تیرا ابا آنڈے دیندا سی؟؟؟

تیرا ابا آنڈے دیندا سی؟؟؟
تیرا ابا آنڈے دیندا سی؟؟؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کہے دیتا ہوں اس بار الیکشن سیاسی جماعتوں کے بجائے آزاد امیدواروں کے درمیان ہوگا، بلکہ اگر کہوں یہ الیکشن سیاسی جماعتیں بمقابلہ آزاد امیدوار ہے تو غلط نہ ہوگا۔ بس ڈر یہ ہے کہ الیکشن کے بعد لوٹوں کی قیمت مزید بڑھ جائے گی۔

وہ تو خیر الیکشن سے پہلے بھی مان نہیں تھے۔ الیکشن کے بعد مسلم شاور کی کوئی حقیقت نہیں رہے گی۔

دعا یہ ہے کہ الیکشن کے بعد کوئی آزاد حکومت نہ بن جائے۔ خیر ہماری دعا سے زیادہ اس کی فکر اداروں کو ہونی چاہئے۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ اگر آزادوں کی بڑی تعداد اسمبلیوں میں پہنچ گئی تو ہمارے قائد جمہوریت اور قائد عوام ثانی آصف زرداری کی پوں باراں ہو جائے گی۔ جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ زرداری صاحب کے پاس تین کانے ہیں، غلط سمجھ رہے ہیں۔ لڈو چاہے سیاسی ہو، کپتان اگر تین چھکے ایک ساتھ ماریں گے تو تینوں سڑ جائیں گے، اور ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ جس طرح وہ کریز سے باہر نکل نکل کر کھیل رہے ہیں، کہیں کسی گگلی پر سٹمپ نہ ہو جائیں، کیونکہ وہ کریز سے اتنا باہر نکل کر کھیل رہے ہیں کہ ایمپائر بھی انہیں ناٹ آؤٹ قرار نہیں دے سکے گا۔ ویسے بھی لڈو میں ہم نے ننانوے پر پہنچ کر سانپ سے ڈسوا کر زیرو پر آتے دیکھا ہے۔ لہٰذا سانپ اور سیڑھی کا قصہ وہی رہے گا بس کہانی میں تھوڑا سا ٹوئسٹ ضرور آئے گا۔

تماشا پسند قوم اس جمہوری عمل میں ایسے ہی شریک ہوگی جیسے ویاہوں میں بن بلائے باراتی۔ سنتا سنگھ بولا میری فیملی میری شادی نہیں ہونے دیتی۔ بنتا بولا، فیملی میں کون کون ہے۔

سنتا سنگھ بولا میرے بچے تے میری بڈی۔ بھیا ایسے گھر والے بھلا کیوں اجازت دینگے، یہ کوئی پاکستانی قوم نما مخلوق تھوڑی ہے جو ہر بار سنتوں اور بنتوں کو نیا ویاہ کھڑکانے کی اجازت دے دے۔

کہتے ہیں الیکشن سے بہتر سیاستدانوں کا کوئی احتساب نہیں، لیکن افسوس بلکہ صد افسوس یہ ماڑی مخلوق اس حد تک یرغمال ہے کہ اس کے پاس احتساب کی آپشن ہی نہیں اور ہر الیکشن پر ایک ہی آواز آتی ہے، آپ کو مطلوبہ سہولت میسر نہیں۔ کہیں ایک آدھا نیم ہوش مند اٹھ کر آنے والوں سے سوال کرلیتا ہے کہ پانچ سال کہاں رہے۔ کاش ہمارے ہاتھوں میں دم اور زبانوں میں طاقت ہوتی تو اتنی بدترین کارکردگی کے بعد کسی امیدوار کی مجال نہ ہوتی کہ حلقے میں آکر ووٹ مانگتا۔ ہم تو ایسے ہولے دل والے لوگ ہیں کہ رمضان کے آخری عشرے میں گھر آنے والے اجنبی چہروں کو بھی خیرات دے دیتے ہیں، جنہوں نے پورے رمضان ایک بار بھی ڈھول پیٹ کر سحری کے وقت نہیں جگایا ہوتا، یہ تو پھر پراڈوز، پیجارو اور مہنگی گاڑیوں میں آنے والے اپنے اجنبی ہوتے ہیں۔

