منظور احمد خان وٹو کی نئی سیاسی حکمت عملی کتنی کامیاب ہوگی ؟

منظور احمد خان وٹو کی نئی سیاسی حکمت عملی کتنی کامیاب ہوگی ؟
 منظور احمد خان وٹو کی نئی سیاسی حکمت عملی کتنی کامیاب ہوگی ؟

سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد خان وٹو کوملکی سیاسی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل رہاہے ۔وٹوصاحب کو جوڑتوڑ کی سیاست کا بادشاہ کہاجاتا ہے ماضی میں ان کے سیاسی داوپیچ خاصے کامیاب رہے ہیں اور اسی بناپر انہوں نے ایک مرتبہ صرف ڈیڑھ درجن امیدواروں کیساتھ وزارت اعلیٰ بھی حاصل کرلی تھی۔

حالیہ الیکشن میں میاں منظور احمد خان وٹوایک بار پھر بہت سرگرم ہیں اور پی ٹی آئی سے طویل مذاکرات کے بعد اپنے بیٹے میاں خرم جہانگیروٹواور بیٹی روبینہ شاہین وٹو کیلئے ٹکٹ حاصل کرچکے ہیں جبکہ وہ خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے۔

میاں خرم جہانگیروٹو پی پی 186،روبینہ شاہین وٹو پی پی 185سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور یہ دونوں حلقے این اے 146کے تحت آتے ہیں جہاں پر میاں صاحب خود آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔اس طرح این اے 146کا پینل وٹو فیملی پر مشتمل ہے۔

اس سے قبل میاں منظور احمدوٹو این اے 143سے بھی الیکشن لڑنے کا اعلان کرچکے تھے اور اس کیلئے انہوں نے اس حلقہ سے کاغذات نامزدگی بھی جمع کروا رکھے تھے۔تاہم اب انہوں نے این اے 143میں پی ٹی آئی کے امیدوار سیدگلزارسبطین شاہ کو سپورٹ کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے این اے 144میں ان کے مقابلے میںکوئی امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ کرکے میدان میاں منظور احمدخان وٹو کیلئے کھلا چھوڑدیا ہے۔جس کا صاف مطلب ہے کہ پی ٹی آئی اس حلقے میں میاں منظور احمد وٹو کو جتوانا چاہتی ہے ۔

میاں منظور احمدوٹو کے حامی اور پی ٹی آئی کو اقتدار میں دیکھنے کے خواہشمند وٹو خاندان کو ٹکٹ دینے کے فیصلے کوپسندیدگی کی نظرسے دیکھ رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے ان حلقوں میں پی ٹی آئی کے پاس کوئی مضبوط امیدوار نہیں تھا جو یہ سیٹیں نکال سکتا جبکہ میاں منظوروٹو سیاست کا ایک بڑا نام ہے جو اپنی ساکھ کی بدولت تمام سیٹیں باآسانی جیت جائیں گے۔

مگر دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی منظور وٹو کے مقابلے میں اپنے ایک امیدوار شہزاد نول کولا کھڑا کیا ہے اور یہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے ہی مقامی رہنماوں کا موڈ بھی کچھ اورہی نظر آرہاہے۔اور وہ ان حلقوں میں پارٹی پالیسی پر شدیدنالاں ہیں۔اس سلسلے میں ٹکٹ کے اجراءسے ایک رات قبل این اے 144،پی پی 185اور پی پی 186کے پی ٹی آئی رہنماوں نے ایک ہنگامی اجلاس سردار علی حیدروٹو کی رہائشگاہ پر منعقدکیا جس میں حلقہ پی پی 185اور پی پی 186کے امیدواروں جن میں سابق ایم پی اے دیوان اخلاق احمدوامیدوار پی پی 186،میاں ظفریٰسین وٹو،جاویداحمدمہار،صدرپی ٹی آئی تحصیل دیپالپورفیاض قاسم وٹو،سردارجاوید اقبال کوئیکاوٹو،میاں غلام رسول بازیدیکاوٹونے متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ ان حلقوں میں پی ٹی آئی کے امیدواروں میں کسی کو ٹکٹ دینے کی بجائے کسی پیراشوٹر کو سامنے لایا گیا تو ہم ہرگز اس کو سپورٹ نہیں کریں گے بلکہ ہم سب مل کر اس کو شکست دیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ گزشتہ گیارہ سال سے وابستہ انتہائی سرگرم رکن عمرمیواتی کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان تحریک انصاف کیلئے گیارہ سال دھکے کھائے ہیں،تشدد برداشت کیاہے الغرض ہرقسم کی قربانیاں دی ہیں مگر پارٹی نے ٹکٹ دیتے وقت ہم سے مشاورت کرنا بھی گوارا نہیں کیا اور اوپر سے ستم یہ کیا کہ ٹکٹیں ان لوگوں کو جاری کردی ہیں جو پی ٹی آئی کے ممبرز بھی نہیں ہیں۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے گیارہ سال انہی لوگوں کے خلاف ہی تو جدوجہد کی ہے جن کو اب ہم پر مسلط کیاجارہاہے جو ہم قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے بعدہم تو مذاق بن کر رہ گئے ہیں ۔

پی پی 186کی بات کی جائے تو اس میں حال ہی میں شامل ہونیوالی کوئے کی بہاول قانونگوئی کی وجہ سے میاں خرم جہانگیروٹو کی جیت کے امکانات خاصے روشن ہیں۔ یادرہے گزشتہ الیکشن میں اس علاقہ نے راو اجمل خان کی جیت میں اہم کردار اداکیا تھا مگر نئی حلقہ بندیوں کے بعد یہ علاقہ پی پی 186میں چلاگیا ہے جس کا فائدہ وٹو فیملی کو ہونے کا امکان ہے۔

پی پی 185میں میاں منظور وٹو کی صاحبزادی کا مقابلہ ن لیگ کے افتخارحسین چھچھر کیساتھ ہے ۔افتخار حسین چھچھر یہاں کے مقبول سیاستدان ہیں جنہوں نے عوام کیلئے بہت ترقیاتی کام کئے ہیں اگر روبینہ شاہین وٹو آزاد حیثیت میں یا پیپلزپارٹی کی طرف سے الیکشن لڑتیں تو کبھی نہ جیت سکتیں تاہم پی ٹی آئی ٹکٹ کی وجہ سے یہاں پر کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اوکاڑہ کے برج میاں منظور احمدخان وٹو کی الیکشن 2018ءکیلئے نئی حکمت عملی کہاں تک کامیاب ہوپاتی ہے۔

..

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...