میں ایسا نہیں ہونے دوں گا

میں ایسا نہیں ہونے دوں گا
میں ایسا نہیں ہونے دوں گا

جب ادارے انتخابات سے قبل نون لیگ کے خلاف صف آرا ہیں تو انتخابات کے دن کیا حشر بپا ہوگا؟ نواز شریف کی نااہلی کے بعد حلقہ 120 میں ضمنی انتخاب کے دن جو کچھ ہوا تھا اس سے ہمارے اداروں کا دامن آج تک آلودہ ہے ۔

ہمارے ہاں اداروں کی اجارہ داری نے سیاستدانوں کو دو ٹکے کا کر رکھا ہے ۔ اداروں کی اجارہ داری کو اسٹیبلشمنٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ملکی سیاست پر حاوی ہے مگر اسٹیبلشمنٹ کو راستہ اس لئے مل رہا ہے کہ عوام کی ایک بڑی اقلیت ان اقدامات پر معنی خیز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔

اداروں کا سیاست میں استعمال اور عوام کی معنی خیز خاموشی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں جمہوریت کمزور ہے اور آمریت مضبوط نظر آتی ہے ۔ اگر اسی کا نام جمہوریت ہے تو یہ بدترین آمریت سے بھی بدتر ہے کہ معلوم ہی نہیں کہ کس کا حکم چل رہا ہے ،قوم کا باپ کون ہے!

اسی لئے ان دنوں جو کوئی ملکی سیاست کے بارے میں پوچھتا ہے ہم اسے منیر نیازی کے تین اشعار سنا دیتے ہیں کہ!

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا

عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد

پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا

شہر کو برباد کرکے رکھ دیا اس نے منیر

شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اس نے کیا

میری عملی زندگی کا آغاز 1990کی دہائی میں ہوا تھا ۔ بہت بعد میں جب معلوم ہوا کہ اکانومسٹ پاکستان میں 90کی دہائی کو گمشدہ دہائی یعنی Lost Decade سے تعبیر کرتے ہیں تو یوں لگا جیسے میراتعلق پاکستان کی ایک گمشدہ نسل سے ہے ۔ دیکھا جائے تو اس میں شک بھی نہیں ہے کہ تب ملک میں میرٹ کا جنازہ نکل چکا تھا ، ہر طرف پرچی چلتی تھی ، لوگ منشیات فروشی، اسلحہ فروشی اور زمینوں پر قبضے کے کاروبار کے طفیل راتوں رات امیر بن رہے تھے ، نئے نئے اخبارات جنم لے رہے تھے اور نئی طرح کے ایڈیٹر صاحبان پیدا ہو رہے تھے ، ایسے میں ہم نوائے وقت میں ان گنت ناموں میں سے ایک تھے جن کو عرف عام میں چار ہزاریے کہا جاتا تھا اور مرحوم مجید نظامی کو فخر ہوتا تھا کہ انہوں نے صحافت کی نرسری لگارکھی ہے ۔

وکالت کی تعلیم مکمل ہوئی تو 1997میں نوائے وقت سے استعفیٰ دے دیا کہ پریکٹس کریں گے ۔ اس پر ہر عاقل بالغ حیران پریشان رہ گیا کہ یہ ہم نے کیا کیاکہ سرکاری نوکری جیسی نوائے وقت کی نوکری چھوڑ دی مگر مجھ میں دھن سمائی تھی کہ وکالت کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہے ۔

مگر شومئی قسمت کہ صحافت میرا پیچھا کرتے کرتے کوچہ وکالت میں بھی آگئی اور وکالت میں میرے استاد جناب ڈاکٹر اے باسط عرف باسط مشیر نے اپنا نام علامہ عین باسط مقرر کیا اور’مہم برائے اسامہ بن لادن خلیفہ اول پاکستان ‘کا اعلان کردیا جبکہ مجھے اپنا سیکرٹری مقرر کرلیا، میں سوچتا تھا کہ میں نمازیں بخشوانے آیا تھا اور یہاں تو روزے بھی گلے پڑگئے ۔

خیر اسامہ بن لادن کو خلیفہ اول پاکستان کیا بنتے ، کچھ عرصے بعد میں برادرم رؤف طاہر کی قیادت میں سعودی عرب میں اردو میگزین نکالنے کے لئے روانہ ہو گیا کیونکہ وکالت میں میرے استاد محترم کا کہنا تھا کہ وکالت تو آکر بھی کرلو گے، ریال کمانے کا موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔

آج پیچھے مڑکر دیکھتا ہوں تو مجھ ایسے گمشدہ دہائی کے نسل سے تعلق رکھنے والے پکی عمر کے نوجوان دانشور اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچ کر گھبراجاتے ہیں کہ اگر انہیں بھی ہماری طرح ایک اور دس سال کا مارشل لاء دیکھنا پڑا تو کیا ان کا حال بھی ہم جیسا نہ ہوگا کہ کچھ عشق کیا کچھ کام کیا، تھک ہار کے آخر دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ خدارا پاکستان کے ساتھ کھیل کھیلنا بند کردے یا پھر بتادے کہ ہم اپنے بچوں کیلئے کینیڈا کی شہریت اپلائی کردیں تاکہ ان کی زندگی کچھ ترتیب پا سکے ۔ اگر اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ میرے بچے بھی وہی چکی پیسیں جو میں پیستا رہا ہو ں تو میں ایسا نہیں ہونے دوں گا، میں اپنے بچوں کو ایک اور گمشدہ دہائی کی نسل نہیں بننے دوں گا!

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...