ہاں الیکشن کے بعد سریا بہت سستا ہو جائے گا، کیونکہ بہت سی گردنوں سے نکلنے والا سریا مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔ جس طرح سیاسی جماعتوں کی ٹکٹیں واپس کرکے آزاد الیکشن لڑنے کی روایت چل پڑی ہے، اس سے تو لگتا ہے کہ جمہوریت اور انتخابات نے سیاسی جماعتوں اور جماعتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پنٹو بولا اماں آپ تو کہتی تھیں پری اڑتی ہے، لیکن ساتھ والی آنٹی تو اڑتی نہیں۔ پنٹو کی اماں بولی بیٹا کیونکہ وہ پری نہیں ہے۔ پنٹو بولا پھر ابا انہیں پری کیوں کہتے ہیں۔ اماں بولیں پترا فیر اج تیرا ابا وی اڈے گا۔ کاش ہم بھی ان سیاسی ابوؤں کو اڑا سکتے جو ہماری معیشت، ریاست اور سماجت کو گھن کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ پٹرول مزید مہنگا ہونے جا رہا ہے اور گاتا پھر رہا ہے۔ ’’میں اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال‘‘ ڈالر ہمارے ان کہن بچوں کی طرح قابو میں نہیں آرہا۔ بجلی ’’کی دم دا بھروسہ یار دم آوے نہ آوے‘‘ بن کے رہ گئی ہے۔ پانی کا بحران ہمارے سامنے غوطے لگاتا پھر رہا ہے اور ہمیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے، گالیاں دینے اور چور چور کہنے سے فرصت نہیں۔ جمدیاں سو لاں دے منہ تکھے ہوندے نیں۔ یہ جمدی جمہوریت کا منہ تو ابھی سے تیکھا نظر آرہا ہے، جو چونسے ہم نے پچھلی جمہورتیوں میں چوپے ہیں اس بار بھی چوپ لیں گے۔ ساڈا کی اے بس اللہ ہی اللہ۔

ہمارے سابق خادم اعلیٰ نے کراچی میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا، جب عمران خان اور آصف علی زرداری پنجاب کا رخ کر رہے تھے تو وہ کراچی پہنچ گئے، بلکہ انہوں نے اعلان کیا کہ اب وہ کراچی سے نہیں جائیں گے۔ ہمیں بھی خوشی ہوئی کہ چلیں اب وہاں بھی 56 کمپنیاں بنیں گی۔ کراچی والے بھی دودھ کی نہروں میں ڈبکیاں لگائیں گے۔ صاف پانی پئیں گے بھی اور اشنان بھی کریں گے۔ لاہورئیے وکھرے خوش تھے کہ اب چھوٹے بھیا وہیں رہیں گے، لیکن خوشیاں تو بس چند لمحوں کیلئے ہوتی ہیں، پتہ نئیں کس نے چھوٹے بھیا کو پان پر جگت مارنے کو کہہ دیا، حالانکہ انہوں نے اتنی پرسوز آواز میں احمد رشدی مرحوم کا پلانٹڈ گانا بھی گایا۔ چھوٹے بھیا کو کیا پتہ تھا کہ پان کراچی والوں کیلئے کتنا قابل احترام ہے، حالانکہ لاہورئیے جتنا بیڑہ کھاتے ہیں، اس کی کراچی میں چار گلوریاں بن جائیں۔ بنتو سے سنتا نے پوچھا آپ فیس بک استعمال کرتے ہیں، وہ بولی میں تے اونج ای گوری آں، مینوں کی لوڑ۔ کراچی والے شہباز شریف کی بات نہیں سمجھے تو اس میں انکا اپنا قصور ہے۔ وہ بے چارے ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفی کمال اور عارف علوی کی پھسپھسی کامیڈیاں دیکھ دیکھ کر لاہوری جگت سے ناآشنا ہوچکے ہیں۔

الیکشن کا جو رزلٹ آئے گا، ہم پہلے اس کا غیر سرکاری نتیجہ سنا چکے۔ بچہ بولا، ابا کیا آپ کے ابا بھی آپ کو مارتے تھے، وہ بولا ہاں پھر اس نے کہا کہ دادا کے ابا بھی انہیں مارتے تھے، سنتا بولا آہو۔ پنٹو بولا ابا ایہہ بدمعاشی کد تک چلے گی۔ بھیا 1947ء سے یہی بدمعاشی چل رہی ہے۔ پنٹو پٹ رہا ہے اور پٹتا رہے گا۔ اس کے پاس اور کوئی آپشن ہے ہی نہیں۔ بریانی کی پلیٹوں، قیمے والے نانوں، جھوٹے خوابوں پر خوش ہونے والوں کے مقدر میں پٹائی ہی پٹائی ہے۔ وہ اس پر ہی قناعت کریں، یہی غنیمت ہے۔ سنتا سنگھ کی ککڑی مر گئی، بنتا سنگھ تسلی دیتے ہوئے بولا تم جتنا رو رہے ہو اتنا تو میں اپنے ابے کے مرنے پر نہیں رویا۔ سنتا سنگھ بولا تیرا ابا آنڈے دیندا سی؟ جو لوگ اس بار اسمبلیوں میں نہیں پہنچ سکیں گے، میں ان کے غم میں برابر کا شریک ہوں، اس بار آنڈے دینے والی ککڑی کسی اور کے ہاتھ ہوگی۔ وہ اس ککڑی کو گالیاں بھی دیں گے، کرپٹ بھی کہیں گے اور آنڈے بھی کھائیں گے۔

مزید : رائے /کالم