کر بھی قوم کی رہنمائی اور خدمت کرسکتاہے۔

ہم تو پہلے ہی جاوید ہاشمی کو ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ تم جیتو یا یارو ہمیں تم سے پیار ہے۔ سو اب کسی بھی وجہ سے وہ انتخابی سیاست سے باہر ہوگئے ہیں، ہمارے نزدیک اُن کی ہمت کم نہیں ہوئی، مگر ہم انہیں یہ مشورہ ضرور دیں گے کہ اپنے اندر بردباری اور تحمل کے جذبات کی لو کچھ زیادہ کریں، کیونکہ اس عمر میں انہیں مولا جٹ جیسی بڑھکیں زیب نہیں دیتیں۔

مزید : رائے /کالم