جاگ اٹھی عوام

جاگ اٹھی عوام
جاگ اٹھی عوام

پاکستان میں جس طرح جمہوریت کا مطلب پانچ سال بعد الیکشن میں ایک بار ووٹ ڈال کر اپنے نمائندے منتخب کرنا ہے اسی طرح عوام کو بھی چونکہ پانچ سال بعد اپنے اس ممبر کا دیدار ہوتا ہے جو پانچ سال قبل انکے ووٹوں سے منتخب ہو کر خلائی مخلوق کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور ملائے نہیں ملتا۔ دکھائے نہیں دکھتا،اب کی بار جو عوامی رد عمل دیکھنے میں آرہا ہے گذشتہ انتخابات میں اسکا عشر عشیر بھی دیکھنے کو نہیں ملتا۔ شاید اسکی بڑی وجہ سوشل میڈیا کی مقبولیت اور باآسانی دستیابی ہے۔

ڈیرہ غازی خان کے سردار جعفر خان لغاری ہوں یا سندھ کے سلیم جان مزاری خورشید شاہ ہوں یا مراد علیشاہ۔ ڈاکٹر فاروق ستار ہوں یا شاہد خاقان عباسی ۔ عوام نے سب سے جواب طلب کرنا شروع کر دئیے ہیں۔بظاہر اس رد عمل میں افرادی قوت بہت زیادہ نظر نہیں آءمگر عوامی نمائندوں سے جواب طلبی کا یہ بیانیہ مشہور ہو رہا ہی اور ملک کے طول و عرض میں پھیلتا جا رہا ہے۔

المیہ یہ ہے کے جسطرح منتخب ہونے کے بعد امیدوار سلیمانی ٹوپی پہن کر غائب ہوجاتے ہیں اسی طرح انہیں ووٹ دے کر منتخب کرنے والے بھی اپنے مسائل کے ساتھ کسی زنبیل میں اتر جاتے ہیں اور پانچ سال بعد دونوں ایک دوسرے سے ملنے کے لئیے بے چین نظر آتے ہیں۔

ایک طرف منتخب امیدوار اسمبلیوں میں پہنچ کر عوام کے مسائل کے حل کے لئیے قانون سازی کرنے کے بجائے سطحی قسم کے مطالبات حل کرتے رہتے ہیں اور انفرادی طور پر نوکری۔ ٹھیکہ۔ ٹینڈر جیسے معاملات قابلِ ترجیح ہوتے ہیں جو کہ نہ ختم ہونے والی کرپشن کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔

دوسری طرف عوام الناس کا کردار بھی نو منتخب امیدوار کے اعزاز میں دعوتیں کرنے تک محدود رہتا ہے۔شاید ہی پاکستان میں کوئی ایک حلقہ ہو جہاں امیدوار اور عوام پر مشتمل کوئی ورکنگ کونسل بنی ہو۔جو ترقیاتی بجٹ پر نظر رکھ سے اور غیر ترقیاتی بجٹ کو محدود کر سکے۔گذشتہ بہت سارے بجٹ کی مثال آپکے سامنے ہے جس میں پنجاب یا سندھ سے منتخب ہونے والے امیدوار اپنے حلقہ کے لیئے منظور ہونے والی اسکیمیں لکی مروت اور مانسہرہ کے حلقوں میں ٹھیکیداروں کو بیچتے رہے اور ایک کروڑ کے بجٹ پر بیس لاکھ کھرے کرتے رہے۔ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیئے نہ ہی مرد و زن میں کوئی تفریق تھی نہ ہی سیاسی جماعتوں میں۔

کیا عام شخص کے علم میں ہے کے اسکے منتخب کردہ امیدوار کو فنڈز کس طرح ملتے ہیں یا اسے خرچ کرنے کا طریقہ کار کیا ہے اور اس عمل سے حلقہ کے عوام کو کیا فوائد حاصل ہونگے۔ کامل یقین ہے کے پچانوے فیصد عوام ان تمام معاملات سے سرے سے نابلد ہیں یا انکی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہر قومی یا صوبائی حلقے میں ایک ووٹرز ایکشن کمیٹی بنائی جا سکتی ہے جس میں ٹیکنیکل افراد بھی ہوں، اقتصادیات سمجھنے والے بھی ہو۔ سوشل ورکر بھی ہو ڈاکٹر بھی ہو انجینئر، صحافی ،غرض کہ تیس چالیس ایسے افراد جو اپنے شعبہ جات میں ماہر ہوں کیا وہ اپنے حلقے کے مسائل حل کرنے کے لئیے اس کمیٹی کا حصہ نہیں بنیں گے ؟؟کون نہیں چاہے گا کہ اسکی بنیادی ضروریات اسکے گھر کی دہلیز پر حل ہوجائیں۔

پانچ سال بعد منتخب نمائندوں کی جواب طلبی کرنے۔ موبائل سے اسکی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے بہتر ہے کہ امیدوار اور اسکے ووٹر پہلے دن سے اپنے مسائل کے حل کے مشترکہ حکمت عملی بنائیں اور دوسروں کے لئیے بھی روشن مثال بن جائیں۔اگر احتساب کا تصور روز اوّل سے نہ اپنایا گیا دونوں فریق کو ایک دوسرے کی زیارت پانچ سال بعد ہی نصیب ہوا کرے گی۔

عوام نے پہلی بار جو رد عمل دیا ہے وہ خوش آئند ہے۔ شاید اس سے سیاسی جماعتوں کو بھی سیکھنے کو ملے اور وہ اپنے ممبران کو بھی پابند کریں کہ عوام سے گراس روٹ لیول تک رابطہ رکھا جائے۔ ہفتے میں ایک بار بھی اگر منتخب نمائندے انتظامیہ کے ساتھ مل کر کسی ایک یونین کونسل میں کھلی کچہری کا انعقاد کر لیں یا کسی سمینار کا اہتمام ہوجائے تو یہ پیش رفت ایک دوسرے پر جہاں اعتماد کا مظہر ہوگی وہیں دوسری طرف عوام کے بنیادی مسائل کے حل کی طرف بڑا قدم ثابت ہوگی۔

..

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...