تصادم کوئی حل نہیں ، سٹیک ہولڈرز اپنی ذات سے بالا تر ہوکر قومی مفاد کا سوچین ، شہباز شریف

تصادم کوئی حل نہیں ، سٹیک ہولڈرز اپنی ذات سے بالا تر ہوکر قومی مفاد کا سوچین ، ...

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)مسلم لیگ(ن)کے صدر میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام اہم معاملات پرسب کا بیانیہ ایک ہونا چاہئے، تصادم کوئی حل نہیں لہٰذا تمام سٹیک ہولڈرز کومل کر ذاتی مفاد سے با لا تر ہو کر قومی مفاد کیلئے سوچنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔میاں شہبازشریف نے کہاہے کہ چودھری نثار علی خان کو ٹکٹ دینے کیلئے نوازشریف سے ذاتی طور پر درخواست کی تھی جو انہوں نے مان لی تھی لیکن دونوں طرف سے بیان بازی کی وجہ سے یہ فیصلہ قائم نہ رہ سکا ۔شہبازشریف نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے مجھے وزارت عظمیٰ کیلئے چنا گیا ہے، نوازشریف نے میری بطور وزیراعظم نامزدگی کی توثیق کی تھی اوراگر انتخابات جیت گئے تو میں وزیراعظم بنوں گا۔چودھری نثار سے متعلق سوال پر شہبازشریف نے کہاکہ چودھری نثار مسلم لیگ(ن) کے تاحیات قائدنوازشریف کے سب سے دیرینہ سیاسی رفیق اور دوست رہے، ان کی دوستی کا عینی شاہد ہوں، میرا بھی چودھری نثار کے ساتھ برادرانہ تعلق تھا، کاش یہ تعلق قائم رہتا۔شہبازشریف نے کہاکہ مجھے افسوس ہے کہ چودھری نثار کے ساتھ دوریاں پیدا ہوگئیں، ہمیں ان دوریوں میں مزید خلیج آنے سے بچانا چاہیے، ان سے تعلقات میں ناکامی کی مثال ملک کیلئے دینا صحیح نہیں۔انہوں نے کہا کہ چودھری نثار کے ساتھ تعلق کیلئے نیک نیتی سے آخری وقت تک کوشش کی، نوازشریف کے لندن جانے سے پہلے چودھری نثار کو ٹکٹ دینے کیلئے قائل کرلیا تھا لیکن انہوں نے ٹکٹ کیلئے اپلائی کیانہ پارٹی بورڈ نے ان کے نام پر غور کیا، میں نے نوازشریف سے ذاتی حیثیت میں چودھری نثار کو ٹکٹ دینے کی درخواست کی تھی۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ نوازشریف نے میری بات کو اصولی طور پر مان لیا جس پر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی، نوازشریف نے کہاکہ کل تین،چار لوگوں کو بلا کر اس کا حتمی فیصلہ کرلیتے ہیں لیکن دونوں جانب سے بیان بازی کی وجہ سے فیصلہ قائم نہ رہ سکا۔انہوں نے کہا کہ انسان کو کبھی مایوس نہیں ہوناچاہیے اور امید رکھنی چاہیے، مگر ہر چیز کی حد ہوتی ہے اور چودھری نثار سے تعلق کا تقاضہ یہ ہے کہ زندگی بھر اس پر بات نہیں کروں گا۔ریحام خان سے متعلق سوال پر شہبازشریف ان سے رابطوں کے تمام الزامات مسترد کردیئے۔انہوں نے کہا کہ زندگی میں صرف ایک بار ریحام خان سے ملا، اس کے بعد ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، اگر ریحام کی کتاب لکھوانے کے پیچھے میری سپورٹ ثابت ہو جائے یا اگر میں نے ایک دھیلہ بھی بلواسطہ یا بلاواسطہ خرچ کیا ہوتو میں ذمہ دار ہوں۔(ن) لیگ کے صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مجھ پر کرپشن کے کئی الزامات لگائے لیکن ثابت ایک بھی نہ کرسکے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...