مائیکرو فنانس بینک سے چھوٹے قرضوں کی واپسی کیلئے بینکنگ کورٹ کے ذریعے کارروائیاں غیر قانونی قرار

مائیکرو فنانس بینک سے چھوٹے قرضوں کی واپسی کیلئے بینکنگ کورٹ کے ذریعے ...

لاہور( نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے مائیکرو فنانس بینک سے چھوٹے قرضے لینے والوں سے قرضوں کی واپسی کے لئے ان کے خلاف مقدمات کا اندراج ، تحصیلداروں، پٹواریوں اور بینکنگ کورٹ کے ذریعے کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔مسٹر جسٹس جواد حسن نے یہ حکم محمد توصیف سمیت متعدد شہریوں کی درخواستوں پر جاری کیا ۔درخواست گزاروں نے مائیکرو فنانس بینک کی جانب سے قرض وصولی کے لئے تحصیلدارو ں اور پٹواریوں کے ذریعے ہراساں کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا تھا ، درخواست گزاروں کی جانب سے استدعا کی گئی کہ بینک کو تحصیلدار اور پٹواریوں کو ذریعے درخواست گزاروں کوہراساں کرنے سے روکا جائے ۔مائیکرو فنانس بینک کی جانب سے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بروقت قرض نہ دینے والے نادہندہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کررہے ہیں۔عدالت نے دونوں فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مائیکرو فنانس بینک انسٹیٹیویشن آر ڈیننس کے تحت قائم ہونے والے مالیاتی ادارے بینکوں میں شمار نہیں ہوتے اس لئے مائیکرو فنانسنگ کو بینک تصور نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مائیکرو فنانس بینک سے لئے گئے قرضے بینکنگ کمپنیز آرڈیننس کے تحت وصول نہیں کئے جاسکتے جس کا مطلب ہے کہ مائیکرو فنانس بینک بینکنگ کورٹ میں بھی ریکوری کے دعوے دائر نہیں کر سکتا ۔جسٹس جواد حسن نے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مائیکرو فنانس بینک سے حاصل کئے گئے قرضوں کی وصولی کے لئے تحصیلدار، پٹواری اوربینکنگ کورٹس سے رجوع نہیں کیا جا سکتا ۔ مائیکرو فنانس بینک ان قرضوں کی ریکور ی کے لئے صرف سول عدالتوں میں دعوے دائر کر سکتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر